ایودھیا کی کہانی (پہلا حصہ)

سعد اللہ جان برق  ہفتہ 2 مارچ 2024
barq@email.com

[email protected]

ہمیں ہدایت ہے کہ تم کفار کے جھوٹے معبودوں کو بھی بُرا مت کہو کیونکہ بدلے میں وہ تمہارے ’’سچے خدا‘‘ کی برائی کریں گے۔چنانچہ ہمیں ہندی دھرم کے عقائد پر کچھ کہنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کہانی کے کچھ تاریخی اور تحقیقی پہلوؤں پر تھوڑی سی روشنی ڈالنی ہے جو ’’رامائن‘‘ نامی رزمیے کی مرکزی کہانی ہے۔

کہانی کے مطابق’’ایودھیا‘‘ کے شہزادے رام چندر کی بیوی سیتا کو لنکا کا ایک اسور یا راکھشش اغوا کرکے لے جاتا ہے رام اس کا پتہ لگاتا ہے اور لنکا پر حملہ آور ہوکر’’راون‘‘ کو مار ڈالتا ہے اور سیتا کو بازیاب کرلیتا ہے ۔کہانی میں اور بھی بہت ساری تفصیلات ہیں اور ہندو دھرم کے دیوی دیوتاؤں اور مقدمات کی کہانیاں ہیں لیکن ہمیں صرف رام،سیتا اور راون کے کرداروں پر بات کرنی ہے۔

حیرت انگیز طور پر رام کی اس کہانی سے ہوبہو ملتی ہوئی دو اور کہانیاں آریائی اقوام کی اساطیر میں بھی درج ہیں، ایرانیوں کے ہاں بہرام اور گل اندام کی کہانی اور یونانیوں کے ہاں ہیلن آف ٹرائے کی کہانی آپس میں ایک جیسی ہیں۔تینوں کہانیوں کی ہیروئنیں کوئی کنواری عورتیں نہیں بلکہ تینوں ہی بیاہتا بیویاں ہیں۔

تینوں کوانتہائی دشوار مقامات پر رکھا گیا۔سیتا کو سمندر پار لنکا لے جایا گیا ہے اور گل اندام کو کوہ قاف کے پار لے جایا گیا ہے اور ہیلن کو بھی سمندر پار ایشیائے کوچک کے ایک ناقابل تسخیر قلعے میں رکھا گیا ہے، تینوں کی بازیابی میں ہیرو کسی نہ کسی جانور کی مدد سے فتح یاب ہوتا ہے۔رام کی مدد بندر( ہنومان) بہرام کی مدد ایک پرندہ سیمرغ کرتا ہے اور ٹرائے کے قلعے کو کاٹھ کے گھوڑے کی مدد سے فتح کیا جاتا ہے۔

تینوں خواتین کو کسی پرانے انتقام کے لیے اغوا کیا گیا ہے، سیتا کو اس لیے اغوا کیا گیا ہے کہ رام نے راون کے ایک بھائی ’’کھر‘‘ کو مارا تھا اور بہن ’’سروپ نکھا‘‘ کی ناک کاٹ ڈالی تھی۔بہرام نے تورابان دیو کے بھائی دیوسفید کو مارا تھا، ہیلن کو یوروپا نامی ایشیا لڑکی کے بدلے اغوا کیا گیا جسے یونانیوں نے کچھ عرصہ پہلے اغوا کیا تھا، تینوں جنگیں اٹھارہ اٹھارہ دن چلی تھیں۔

تینوں خواتین کو ہیرو نے کسی نہ کسی مقابلے میں جیتا تھا، سیتا کو رام نے سوئمبر میں جیتا تھا، بہرام نے دیو سفید کو مارکر گل اندام کو حاصل کیا تھا اور ہیلن کو بھی اگاممنوں نے مقابلے میں جیتا تھا۔اصل میں یہ کہانی نہ بھارت میں پیدا ہوئی تھی نہ ایران میں اور نہ ہی یونان میں۔بلکہ اس کہانی کی پیدائش بلخ وباختر میں ہوئی تھی جسے تینوں آریائی گروپ ساتھ لے گئے تھے اور اپنے اپنے انداز میں بیان کیا۔

اور اہم ترین بات یہ ہے کہ سیتا،گل اندام اور ہیلن عورتیں تھیں ہی نہیں بلکہ ایک جائز حکومت کے استعارے ہیں، بیاہتا بیوی کا مطلب ہے ایک جائز حکمران سے حکومت چھیننا۔یہ پوری کہانی ان طویل جنگوں اور کش مکش کا استعارہ ہے جو آریاؤں اور اساک خانہ بدوشوں میں صدیوں تک چلتی رہی تھیں۔

مروجہ تاریخ جو اصل میں پندرہ فیصد اشراف کے خود نوشت افسانے ہیں چاہے وہ مصر کی دیواروں، تابوتوں اور محلوں کے نوشتوں سے اخذ کی گئی ہو یا خود ان کے وظیفہ خوروں یا پروہتوں کی لکھی ہوں یا بعد میں پیشہ ور مورخوں نے لکھی ہوں صرف پندرہ فیصد بادشاہوں، فاتحوں اور شاہی خاندان کی مدح خوانیوں پر مبنی ہوں، ان سب میں اس کش مکش اور دشمنی کا کوئی ذکر نہیں، جو دو انسانی گروہوں،شہریوں اور خانہ بدوشوں کے درمیان ہزاروں سال سے چلتی رہی ہے۔

البتہ اساطیر جن کو عام طور پر افسانہ و افسون سمجھا جاتا ہے اس میں اس کش مکش کی جھلکیاں مل جاتی ہیں لیکن اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں سمجھنے کی کوشش کی جائے کیونکہ اساطیر میں زیادہ ’’استعاراتی‘‘ زبان استعمال کی جاتی ہے۔جو دیوی دیوتا ہوتے ہیں وہ کوئی ماورائی مخلوق نہیں ہوتے ہیں بلکہ زمینی آسمانی یا موسمی عوامل ہوتے ہیں مثلاً اندر بارش ہے، اگنی آگ ہے۔مصر کا’’را‘‘ بال کا مردوک،یونان کا زیوس، روم کا اپالو’’سورج‘‘ ہے چنانچہ ’’آریاؤں‘‘ اور ان کے شدید دشمنوں اساک کے درمیان اس دشمنی کا ذکر استعاراتی زبان میں ہے۔

ایرانیوں کے مذہبی اساطیر ژند اوویستا کی شکل میں ہیں جب کہ اساکوں کے اساطیری عقائد’’رگ وید‘‘ کی شکل میں ہیں لیکن عام مورخین ان دونوں کو آریائی نوشتے کہتے ہیں کیونکہ برھمنوں کی تحریروں نے ان اساک خانہ بدوشوں کو بھی آریا بنایا ہوا ہے۔چنانچہ ان دھارمک کہانیوں میں بھی دراصل یہی جھگڑا چل رہا ہے۔ایرانی اپنی تحریروں میں جن’’دیوؤں‘‘کا ذکر کرتے ہیں وہ اصل میں ہندی آریائی یعنی ’’دیو‘‘، دیوتا‘‘ ماننے والوں کو کہتے ہیں۔

جواب میں ہندیوں نے ’’آہورامردا‘‘ ماننے والوں اسوروں کا نام دیا ہواہے کیونکہ دونوں کی زبان میں بھی (س)اور( ہ) کا اختلاف ہے جو لفظ ہندی (س) سے بولتے ہیں ایرانی اسے(ہ) سے بولتے ہیں۔ جسے سندھ کو ہند،دیس کو دیہہ کس کو کوہ،ماس کو ماہ دس کو دہ،سوما کو ہوما اسی طرھ ہندیوں نے ایرانیوں کے آہور کو بنا ڈالا ہے جو اس بات کو سمجھنے کے بعد وہ تمام نوشتے و اساطیر سمجھ میں آجاتے ہیں۔ جن میں ’’دیوؤں‘‘ اور’’اسوروں‘‘ کا ذکر ہے۔

اوویستا اور شاہنامہ فردوسی یا ایسی دوسری کتابوں(خدائے نامک) وغیرہ میں جو ’’دیو‘‘ ذکر ہوئے ہیں وہ دراصل ہندیوں یعنی دیوتاؤں کو ماننے والوں کا استعارہ جسے شر اہرمن نے پیدا کیا ہے جو خود بھی ایک شرپسند’’دیو‘‘ ہے اس کے مقابل خدائے خیر اہورامزدا (یزدان) نے اچھی مخلوقات یعنی آریوں کو پیدا کیا ہے۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔