نیوزی لینڈ میں تمباکو پر پابندی کا قانون منسوخ

 منگل 27 فروری 2024
حکام کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ قوانین پر سختی ہوگی—فائل: فوٹو

حکام کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ قوانین پر سختی ہوگی—فائل: فوٹو

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی حکومت نے تمباکو کی نئی نسل کو فروخت پر پابندی کا پہلا قانون واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ محقیقین اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں اموات بھی ہوسکتی ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی حکومت کی جانب سے تمباکو پر پابندی کے حوالے سے قانون کا اطلاق جولائی میں کیا جائے گا اور تمباکو پر پابندی کے سخت ترین قوانین کے تحت یکم جنوری 2009 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو فروخت پر پابندی تھی۔

قانون کے تحت سگریٹ نوشی میں نیکوٹین کی تعداد کم کرنے اور ملک میں تمباکو فروخت کرنے والے کی تعداد 90 یا اس سے زیادہ کم کی جائے گی۔

نیوزی لینڈ میں اکتوبر 2023 میں منتخب ہونے والی حکومت نے تصدیق کردی ہے کہ قانون میں تبدیلی ہنگامی بنیاد پر آج (منگل) ہوگی اور سابق قانون عوامی رائے لیے بغیر ختم ہوجائے گا۔

نائب وزیر صحت کیسے کوسٹیلو نے کہا کہ اتحادی حکومت سگریٹ نوشی کم کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن اس عادت کی حوصلہ شکنی کے لیے مختلف قانونی طریقہ اپنایا جا رہا ہے اور اس کے نقصانات کم کیے جائیں گے۔

کوسٹیلو نے کہا کہ میں جلد ہی کابینہ سے ایسے اقدامات کی منظوری لوں گا جس سے لوگوں کو سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لیے مددگار وسائل میں اضافہ کردیا جائے گا اور نوجوانوں کو تمباکو سے دور رکھنے کے لیے قوانین مزید سخت کیے جائیں گے۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ میں اس متوقع فیصلے پر اس لیے تنقید کی گئی تھی کہ عوام کی صحت پر اثر پڑے گا اور خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ مایور اور پیسیفیکا کی آبادی پر بدترین اثرات پڑیں گے جہاں پر سگریٹ نوشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔

دوسری جانب اوٹاگو یونیورسٹی کے محقق جینیٹ ہوئیک نے کہا تھا کہ قانون سازی جامع تحقیقی شواہد کے باوجود کی گئی ہے اور مایوری کی قیادت کی جانب سے اقدامات کی مخالفت کی گئی تھی اور اس سے صحت پر بداثرات ہوں گے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔