جمہوری حکمرانی کے کمزور امکانات…ایک تجزیہ

سلمان عابد  اتوار 3 مارچ 2024
salmanabidpk@gmail.com

[email protected]

انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوا،حکومتی تشکیل کے مراحل بھی تقریباً مکمل ہوگئے ہیں۔ انتخابات کو سیاست او رجمہوری عمل کی کامیابی یا اس کی کنجی سمجھا جاتا ہے اور کہاجاتا ہے کہ انتخابات کا عمل ہم سب کو جمہوری بنیادوں پر آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ بہت سے سیاسی پنڈتوں اور حکمران جماعتوں کا یہ ہی موقف ہے کہ ہمیں بغیر کسی بحث میں الجھے بغیر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف جب پی ٹی آئی، جے یو آئی،سندھ میں جی ڈی اے اور بلوچستان قوم پرست جماعتوں کے قائدین انتخابی نتائج پر واویلہ کررہے ہوں تو ایسے میں جمہوریت کو بنیاد بنا کر مفاہمت کو آگے بڑھانے کا ایجنڈا کس طرح کارگر ہوگا۔

حالیہ انتخابات کے نتیجے میں سیاسی تناؤ، ٹکراؤ، محاذ آرائی اور کشیدگی میں کمی نہیں آئے گی بلکہ اضافہ ہوگا ۔ سیاسی لوگوں نے اپنے طرز عمل سے اپنا ہی نقصان کیا ہے اور سیاسی لوگوں کی سیاسی پوزیشن ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ کمزور ہوئی ہے۔

پاکستان میں جمہوریت کے عالمی معیارات درجہ بندی میں بھی نیچے آئی ہے۔دنیا بھر میں جمہوری نظا م کا جائزہ لینے والے عالمی ادارکے حالیہ رپورٹ جو ’’دی اکانومسٹ ‘‘ کے انٹیلی جنس یونٹ پر مبنی ہے جن میں پاکستان سمیت دنیا کے 150ممالک کا جائزہ لیا گیا ۔ گز شتہ برس اسی ادارے کی رپورٹ ’’ دی اکانومسٹ ‘‘ میں پاکستان کے جمہوری نظام کی درجہ بندی 105پر تھی۔ تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان درجہ بندی میں 118نمبر پر آگیا ہے۔

اس رپورٹ میں امریکا ، بھارت، برازیل اور انڈونیشیا جیسے ممالک کو فلاڈ جمہوریت قرار دیا گیا ہے۔ فلاڈ جمہوریت سے مراد وہ نظام ہے جہاں انتخابات تو صاف و شفاف ہوتے ہیں لیکن وہاں موجود جمہوری نظام میں مسائل پیدا ہوتے ہیں جیسے کہ میڈیا پر دباؤ ، نظام میں موجود کمزوریاں اور لوگوں کی سیاسی نظام میں دلچسپی میں کمی کو نمایاں کرتا ہے ۔اسی فہرست میں بھارت کا رینک 41واں ہے ۔دی اکانومسٹ نے ناروے ، نیوزی لینڈ اور آئس لینڈ کو جمہوری ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ رپورٹ کی تشکیل میں شہری آزادی ، انتخابی نظام اور سیاسی کلچراو راس میں مختلف سوچ کے لوگوں کی شرکت کی گنجائش جیسے عوامل کا جائزہ لیاگیا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ آمرانہ طرز حکمرانی یا اتھاریٹیرین حکمرانی ‘‘ سے کیا مراد ہے ۔یاد رہے کہ جمہوریت کے انڈیکس 2023کے مطابق پاکستان وہ واحد ملک ہے جسے ہائبرڈ کی فہرست سے نکال کر اتھارٹیرین یعنی آمرانہ نظام کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

پاکستان میں پی ٹی آئی بطور جماعت الیکشن سے باہر ہوگئی ، اسے اپنے امیدواروں مختلف انتخابی نشانوں کے ساتھ بطور آزاد امیدوار کھڑا کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے وکلاء سپریم کورٹ کے سامنے پارٹی انتخابات کی قانونی حیثیت ثابت نہیں کرسکے ، یوں انھیں اپنے انتخابی نشان سے محروم ہونا پڑا۔

پی ٹی آئی اور حامیوں نے ان ایشوز بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن اور دیگر ریاستی اداروں پر جانبداری کے الزامات عائد کرنا شروع کیے کہ ان پر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی، پارٹی کے لوگوں کو اپنی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا ہے ، پارٹی سے انتخابی نشان واپس لیا گیا اور انتخابی مہم سے روکا گیا ۔

ہماری ریاستی او رحکومتی نظام سے جڑے افراد اس دی اکانومسٹ کی رپورٹ کو درست قرار نہیں دیں گے اور ان کا اس رپورٹ کے مقابلے میں ایک متبادل نقطہ نظر ہوگا ۔یقینی طور پر ہمارے جیسے ممالک دیگر دنیا کے ممالک کے مقابلے میں ہمیشہ زیادہ تنقید کی زد میں رہتے ہیں او رہمیں ایک خاص مقصد کی بنیاد پر بھی نشانہ بنایاجاتا ہے لیکن ایک بات سے ہمیں کسی بھی صورت نظریں نہیں چرانی چاہیے کہ ساری باتیں غلط بھی نہیں ہیں۔

پاکستان کے جمہوری نظام پر تنقید پہلے بھی ہوتی تھی او راب زیادہ ہورہی ہے اور اس کی وجہ یقینی طور پر ہمارا کمزور سیاسی و جمہوری نظام ہے جو نہ صرف عالمی سطح پر تنقید کی زد میں ہے بلکہ داخلی محاذ پر بھی علمی و فکری لوگوں میں جمہوری نظام پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات موجود ہیں او ریہ بحث کئی حوالوں سے کی جارہی ہے کہ ہم جمہوریت کی بنیاد پر کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جانا چاہتے ہیں ۔

بنیادی طور پر ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ کیا واقعی ہماری سیاسی ترجیحات میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانا ہے یا ہم محض جمہوریت کا ہی نام لے کر ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جو جمہوریت کے برعکس ہوگا۔ آج کی دنیا میں جو ہمارا سیاسی او رجمہوری تشخص ہے وہ فرد کی آزادی کو نظر انداز کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

یہ کہنا کہ ہم لوگوں کو طاقت کی بنیاد پر اپنی سوچ اور فکر پر محکوم بناسکتے ہیں ، ممکن نہیں ہوگا ۔یہ کام محض ہمیں ریاستی یا حکومتی سطح پر ہی نہیں درکار بلکہ سیاسی نظام سے جڑی سیاسی جماعتیں اور دیگر فریقین کو بھی اپنے اپنے داخلی محاذ پر جمہوری رویوں ، فکر اور سوچ سمیت جمہوری ڈھانچوں کو مضبوط اور خود مختار بنانا ہوگا۔

نظام میں جو بھی ریاستی ، سماجی، معاشی، قانونی، اخلاقی یا دینی نظام کی بنیاد پر سوچ اور فکر کی بنیاد پر متبادل آوازیں اٹھ رہی ہیں یا پہلے سے موجود سوچ اور فکر کو چیلنج کیا جارہا ہے تو اس پر نالاں ہونے یا ان پر بغاوت یا ملک دشمنی جیسے القابات نوازنے کے بجائے اس پر مکالمہ کیا جائے اور ان متبادل آوازوں کاعلمی اور فکری بنیادوں پر جواب دیا جائے۔

آج دنیا میں انسانی حقوق، محروم طبقات کی پاسداری ، آزادانہ اظہار رائے کی اہمیت ہے او راسی بنیاد پر عالمی دنیا ہمارے جیسے ملکوں کی درجہ بندی کرتی ہے جن میں عورتوں ، اقلیتوں ، کسانوں ،مزدوروں ، معذوروں، خواجہ سراوں اور نوجوان طبقات شامل ہیں۔

آمرانہ طرز عمل، جمہوری حکمرانی کے مقابلے میں غیر جمہوری مناظر، طاقت کا استعمال او رمخالفین کو دبا کرآگے بڑھنے کی روش کی کہیں بھی قبولیت نہیں اس لیے اگر واقعی ہم نے خود ایک منصفانہ اور جمہوری معاشرے کے طور پر داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پرچلنا ہے تو ہمیں ہر محاذ پر بہت کچھ تبدیل کرنا ہے لیکن پہلے ہمیں اس امر کا اعتراف کرنا ہوگا کہ یہاں ریاستی ، حکومتی ، ادار ہ جاتی اور معاشرے کے طاقتور طبقہ میں جمہوریت کو’’ بطور ہتھیار ‘‘ استعمال کیا جاتا ہے جو جمہوری سوچ کے برعکس ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔