ماڈل صوبے کا خواب

ڈاکٹر توصیف احمد خان  بدھ 28 فروری 2024
tauceeph@gmail.com

[email protected]

مراد علی شاہ تیسری دفعہ سندھ کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ پیپلز پارٹی نے اس دفعہ سکھر سے تعلق رکھنے والے اویس قادر شاہ اور اقلیتی رکن نوید انتھونی کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کے لیے نامزد کیا۔

کسی اقلیتی رکن کا ڈپٹی اسپیکر بننا تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔ سندھ اسمبلی کے اراکین نے سنگینوں کے سایہ میں حلف اٹھایا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ اسمبلی کے پارلیمانی اجلاس میں بصیرت افروز تقریر کی۔ انھوں نے فرمایا کہ تاریخ نے بڑی ذمے داری ہمارے کندھوں پر رکھ دی ہے۔ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہمیں پرانی سیاست کو چھوڑنا ہوگا۔

بلاول نے اپنی تقریر میں یہ مفروضہ پیش کیا کہ سندھ حکومت کارکردگی کے لحاظ سے اپنے سابقہ ریکارڈ توڑ کر نئے سنگ میل عبور کرے گی، ہمارا مقابلہ دیگر حکومتوں سے نہیں بلکہ وفاق سے ہوگا۔ بلاول نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں تمام اپوزیشن جماعتوں سے خواہ وہ اسمبلی میں ہوں یا باہر ورکنگ ریلیشن شپ بنائے گی اور ان کی جائز شکایات کا ازالہ کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی نئی حکومت کے لیے انتہائی اہم اور معقول گائیڈ لائن طے کی ہے۔ پیپلز پارٹی گزشتہ 16برسوں سے سندھ میں برسر اقتدار ہے مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ سندھ میں جتنی ترقی ہونی تھی وہ نہیں ہوسکی۔ اس دوران پیپلز پارٹی 2008سے 2013 تک وفاق میں برسر اقتدار رہی۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کی تشکیل نو ہوئی، یوں صوبے کی آمدن میں کئی سوگنا اضافہ ہوا۔

سندھ کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سندھ اسمبلی نے وفاق اور باقی صوبوں کے مقابلے میں بہترین قوانین بنائے مگر ان قوانین پر عمل درآمد کی صورتحال پر جو تنقید کی جاتی ہے ان میں ایک نچلی سطح کے اختیارات کے تمام مقامی حکومتوں کے نظریے کو قبول نہیں کیا گیا۔

بد انتظامی اور کرپشن جیسے اہم معاملات کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ اور وزراء گلیوں سڑکوں کی تعمیر، سیوریج کے نظام جیسے بلدیاتی مسائل کے حل کو اپنی کامیابی سمجھتے رہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے صوبے میں بلدیاتی مسائل گھمبیر ہوگئے۔ کراچی سمیت شہروں میں کوڑے کے ٹیلے بن گئے۔

کراچی کے کوڑے اور سیوریج کے نظام کا معاملہ قومی مسئلہ بن گیا اور دنیا کے اہم ترین اخبار نیویارک ٹائمز میں اس بارے میں فیچر شایع ہوئے۔ چند سال قبل اندرون سندھ آنے والے سیلاب سے جو تباہی ہوئی وہ تو ہوئی مگر نچلی سطح کے اختیارات کی مقامی حکومتوں کے نا ہونے سے بحالی کے کاموں میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی۔

گزشتہ 16 برسوں کے دوران بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے بارے میں کئی قوانین تیار ہوئے۔ جب تک ایم کیو ایم اتحادی رہی اس وقت تک جو قانون سازی ہوئی، ان میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات سے متعلق کچھ شقیں شامل تھیں مگر جب ایم کیو ایم سے پیپلز پارٹی کا اتحاد ختم ہوا تو پھر نئے قانون میں سارے اختیارات وزارت بلدیات کو منتقل ہوگئے۔

سپریم کورٹ نے بلدیاتی قانون کی بعض شقوں کو غیر قانونی قرار دیا۔ پیپلز پارٹی نے مختلف جماعتوں سے اس قانون کو بہتر بنانے کے لیے معاہدے کیے اور ایک نیا قانون بھی سندھ اسمبلی نے منظور کیا مگر اس قانون میں بھی بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام ممکن نا ہوا۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب مالیاتی اور انتظامی معاملات میں کتنے بااختیار ہیں۔

ان سے رائے لی جاسکتی ہے۔ لیاری ٹاؤن سے پیپلز پارٹی کے منتخب عہدیداران شکایت کرتے ہیں کہ انھیں اختیارات حاصل نہیں۔ 8 فروری کے انتخابات کے حوالے سے ٹی وی چینلز کے نمایندوں نے ہر شہر کے لوگوں سے ان کے مسائل معلوم کیے تو سب نے بلدیاتی مسائل، گیس، بجلی کی بندش اور مہنگائی کا ذکر کیا۔ دنیا کے جدید شہروں لندن اور نیویارک کا ذکر تو چھوڑیں بلاول صاحب کلکتہ اور ممبئی کے میئر کے اختیارات جیسے قانون سازی کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کریں۔ ایک اہم معاملہ سرکاری ملازمتوں میں اقربا پروری کی بنیاد پر تقرریوں کا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے مسلسل سندھ پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے۔ اصولی طور پر صوبہ بھر میں گریڈ 4 سے گریڈ 20 تک کی تمام آسامیوں پر تقرریوں کا اختیار سندھ پبلک سروس کمیشن کے پاس ہونا چاہیے اور کمیشن کو مکمل طور پر انتظامی اور معاشی طور پر بااختیار ہونا چاہیے اور کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کے تقرر میں کوٹے کے بجائے میرٹ کو اہمیت دینی چاہیے۔ ایک اہم معاملہ کوٹہ سسٹم کا بھی ہے، اگر سندھ کی ترقی کے دعوے درست ہیں تو پھر کیوں سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ ہے۔

ترقی کے لیے ہر سطح پر میرٹ کا نفاذ ضروری ہے مگر اس حقیقت کا آشکار ہونا ضروری ہے کہ نا صرف سندھ کے ہر ڈویژن میں اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے قیام کے وعدے کیے جاتے ہیں تو ان اضلاع کی نشاندہی ضروری ہے جو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ اعداد و شمار ظاہر ہونے چاہئیں کہ ان اضلاع کی ترقی پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور مستقبل کے لیے ان اضلاع کی ترقی کا ہدف طے ہونا چاہیے۔ انگریز دور سے نافذ قانون کے تحت ہر ضلع میں گریڈ 1 سے گریڈ 15 تک کی آسامیوں پر تقرر اس ضلع کے ڈومیسائل یافتہ افراد کا ہونا چاہیے۔

اس قانون پر عملدرآمد نا ہونے سے نئے تضادات ابھرتے ہیں۔ سندھ میں تعلیم کا شعبہ بدترین طرز حکومت کا شکار ہے۔ سندھ میں اب بھی 97 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔ اسکولوں اور کالجوں کی عمارتیں خستہ حالت میں ہیں۔ اب بھی ہزاروں بچے فرش پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افسران کے تقرر میں اقربا پروری اور رشوت زوروں پر ہوتی ہے۔ سندھ کے بیشتر تعلیمی بورڈ انتظامی بحران کا شکار ہیں۔ امتحانات میں نقل، نتائج میں تبدیلی کا سلسلہ طویل ہوتا جارہا ہے۔

بیشتر تعلیمی بورڈ مستقل عہدیداروں سے محروم ہیں۔ یوں سندھ کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کا معیار پنجاب اور خیبر پختون خوا کے تعلیمی معیار کے برابر نہیں ہے۔ پروفیشنل اداروں اور یونیورسٹیوں کے ہونے والے انٹری ٹیسٹ میں طلبہ کے فیل ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ معاملات منفی سمت جا رہے ہیں۔

اگرچہ سندھ کے چند اسپتالوں کی کارکردگی کا بڑا ذکر ہوتا ہے مگر ان چند اسپتالوں کی کارکردگی تو واقعی قابل تعریف ہے مگر باقی اسپتالوں کی صورتحال ناگفتہ بے ہے۔

لاڑکانہ سے متصل رتو ڈیرو میں بڑھتے ہوئے ایڈز کے کیسوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کی تقرری میں اقربا پروری ہوتی ہے، اگر ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کی کارکردگی بہتر ہوگی تو اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا۔ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے شروع نا ہونے اور وقت پر مکمل نا ہونے کی وجوہات کا ذرایع ابلاغ پر ذکر ہوتا ہے۔ حیدرآباد سکھر موٹر وے اس بناء پر مکمل نہیں ہوسکی کہ موٹر وے کی زمین کی رقم میں غبن ہوا۔

اس عبن میں متعلقہ انتظامی افسروں کے علاوہ کچھ حکمران جماعت کے رہنماؤں کے نام بھی آئے مگر وہ لوگ باعزت بری ہوگئے۔ اسی طرح کراچی میں ملیرکینٹ سے تعمیر ہونے والی ریڈ لائن کا منصوبہ گزشتہ پانچ برسوں سے التواء کا شکار ہے۔ اس لائن کی ٹاور تک توسیع ہونی ہے مگر ابھی آدھا سے کم کام ہوا ہے۔

اس سڑک کو لاکھوں لوگ استعمال کرتے ہیں، یوں اس سڑک سے گزرنے والا ہر شخص سندھ حکومت کو یاد کرتا ہے۔ یہ 16سال میں سندھ حکومت کا کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے واحد منصوبہ ہے جس کی اگلے پانچ سال تک مکمل ہونے کی امید نہیں ہے۔ منصوبے کے تحت کراچی میں ایسی کئی لائن تعمیر ہونی ہیں۔ جب ایک منصوبہ 10سال میں مکمل ہوگا تو عوام کا ردعمل کیا ہوگا۔

گزشتہ 15برسوں میں کچے کے علاقے کو ڈاکوؤں سے آزاد نہیں کرایا جاسکا، بعض اوقات تو کراچی شہر میں بھی ڈاکوؤں کا نظام نظر آتا ہے۔ کراچی سمیت کسی بھی شہر میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کا نظام ابھی تک قائم نہیں ہوسکا۔ پولیس کی نگرانی کا قانون 2008 میں ختم کردیا گیا تھا، ا س کے بعد سے پولیس کی نگرانی کے لیے کوئی قانون نہیں بن سکا۔ سندھ میں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی شرح 40 فیصد کے قریب ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا مگر یہ پروگرام کافی نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے اندرون سندھ صنعتی اداروں کے قیام پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے صنعتوں کا قیام ضروری ہے، اگر نئی صنعتوں کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں ختم کردی جائیں تو نجی شعبے کا کردار ابھر کر سامنے آئے گا۔ مراد علی شاہ بنیادی طور پر انجنیئر ہیں اور امریکا سے تعلیم حاصل کرکے آئے ہیں، اگر وہ میرٹ پر فرائض انجام دیں تو سندھ ماڈل صوبہ بن سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔