ایودھیا کی کہانی  (دوسرا اور آخری حصہ)

سعد اللہ جان برق  اتوار 3 مارچ 2024
barq@email.com

[email protected]

قدیم ایرانیوں کی مذہبی کتاب ’’اوویستا‘‘ میں ایسی سولہ زمینوں کا ذکرہے جو اچھے لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں جب کہ ان کے مقابل سولہ بُرے لوگوں کی بُری زمینیں پیدا کی ہیں۔

محققین نے ان زمینوں کو آج کے جغرافیے میں تلاش کرکے جس علاقے کا تعین کیا ہے وہ بحیرہ کیسپین سے لے کر ست سندھو یا سات دریا کی سرزمین تک کا علاقہ بنتا ہے ۔ اس خطے میں آریا اور اساک یا اسور اور دیو ایک دوسرے سے برسرپیکار رہے ہیں ، جن تین کہانیوں کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ بھی دراصل ایک ہی کہانی ہے لیکن ایک دوسرے سے بہت دور دور جاکر اس کہانی میں کمی بیشی کی گئی ہے، یوں کئی مختلف کہانیاں بن گئیں لیکن اصل میں ایک ہی ہے۔

اس میں ذکر شدہ استعاراتی کردار حقیقی نہیں بلکہ دو دشمن گروہوں کے درمیان دشمنی اور کش مکش کی کہانی ہے۔ ’’بیاہتا بیوی‘‘ چھینے کے استعارے کا مطلب جائز حکمران سے حکمرانی چھیننا یا تخت پرقبضہ کرنا ہے، اس جائز ’’حق حکمرانی‘‘ کو ایرانی نوشتوں میں ’’ہواونہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، پنجاب یونیورسٹی کی شایع کردہ اسلامی انسائیکلو پیڈیا’’دائرۃ المعارف اسلامی‘‘ میں لفظ ہوارنہ کے تحت بہت سارے علماء کی آراء جمع کی گئی ہیں اور سب کا یہی کہنا ہے کہ ہوارنہ یا ورانہ حق سلطنت کو کہاجاتا ہے۔

چنانچہ کہا گیا ہے کہ’’ہوارنہ‘‘ سب سے پہلے’’ یاما‘‘ یا جمشید کو عطا کیا گیا تھا لیکن اس سے یہ ’’ہوارنہ‘‘ ضحاک نامی ایک برے کردار نے چھین لیا تھا، پھر ضحاک سے یہ’’ہوارنہ‘‘ ایک جمشیدی شہزادے ترئیونا(فریدون) نے واپس لے لیا۔اس ہوارنہ کو بعد میں’’فر‘‘اور یہ بادشاہوں کا خطاب بھی ہے جیسے جمشیدفر،خسروفر،علی فر،ہمایوں فر،بعد میں یہ محترم لوگوں کے لیے عام ہوگیا۔ہندیوں کے ہاں اسے’’ور‘‘کہا گیا ہے اور دیوتاؤں کی طرف سے عطاکردہ چیزوں کو ور یا وردان کہتے ہیں، مطلب کہ آسمان سے عطا کردہ ہر چیز کو’’ور‘‘کہا جاتا ہے۔

ورشا(بارش) کو کہتے ہیں اور خلا کا دیوتا بھی’’ورون‘‘ ہے، مطلب ہے ورشا یا صاف پانی دینے والا ، پشتو میں بارش کو ورشت وریدل وریدنہ کہتے ہیں، بعد میں اس(و) کو(ب) سے بدل گیا اور برسنا،برسات اور باران ہوگیا۔سنسکرت میں اب ’’ور‘‘احترام کے لیے بولا جاتا ہے جیسے ور،رشی ور،منی ور۔اور یہی ور یا فر یا بر ہی ’’ہوارنہ‘‘ہوتا ہے۔اور دونوں گروہ اساک اور آریا اس کے دعوے دار ہیںکہ’’ ور‘‘ یا ’’ہوارنہ‘‘ ہمارے پاس ہے۔اور تینوں کہانیوں کی ہیروئن کوئی عورت نہیں بلکہ سلطنت یا حق سلطنت ہے۔جو راون ، رام سے چھین کر لے گیا۔تورابان، بہرام سے چھین کر لے گیا اور مپرس، اگامنوں سے لے گیا۔دوسرے الفاظ میں حکومت پر قبضہ کرلیا۔

جائز حکمرانوں یا شوہر نے اسے بازیاب کیا۔رام کی کہانی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا پس منظر سوات اور خیبرپختون خوا ہے۔کیونکہ ہند کا ایودھیا یا اودھ بعد میں پیدا ہوئے ہیں ،سب سے قدیم زمانوں میں سوات کا نام’’اودیانہ‘‘ تاریخ کی کتابوں میں آیا ہے اور تاریخ یہ گواہی بھی دیتی ہے کہ قدیم زمانوں میں یہ خطہ نہایت پرامن جنگ وجدل سے پاک اور نہایت ہی نرم خو لوگوں کا خطہ رہاہے۔بونیر کے پہاڑوں میں اب بھی ایک مقام کو رام جنم بھومی کہاجاتا ہے، ’’بنوں‘‘ کے نواح میں دو گاؤں اب بھی بھرت اور ککی کے نام سے موجود ہیں۔

ککی یا کیکئی’’ رام ‘‘کی وہ سوتیلی ماں تھی جس نے اپنے شوہر کو ایک پرانے وچن سے مجبور کرکے رام کو بن باس یا ون واس بھجوایا یا جلاوطن کرایا تھا اور اپنے سگے بیٹے ’’بھرت‘‘ کو راجہ بنوایا تھا اور’’بنوں‘‘تو صاف صاف بن یا ون کی جمع ہے۔’’بن‘‘بھی دراصل پشتو لفظ’’ونہ‘‘ کی جمع ہے جو پیڑ کو کہتے ہیں اور پیڑوں کی جمع ون یا بن۔اور پھر’’بنوں‘‘۔رام کی ماں کا نام کوشیلیا تھا اور پشتو میں خوبصورت کو’’کشولے‘‘کشیلا‘‘ کہتے ہیں، یہی لفظ کش فارسی میں جاکر خوش، خوشی اور خوشحال بن گیا ہے۔

اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر یہ کہانی استعاراتی اور تمثیلی ہے اور سیتا،گل اندام اور ہیلن حقیقت میں ’’عورتیں‘‘ یا دیویاں نہیں ہیں بلکہ اقتدار یا حکومت کا استعارہ ہیں۔ رام، بہرام اور اگامعموں جائز حکمران جب کہ راون،ضحاک ،ترابان اور پیمرس غاصب ، خانہ بدوش وحشی ہیں تو پھر سوات، بنوں اور خیبر پختون خوا کے نام اور الفاظ اس میں کہاں سے اور کیوں آئے جب کہانی تمثیلی اور وسطی ایشیا میں ہونے والی آریاؤں اور اساکوں کی کش مکش کا استعارہ ہے تو ایسا کیوں؟تو اس کے لیے ہمیں تاریخ میں جھانکنا ہوگا۔

ہند میں آنے والے خانہ بدوش قبائل جنھیں ’’آریا‘‘مشہور کیا گیا ہے، اصل میں اساک خانہ بدوش تھے جنھیں ایرانیوں نے تورانی، یونانیوں نے سیتھین اور ہندیوں نے کشتری کانام دیا ہے، کہیں’’ دیو‘‘ کہا ہے۔خیر جب یہ خانہ بدوش شمالی ہند جو وسط ایشیا کا جنوب ہے، میں وارد ہوئے تو اس سرسبز وشاداب سرزمین میں آسودہ ہوگئے تو ان آریائی لوگوں میں سے ’’ برھمن‘‘ طبقہ بھی ابھرنا شروع ہو گیا۔براھمن پہلے پہل شمالی ہند کی سرحدی زمین بلکہ ’’گندھارا‘‘ میں ابھرے ، یہاں کافی عرصہ رہے، ٹیکسلا میں ایک یونیورسٹی بنائی اور یہیں پر بیٹھ کر یہ کہانیاں لکھی گئیںیا تصنیف کی گئیں اور اس میں یہیں کے نام اور الفاظ یا مقامات استعمال کیے گئے۔

خلاصہ اس ساری بحث کا یہ ہے کہ اصل کہانی تو وسطی ایشیا میں دو گروہوں کی جنگوں پر مبنی ہے۔لیکن برھمنوں نے اس میں نام اور مقام یہاں کے ڈالے جس طرح ایرانیوں اور یونانیوں نے اپنے اپنے نام ڈالے ہوئے ہیں۔ لفظ’برھمن‘‘ بہت ہی تفصیل طلب نام ہے، اس لیے اس پر کبھی الگ سے تفصیلی روشنی ڈالیں گے یہاں صرف پروفیسر محمد مجیب کی کتاب تاریخ تمدن ہند کا یہ جملہ کافی ہے۔کہ ہند کے برہمن دراصل ساکوستان اور بلخ وباختر کے ’’مغ‘‘ اور’’مہر‘‘ تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔