راوی بچاؤ تحریک کے تحت واک کا انعقاد

آصف محمود  منگل 27 فروری 2024
فوٹو: ایکسپریس

فوٹو: ایکسپریس

 لاہور: راوی بچاؤ تحریک کے تحت استنبول چوک سے دریائے راوی تک واک کی گئی جبکہ دوسری طرف بھارتی پنجاب میں عالمی پنجابی سنگت نے دریائے ستلج کے کنارے ایسا ہی منفرد احتجاج کیا۔ 

راوی بچاؤ تحریک کے تحت استنبول چوک سے دریائے راوی تک واک کی گئی جس میں ماحولیات کے ماہرین، کارکنان فن کاروں  کے علاوہ پہلی بار ہندوستان سے آئے ہوئے مہمان بھی شریک ہوئے۔

ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور سول سوسائٹی نے اس واک کو “راوی یاترا” کا نام دیا جس میں پہلی بار ہندوستان سے آئے ہوئے مہمان بھی شریک ہوئے۔ پاکستان میں پہلی بار راوی کو بچانے کے لیے پاکستان اور انڈیا کے شہریوں نے مشترکہ احتجاج کیا ہے۔

ravi-bachao-2

دوسری طرف بھارتی پنجاب میں عالمی پنجابی سنگت نے دریائے ستلج کے کنارے ایسا ہی منفرد احتجاج کیا ۔ ایک ہی  وقت میں دونوں مشرقی اورمغربی پنجاب میں ہونے والے اس احتجاج کا مقصد دم توڑتے دریاؤں کو دوبارہ زندگی دینا ہے۔

راوی یاترا کے شرکا کا کہنا تھا دریا اپنی آزادی کے لیے تڑپتے ہیں، سمندر سے ملنے تک بلا روک ٹوک بہنے کا ان کا موروثی حق ہے۔

راوی یاترا کے روح رواں لاہور سے تعلق رکھنے والے نوجوان ابوذر مادھو ہیں جنہوں نے گزشتہ سال پہلی مرتبہ راوی بچاؤ واک کا آغاز کیا تھا۔

ravi-bachao3

راوی یاترا کے شرکا میں طالب علم، ماہرین ماحولیات،ڈاکٹر،وکیل اورسول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے۔

ابوزر مادھو کا کہنا ہے ہمارے دریا جینے کا حق مانگ رہے ہیں ہمارے دریا سوکھ رہے ہیں ،آبی حیات تکلیف میں ہے،ان دریاؤں اور ان سے جڑی آبی حیات کو بھی آزادی ملنی چاہیے۔

راوی یاترا کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ دریاؤں کو آلودگی سے پاک کیا جائے،اس میں گندا،آلودہ اورسیوریج کا پانی ٹریٹمنٹ کے بغیر ڈالنے پر پابندی لگائی جائے۔ دوسرا اہم مطالبہ یہ  تھا کہ دریا کی زمین پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے پر پابندی لگائی جائے۔

ravvi

 

واک کے شرکا کی جانب سے سب سے اہم مطالبہ یہ کیا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ طاس معاہدے کو ختم کرکے نئی ضرورتوں اور حالات کے مطابق نیا معاہدہ کیا جائے۔

اس موقع پر شرکا نے راوی کنارے بیٹھ کردریاؤں کی روانی اور ان سےجڑی کہانیوں کے گیت گائے،  دریا میں پھول بھی بہائے اور دریا کے قریب پودے بھی لگائے گئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔