حج، قابل تقلید مثال

ڈاکٹر فاروق عادل  جمعرات 29 فروری 2024
farooq.adilbhuta@gmail.com

[email protected]

نگراں دور اور نگراں وزرا کو ریت پر لکھی تحریر سمجھ لیں لیکن اس بار کچھ مختلف ہوا ہے۔ مجھے یہاں ذکر تو انیق احمد کا کرنا ہے جنھیں نگراں کابینہ میں مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کی وزارت سونپی گئی لیکن اس سے قبل تھوڑا ذکر قبلہ عطاء الحق قاسمی کا ہوگا۔ حال ہی میں ان کا شعری مجموعہ’کلیات‘  کے عنوان سے شایع ہوا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ اس وقت ‘کلیات’ کے ذکر کا ابھی ارادہ نہیں ہے۔ یہ ذکر ذرا مختلف قسم کا ہے۔

ایک ایسا ذکر جس میں کسی مختلف آدمی کو کوئی مختلف قسم کا کام سونپ دیا جائے اور وہ اس میں کمال کر دکھائے۔ کچھ ایسا ہی قبلہ قاسمی صاحب کے ساتھ ہوا۔ 1997 میں میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے تو انھوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، قاسمی صاحب کو سفیر بنا دیا۔ سفارت کے اسی زمانے میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیے۔

ان دھماکوں کی خبر جیسے ہی پھیلی احتجاج کرنے والوں نے پاکستانی سفارت خانے کا گھیراؤکر لیا۔ قاسمی صاحب کو خبر ملی تو انھوں نے سفارت خانے کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے لیے چائے، پانی اور کولڈ ڈرنک کا اہتمام کریں چناں چہ جب وہ نعرے وغیرہ لگانے کے بعد تھک گئے تو سفارت خانے کے کارکنوں نے ان کی تواضح شروع کر دی۔ یوں پاکستان کے خلاف احتجاج کرنے والے اس احساس کے ساتھ واپس لوٹے کہ یہ پاکستانی تو بڑے انسان دوست لوگ ہیں۔ انھوں نے اگر دھماکے کیے ہیں تو اس کی بھی کوئی معقول وجہ ہوگی۔

اس خوش گوار زمانے کی ایک اگلی یاد مرحوم و مغفور عبدالقادر حسن نے بیان کی ہے۔ انھوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ ہم نے عطا کو ہنستے کھیلتے لطیفے سناتے ہوئے ناروے میں بھیجا تھا لیکن وہاں جا کر تو یہ شخص اچھا بھلا تاجر بلکہ وزیر تجارت نکلا۔ اصل میں ہوا یہ کہ قاسمی صاحب نے شعر و ادب کے ساتھ اپنی دل چسپی اور باغ و بہار شخصیت کو اپنی ذمے داری کے لیے آزمانے کا فیصلہ کیا پھر نتیجہ وہ نکلا جسے مرحوم و مغفور عبد القادر حسن صاحب نے بیان کیا یعنی ناروے اور پاکستان کے تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا۔

جہاں تک انیق احمد کا معاملہ ہے، وہ بھی شعر و ادب سے شروع ہوئے۔ شعر فہمی اور زبان دانی کے ہفت خواں استاذ الاساتذہ حضرت جون ایلیا کے حجرے میں طے کیے ،اس کے بعد میڈیا کا رخ کیا۔ اس دشت میں انھوں نے سیاست اور حالات حاضرہ سے بھی لطف لیا اور نظریاتی مباحث میں الجھ کر بڑے بڑے دانش وروں اور مفکرین کوبھی دیکھا بھالا لیکن یہاں ٹھہرے نہیں اپنا سفر جاری رکھا بالآخر وہیں پہنچے جہاں کوئی صحیح الفکر آدمی پہنچ سکتا ہے یعنی انھوں نے قرآن کے سائے میں پناہ لی پھر اسی دیار کے ہو رہے۔

وہ صبح و شام قرآن کی رفاقت میں بسر کرتے اور ہر صبح حالات حاضرہ کا جائزہ قرآن کی روشنی میں لیتے اور اہل وطن کے دل و دماغ میں روشنی بھرتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اب زندگی اگر ایسے ہی صبح و شام میں گزر جائے تو مزید کوئی خواہش ہے اور نہ حسرت۔ وہ اپنی اس دنیا میں مطمئن تھے لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔

انتخابات کا موسم شروع ہوا اور نگراں حکومت بنی تو وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے نگاہ انتخاب ان پر جا ٹھہری۔ اپنی زندگی ایک خاص کام کے لیے مختص کر دینے والے شخص کے لیے یہ موقع کسی آزمائش سے کم نہیں تھا۔ وفاقی وزارت کی ذمے داری کی پیشکش پر انھوں نے وہی کیا جو کوئی بھی سنجیدہ فکر انسان کر سکتا تھا۔ مخلص دوستوں اور بزرگوں نے مشورہ دیا کہ اگر قوم کی خاطر کوئی ذمے داری کاندھوں پر آ پڑے تو پہلو بچانے کے بہ جائے جواں مردوں کی طرح ذمے داری اٹھانی چاہیے اور پھر پوری توانائی اور پوری ایمان داری کے ساتھ اسے ادا کرنا چاہیے۔

انیق احمد نے یہی کیا۔ اپنی وزارت کے در و بست کا جائزہ لیا اور کچھ اہداف کا تعین کر لیا۔وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ایک بڑی وزارت ہے جس کے بہت سے شعبے ہیں اور ان میں سے کئی ایک کا تعلق عوامی زندگی کے ساتھ ہے۔ انیق احمد نے ان تمام معاملات کا بہ غور جائزہ لیا پھر طے کر لیا کہ وہ نہایت مختصر مدت کے اقتدار میں روزمرہ کے امور نمٹانے کے علاوہ کوئی ایک کام ایسا ضرور کریں گے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔

اس ضمن میں ان کی نگاہ حج کے امور پر پڑی اور وہ اس کے لیے یک سو ہو گئے۔حج ایک ایسا معاملہ ہے جس کی آرزو میں مسلمانوں کے صبح و شام گزرتے ہیں۔ کچھ خوش نصیبوں کی یہ آرزو پوری ہو جاتی ہے کچھ کی زندگی اسی میں گزر جاتی ہے۔ سبب یہ ہے کہ حج کی عبادت روز بروز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔

انیق احمد نے سوچا کہ اگر وہ اس عبادت کی لاگت میں کمی کر جائیں تو کروڑوں فرزندان اسلام کی دعاؤں کے حق دار بن جائیں گے۔ وزارت کی ذمے داری سنبھالتے ہی انھوں نے حج کے معاملات خاص طور پر اس کے اخراجات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے ہی ہلے میں انھوں نے حج اخراجات میں ایک لاکھ روپے کی کمی کر دی۔ گزشتہ برس حج کے اخراجات پونے گیارہ لاکھ روپے تھے لیکن اس برس پونے دس لاکھ روپے ہوں گے۔

مہنگائی کے کئی گنا بڑھنے اور ڈالر کی قدر میں اضافے کے باوجود یہ کمی معمولی نہیں۔ بات یہاں پر ٹھہری نہیں حج کے اخراجات میں اتنی خطیر رقم کی کمی کے باوجود اب انیق احمد نے اپنے لیے ایک اور ہدف کا تعین کر لیا۔ انھوں نے فضائی کرایوں میں کمی کی ٹھان لی۔ یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان سے سعودی عرب کا معمول کا کرایہ جو عام دنوں میں کچھ اور ہوتا ہے، حج کے ایام میں اس میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

انیق احمد نے ٹھان لی کہ وہ اس میں بھی کمی کر کے رہیں گے۔ اس ضمن میں انھوں نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران میں جو تگ و تاز کی، اس کی کچھ تفصیلات مختلف ذرایع سے میرے علم میں آتی رہی ہیں لیکن آخری بات یہ ہے کہ کرائے کے شعبے میں بھی وہ پاکستانی حجاج کرام کے لیے تقریباً پچاس ہزار روپے کم کرانے میں کام یاب رہے ہیں۔

انیق احمد کی یہ کچھ کم کام یابیاں نہیں ہیں لیکن اس کے علاوہ انھوں نے حرمین شریفین کے قریب حجاج کرام کے لیے رہائش، نقل و حرکت کے لیے آرام دہ ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کے معیار میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔اس کے علاوہ کچھ چیزیں اور بھی ہیں جیسے کم پڑھے لکھے حجاج کرام کا گم ہو جانا، ان کا سامان کھو جانا وغیرہ۔ یہ ایسے مسائل تھے جن کی وجہ سے حاجیوں کا بہت سا قیمتی وقت ضایع ہو جاتا اور ذہنی اذیت الگ ہوتی۔

اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ حکومت ہر حاجی کو تیس کلو گرام کا سوٹ کیس فراہم کرے گی جس پر کیو آر کوڈ نقش ہو گا جس کی مدد سے سامان کے گم ہو جانے کا خدشہ ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح حجاج کی تربیت اور انھیں تمام ضروری معلومات کی فراہمی کے لیے ہر حاجی کے فون میں ایک ایپ ڈان لوڈ کی جا چکی ہے جو ان کے لیے مستقل راہ نما کا کردار ادا کرے گی۔ اسی طرح ہر حاجی کو سیل فون ایک سم فراہم کی جائے گی جس میں 180منٹ بین الاقوامی فون کال کی سہولت ہو گی۔

ویسے تو ہر مسلمان حج کا خواہش مند ہے لیکن بعض لوگوں کے لیے سوا ڈیڑھ مہینے کے عرصے کے لیے خود کو اس کام کے لیے مختص کر لینا مشکل ہوتا ہے، ان کی صحت یا پیشہ ورانہ مصروفیات اس کی اجازت نہیں دیتیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے پہلی بار اسمارٹ حج متعارف کرایا گیا ہے جس میں حج کی تمام رسوم نصف یا اس سے بھی کم مدت میں ادا کی جا سکیں گی۔ اس طرح انتہائی مصروف لوگوں کے لیے بھی فریضہ حج کی ادائی کا طریقہ نکال لیا گیا ہے۔

یہ ایسی سہولتیں جو پاکستانی حاجیوں کو تاریخ میں پہلی بار مل رہی ہیں جن کے لیے انیق احمد نے جان توڑ کر محنت کی ہے۔ اگر وقت ہوتا تو وہ اس سے زیادہ بھی بہت کچھ کر سکتے تھے۔ گزرا ہو وقت تو واپس نہیں آ سکتا لیکن ان کے تجربات اور محنت کو ضایع ہونے سے ضرور بچایا جا سکتا ہے۔

یہ ذاتی طور پر میرے علم میں ہے کہ حج اخراجات اور اس کے کرائے کے ضمن میں انھوں نے جس قسم کا ہوم ورک کیا تھا اگر اس پر عمل درآمد ہو جائے تو جتنی کامیابی اب تک حاصل ہو سکی ہے، اس سے زیادہ کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اب یہ آنے والے حکمرانوں پر ہے کہ وہ اس شعبے میں عوام کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے انیق احمد کے شروع کیے ہوئے کام کو مزید آگے بڑھاتے ہیں یا نئے تجربات کرتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔