برطانوی حکومت پاکستان کیساتھ ملکر کام جاری رکھے گی، سارہ مونی

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 2 مارچ 2024
برطانیہ پاکستان کا تیسرا سر فہرست تجارتی شراکت دار ہے، برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر۔ فوٹو: ویب

برطانیہ پاکستان کا تیسرا سر فہرست تجارتی شراکت دار ہے، برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر۔ فوٹو: ویب

کراچی: برطانیہ کی ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت پاکستان کیساتھ ملکر کام جاری رکھے گی۔

برطانیہ کی ڈپٹی ہائی کمشنر اور ڈائریکٹر آف ٹریڈ پاکستان، سارہ مونی نے برطانیہ کے 15رکنی تجارتی وفد کے دورہ پاکستان کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان کاروباری روابط وسیع کرنے کی غرض سے برطانوی ٹریڈ مشن پاکستان میں برطانوی کمپنیوں اور ممکنہ سپلائرز کے درمیان براہ راست رابطے قائم کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارت پہلے ہی متاثر کن شرح سے بڑھ رہی ہے، یہ وفد واضح طور پر اس کو بڑھانے میں دلچسپی، تجارت وسرمایہ کاری میں اضافے کے لیے آگے بڑھنے والے مواقع کا اظہار کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ کی حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی، ایسی تبدیلیوں کی حمایت کرے گی جو تجارت کو بہتر اور سب کے لیے آسان بناتی ہیں۔ مندوبین پاکستان کے کاروباری ماحول اور پاکستان سے درآمد کے لیے مخصوص مارکیٹ کی ضروریات کے بارے میں بصیرت حاصل کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کلائمیٹ فنانسنگ کیلئے پاکستان کی نئی حکومت کیساتھ مل کرکام کریں گے، برطانوی ہائی کمشنر

آئی ٹی سی ایک ایکسپورٹ ریڈی نیس ہینڈ بک اور دو ایکسپورٹ گائیڈز بھی متعارف کرے گا جو برطانیہ کی مارکیٹ تک رسائی میں معاون ثابت ہوگا، یہ بک انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں دستیاب ہے جس سے پاکستانی برآمدکنندگان کو برطانوی مارکیٹ کے رہنما خطوط کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔

سارہ مونی نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کا تیسرا سر فہرست تجارتی شراکت دار ہے، جس کی مجموعی تجارت 4.3پائونڈ ہے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا تیسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ برطانیہ کی ترقیاتی ممالک کی تجارتی اسکیم نے ٹیرف کو کم کرکے اور 94فیصد پاکستانی برآمدات کے لیے تجارتی شرائط کو آسان بنا کر برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارت کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے 15 کاروباری نمائندوں پر مشتمل یہ وفد ٹیکسٹائل، ایگری فوڈ، دستکاری اور گھر میں روابط بنانے کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔