فاشسٹ کون؟

عثمان دموہی  ہفتہ 2 مارچ 2024
usmandamohi@yahoo.com

[email protected]

اس خبر نے ہم پاکستانیوں کو واقعی شرمندہ کردیا ہے کہ ہمارے پورے ملک کا بجٹ بھارت کے صرف ایک نجی ادارے ٹاٹا کے بجٹ سے بھی کم ہے۔

لگتا ہے ہم پاکستانیوں کو شرمسار کرنے کے لیے خاص طور پر یہ خبر بھارتی اخباروں نے شایع کی ہے۔ پاکستان کو نیچا دکھانا اور بھارت کو اعلیٰ ملک ثابت کرنا شروع سے ہی بھارتی میڈیا کی پالیسی رہی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اس وقت ہمارے حکمرانوں کی بعض غلطیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت بہت کمزور ہو چکی ہے مگر کیا ہماری معیشت کی ہمیشہ سے ایسی ہی حالت ہے؟ ایسا نہیں، ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا یہ 1992، 1993 تک ہماری کرنسی بھارتی کرنسی سے بھاری تھی۔ اس وقت بھارتی معیشت کمزور تھی مگر پاکستانی معیشت روز بہ روز ترقی کر رہی تھی۔

بھارت کی معیشت اس وقت نویں دسویں نمبر پر ہے مگر اسے دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کہا جا رہا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چند ہی سالوں میں بھارت دنیا کی تیسری بڑی معیشت والا ملک بن جائے گا، یہ سوائے پروپیگنڈے کے کچھ نہیں ہے، اگر بھارتی معیشت واقعی بلندی پر ہے تو پھر وہاں بے روزگاری عروج پرکیوں ہے، کیوں پڑھے لکھے نوجوان خودکشیاں کر رہے ہیں؟ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ اسے قابو میں کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔

جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک روزگارکی تلاش میں جانے والے افراد میں بھارت اول نمبر پر ہے، اگر بھارت کی معیشت مغربی ممالک کی طرح تگڑی ہے تو ملک کے لوگ روزگارکی تلاش میں باہر کیوں جا رہے ہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ بیرون ملک سے جوق در جوق لوگ بھارت آتے۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی ترقی یا چمک دمک صرف بڑے شہروں تک محدود ہے، گاؤں دیہاتوں میں ترقی کا کوئی نشان نظر نہیں آتا، وہاں اب بھی لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔

ان کا لائف اسٹائل وہی ہے جو آج سے سو سال پہلے تھا۔ عورتوں کا یہ حال ہے کہ ایک ہی ساڑھی سے پورا بدن ڈھانپتی ہیں، انھیں اب بھی کھیتوں میں مردوں کے ساتھ کام کرنے کا معاوضہ مردوں سے آدھا ملتا ہے جب کہ مردوں کو بھی صرف اتنا معاوضہ ملتا ہے کہ اپنا پیٹ بھر سکیں اسی لیے گھر کے تمام افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں کھیتوں اور کارخانوں میں کام کرتے ہیں، تعلیم کا چلن شہروں میں ضرور ہے مگر دیہاتوں میں اسکولوں کی قلت ہے، بچوں کو کئی کئی میل پیدل چل کر اسکول جانا پڑتا ہے۔

کچھ دن پہلے ایک بھارتی اخبار نے خبر دی تھی کہ تامل ناڈوکا ایک ماسٹر روزانہ کئی میل پیدل چل کر اور راستے میں پڑنے والی ندی کو تیر کر پار کرکے اسکول پہنچتا ہے جہاں وہ بچوں کو تعلیم دیتا ہے۔

اس طرح دیہاتوں میں تعلیم یافتہ افراد کم ہی ملتے ہیں۔ کچھ بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی معیشت گوکہ کئی ممالک سے بہتر ہے مگر مودی سرکار کے اللّو تللّو یعنی بے جا اسراف نے معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔ مودی اپنی اور اپنی حکومت کی پبلسٹی کے لیے سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ پہلے وہ اپنی سیاست کو چمکانے اور الیکشن میں کامیابیاں بٹورنے کے لیے پاکستان کارڈ استعمال کررہے تھے۔

پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ملک میں ہی کئی جعلی حملے کرائے گئے جیسے کہ پلوامہ حملہ یہ سب مودی کے ڈرامے تھے، جن کو رچانے پر بہت رقم خرچ ہوتی رہی ساتھ ہی اس میں پولیس اور فوج کے جوان بھی مارے گئے۔ اب مودی نے ان ڈراموں کو عوام میں پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے بند کر دیا ہے اس کے بجائے چاند کی تسخیر کی مہم شروع کردی گئی ہے۔

عوام کو رجھانے کے لیے چاند پر خلائی جہاز بھیجنے کے مشن پر بے دریغ رقم خرچ کی گئی مگر پہلی مہم ناکام ثابت ہوئی پھر دوبارہ اس مہم میں ضرور کامیابی ملی مگر پھر اربوں روپے خرچ ہوئے۔ اس مہم جوئی کی کامیابی کا دعویٰ ضرورکیا گیا مگر چاند پر اترنے کے بعد چاند گاڑی زمین پر واپس کب آئی، یہ بات ابھی تک صیغہ راز میں ہے۔

اب مودی انسان کو چاند پر بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں اس مہم جوئی میں پہلے سے زیادہ رقم خرچ ہوگی۔ دراصل یہ سب کچھ آنے والے انتخابات کی تیاری کا حصہ ہے۔ اس مہم جوئی کا بھارتی عوام کو کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچے گا مگر یہ الیکشن جیتنے اور دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش ضرور ہے۔ گوکہ مودی خود کو امن پسند رہنما ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں مگر انھیں اکثر بھارتی فاشسٹ خیال کرتے ہیں۔ ان کی اقلیتوں کے بارے میں پالیسیاں انتہا پسندانہ ہیں وہ سیاست میں بھی انتہا پسندی کے قائل ہیں۔

انھوں نے اپنی حکومت کو صرف ہندوؤں تک محدود کر رکھا ہے وہ صرف ہندوؤں کے ووٹ سے الیکشن جیتتے ہیں انھیں اقلیت کے ووٹوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسی لیے ان کی کابینہ میں کسی بھی مسلمان کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔ ان کی حکومت آمرانہ طرز پر چل رہی ہے انھیں کسی کی بھی تنقید پسند نہیں ہے۔

بھارتی حزب اختلاف پر طرح طرح کی پابندیاں عائد ہیں، مودی الیکشن میں مسلسل کامیابیاں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے حاصل کر رہے ہیں جن کو پہلے ہی فیڈ کر دیا جاتا ہے ان کی غلطی کئی بار پکڑی گئی ہے مگر الیکشن کمیشن اس کا کوئی نوٹس نہیں لیتا اس لیے کہ اس میں مودی کے لوگ عہدیدار ہیں۔ مودی کی انتہا پسندی سے اب پوری دنیا واقف ہو چکی ہے۔

گزشتہ دنوں گوگل کی مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے۔ آئی)پلیٹ فارم جمینی پر ایک سوال کے جواب میں انڈین وزیر اعظم مودی کو فاشسٹ کہا گیا ہے۔ بھارتی آئی ٹی کے وزیر راجیو چندر شیکھر نے اسے مودی کو بدنام کرنے کی کوشش کہا ہے۔

بھارتی حکومت گوگل کو نوٹس بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ جہاں بھارتی حکومت مصنوعی ذہانت پر متعصب ہونے کا الزام لگا رہی ہے وہیں بہت سے بھارتیوں کا کہنا ہے کہ انسان ضرور خطا کا پتلا ہے لیکن مصنوعی ذہانت عام طور پر درست معلومات فراہم کرتی ہے۔

ایک اور بھارتی صارف ابھیلاشا نے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انسان غلط ہو سکتا ہے لیکن اے۔آئی زیادہ تر صحیح ہوتا ہے یہ بات دراصل دنیا بھر میں مشہور ہے کہ مودی فاشسٹ پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں۔ اے۔آئی معروف بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا سے سیکھ کر علم حاصل کرتا ہے۔

امریکی معروف تاریخ دان الٹری ٹرشنکی نے دی ہندو کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جب بھی سچ سامنے آتا ہے خواہ اس کا ذریعہ کچھ بھی ہو اس کو بھارتی حکومت قبول نہیں کرتی جو حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ اس سے پتا چلا کہ مودی کو ضرور اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور خود کو درست کر لینا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔