ملک احمد خان… چند پرانی یادیں

اطہر قادر حسن  بدھ 28 فروری 2024
atharqhasan@gmail.com

[email protected]

انسان کی زندگی میں کچھ تعلق ایسے ہوتے ہیں جو کسی بھی ذاتی مفاد سے بالاتر ہوتے ہیں۔ دوستوں کی تعریف لکھنا واقعی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے اور دوست بھی ایسے جن کے ساتھ آپ کا بچپن گزرا ہو۔

میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ لاہور میں مجھے اپنے وقت کی بہترین درس گاہ ڈویژنل پبلک اسکول ماڈل ٹاؤن میں پڑھنے اورہوسٹل میں رہنے کا موقع ملا۔ عبدالعلیم قریشی ہمارے پرنسپل تھے اور ہوسٹل کے سدا بہار وارڈن جنھیں دنیاجی ایم ملک کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ۔

ملک صاحب کا تعلق ضلع میانوالی سے تھا اور وہ وکھری ٹائپ کے وارڈن اور استاد تھے ۔ وہ اپنے ہوسٹل کے بچوں سے بے انتہاء لاڈ پیار کرتے تھے لیکن ان کی تعلیم پر کڑی نگاہ بھی رکھتے تھے۔ ڈسپلن کے سخت پابند تھے ، اس زمانے میں پنجاب کے بڑے بڑے رؤسا، شرفاء اور سیاستدانوں کے لاڈ پیار سے بگڑے بچے ڈویژنل پبلک اسکول کے ہوسٹل میں مقیم ہوتے تھے، ان میں سے بیشترکا شمار آج ملک کے بڑے بڑے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس میں ہوتا ہے۔

پنجاب کے موجودہ چیف سیکریڑی بھی ہمارے سینئر تھے ۔ ہوسٹل میں سینئر کو’’بھیا‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا اور آج بھی جب ہم کسی سینئر کو ملتے ہیں تو بھیا کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔ ہوسٹل میں بچوں سے والدین کی ملاقات کے لیے ہفتہ اور اتوار کا دن مقرر تھا اور پندرہ دن کے بعد دو روز کے لیے گھر جا نے کی اجازت ہوتی تھی۔

جی ایم ملک صاحب اس معاملے میں بڑی سختی کرتے تھے اور چاہے کوئی کتنی ہی بڑی شخصیت آجاتی، وہ اپنے بیٹے سے بغیر وقت کے ملاقات نہیں کر سکتی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس سرکاری درسگاہ کا معیار تعلیم بہت بلند تھا ۔

میرا یہ تجربہ ہے کہ جو دوستیاں ہو سٹل میں رہنے والے بچوں کے درمیان پنپتی ہیں، ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا اورخوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے دوست ہوتے ہیں اور ہوسٹل کی دوستیاں تو رشتوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔

پینتیس برس کی ایک طویل مدت بیت گئی ہے مگر جو تعلق ڈویژنل پبلک اسکول کے اقبال ہاؤس ہوسٹل سے شروع ہوا تھا اس کی تازگی آج بھی برقرار ہے۔

تعلیمی میدان سے عملی زندگی کا سفر بڑھاپے کی جانب بڑھ رہا ہے مگر ہوسٹل کے دوست جب ملتے ہیں تو وہ پرانی بے تکلفی عود کر آتی ہے اور وہ مخصوص نام بے ساختہ زبان پر آجاتے ہیں جن سے ہوسٹل میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے تھے ۔ دوستوں احباب کی شکل وشبہات پر وقت نے اپنے اثرات ضرور چھوڑے ہیں لیکن دل آج بھی جوان ہیں اورپرانے دوستوں کے لیے وہی وارفتگی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔

میرے کالم کی تمہید بہت طویل ہو گئی ہے، اس کی وجہ پرانی یادیں در آئی ہیں حالانکہ میں کالم کا آغاز ہی ملک احمد خان کے نام سے کرنا چاہتا تھا جو آج اسپیکر پنجاب اسمبلی کے آئینی عہدے پر فائز ہو چکے ہیں۔

احمد خان ایچی سن کالج سے ڈویژنل پبلک اسکول میں آٹھویں جماعت میں شفٹ ہوئے اور میرے ہم جماعت ہونے کے ساتھ ہوسٹل میں’’ہم کمرہ‘‘ بھی ٹھہرے۔ احمد خان کے چہرے پر اس وقت بھی ایسی مسکراہٹ رہتی تھی جیسی آج ہوتی ہے۔ اس زمانے میں ان کے والد ملک محمد علی کھائی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ تھے لیکن مجال ہے کہ احمد خان نے کبھی خودنمائی یا خود ستائش کی ہو۔وہ نمود و نمائش کے قائل نہیں تھے البتہ ہمیں ہوسٹل کی کینٹین سے خوب کھلاتے پلاتے تھے۔

ہوسٹل میں فرصت کے لمحات بہت ہوتے ہیں وقت سے بے نیاز ہو کر شرارتیں اور گپ شپ خوب چلتی ہے۔ ملک احمد خان کی ایک بات مجھے یاد ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے نام سے پہچانے جائیں اور وقت نے ان کی یہ خواہش پوری کر دی ہے ۔ لندن سے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے حلقے کی سیاست میں بھر پور حصہ لینا شروع کر دیا۔ انھوں نے اپنے آبائی علاقے قصور سے راولپنڈی تک قربت کا طویل سفر بڑی تیزی سے طے کیاہے۔

وہ اپنی شائستہ اور مدلل گفتگو سے نہ صرف اہل سیاست بلکہ ملک کی مقتدرہ کے بھی پسندیدہ ٹھہرے اور اس خوبی کی وجہ سے انھوں نے ملکی سیاست میں فعال اور اہم کردار ادا کیا۔ ان کی صلح جواور نرم خو شخصیت نے سیاسی حلقوں اور میڈیا میں بھی بہت کم وقت میں اپنا مقام بنا لیا۔

ان کے پس پردہ بھر پور سیاسی کردار نے ملکی سیاست میں استحکام لانے اورفریقین کی رقابتوں کو سیاسی قربتوں میں بدل ڈالا ۔ آج وہ ایک ایسے آئینی منصب پر متمکن ہو چکے ہیں جہاں پر دوسرے صوبوں کے برعکس ان کو ایک تگڑی اپوزیشن کا سامنا کرنا ہو گا ایک منہ زور تگڑی اپوزیشن کی موجودگی میں ایوان کی کارروائی چلانا، ان کی فہم و فراست اور دانشمندی کا کڑا امتحان ہو گا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ اس اہم ذمے داری سے بھی کامیابی سے سرخرو ہوں گے کیونکہ جس ہنستے مسکراتے احمد خان کومیں جانتا ہوں، وہ کسی بھی سیاسی مخالف کے دل میں اپنی جگہ بنانا جانتا ہے اوردوستی نبھانے کا فن اس میں بدرجہ اتم موجود ہے۔

ملک احمد خان کا اسپیکر پنجاب اسمبلی بننا اچھی شروعات ہے، توقع ہے کہ ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، وہ اس پر پورا اتریں گے۔ ہم پرانے دوست ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔