کراچی پورٹ پر بلک ہینڈلنگ چارجز میں 200 فیصد اضافہ

بزنس رپورٹر  منگل 27 فروری 2024
درآمد و برآمد کنندگان کا اضافے پر تحفظات کا اظہار، کاروباری لاگت میں اضافہ ہو گا، عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ (فوٹو: فائل)

درآمد و برآمد کنندگان کا اضافے پر تحفظات کا اظہار، کاروباری لاگت میں اضافہ ہو گا، عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ (فوٹو: فائل)

کراچی: کراچی کی بندرگاہ پر برتھیں لیز پر لینے والے متحدہ عرب امارات (یواے ای) کے آپریٹر نے پورٹ پر بلک ہینڈلنگ چارجز میں 200 فیصد اضافہ کردیا جب کہ فی میٹرک ٹن چارجز 150 روپے سے بڑھا کر 480 روپے فی میٹرک ٹن مقرر کر دیے۔

درآمد و برآمد کنندگان نے اضافے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے کاروباری لاگت میں اضافے کا سبب قرار دے دیا۔ پورٹ چارجز بڑھائے جانے پر تاجروں کا ہنگامی اجلاس ایف پی سی سی آئی میں منعقد ہوا، جس میں گیٹ وے ٹرمینل کے سی ای او اور ایف پی سی سی آئی کے اراکین نے شرکت کی، اس موقع پر سیمنٹ، اسٹیل، فرٹیلائزر سیکٹر کے نمائندوں نے پورٹ چارجز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

انڈسٹری نمائندوں کا کہنا تھا کہ اضافہ بغیر کسی ریگولیٹری منظوری کے یکدم کیا گیا جس سے تجارتی لاگت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا، مقامی صنعت پہلے ہی مہنگی بجلی، گیس اور بلند شرح سود کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں ٹرمینل آپریٹر کی جانب سے چارجز میں اضافہ انڈسٹری کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔

ٹرمینل آپریٹر کی نمائندگی کرنے والے ابوظہبی پورٹ کے نمائندے کا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ کی برتھوں کی گہرائی بڑھانے اور گنجائش میں اضافے کے لیے 75 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے، پورٹ کا ریونیو بڑھائے بغیر ترقیاتی منصوبہ آگے بڑھانا مشکل ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر ثاقب نثار مگوں نے کہا کہ پورٹ چارجز میں اضافہ مسترد کرتے ہیں ضرورت پڑی تو عدالت سے رجوع کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔