خون میں لتھڑا غزہ کس کس کو لے ڈُوبے گا؟

تنویر قیصر شاہد  پير 4 مارچ 2024
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

’’غزہ پٹّی کی سرحد، رفح، پر کھڑے ہو کر ، مصر کی جانب، مَیں نے دیکھا کہ سیکڑوں ٹرک اور ٹرالے کھڑے ہیں ۔ یہ سب سامانِ خورو نوش اور ضروریاتِ زندگی سے لدے پھندے ہیں۔ اِن میں کئی ایسے ٹرک ہیں جو پاکستان سمیت عالمِ اسلام کی جانب سے غزہ کے مکینوں کے لیے بھیجی گئی امداد سے بھرے ہیں اور کئی ایسے ہیں جو مغربی دُنیا اور یو این او کی طرف سے آئے ہیں ۔ سب ٹرک اور ٹرالے رفح کا تنگ سا بارڈر کراس کرکے غزہ کے اندر اور رفح سرحد کے ساتھ ایستادہ خیموں میں پناہ گیر مظلوم اور نہائت ضرورت مند اہلِ غزہ تک فوری طور پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی انتظامیہ مگر یزیدی رویہ اختیار کرتے ہُوئے ان سیکڑوں منتظر ٹرکوں کو رفح کراس کرکے غزہ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہی ۔ یہاں ، مصر ، اُردن اور مغربی کنارے میں سب کے لبوں پر یہی الفاظ ہیں کہ اگر قابض و غاصب اسرائیل نے اِن ٹرکوں کو اندر جانے کی اجازت نہ دی تو کم از کم 6لاکھ غزہ کے مکین بھوک ، پیاس اور موسم کی شدت سے موت کے میں چلے جائیں گے ۔‘‘

اسرائیل نے یہ چھ لاکھ افراد دھکیل کر رفح کی تنگ سی سرحد پر اکٹھے کر دیے ہیں ۔ یہ مجبور افراد یہاں سکڑے پڑے ہیں ۔ یہ الفاظ عالمی شہرت یافتہ رفاحی و امدادی ادارے، المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ، کے چیئرمین جناب عبدالرزاق ساجد کے ہیں ۔ ساجد صاحب چند دن قبل ہی ’’غزہ‘‘ کے مظلوم مکینوں کے لیے اشیائے ضرورت کا سامان لے کر رفح بارڈر پر پہنچے تھے ۔ جب سے اسرائیل ، حماس کی نئی جنگ شروع ہُوئی ہے، وہ اِن چار مہینوں میں کئی بارAMWTکی طرف سے سامانِ خورونوش ، خیمے اور ادویات لے کر ’’غزہ‘‘ پہنچے ہیں ۔

سامان کی آگے ترسیل کے لیے انھیں مقامی و بین الاقوامی این جی اوز کا تعاون حاصل کرنا پڑا ہے ۔ عبدالرزاق ساجد صاحب نے مجھے بتایا :’’ چونکہ غزہ تک براہِ راست پہنچنا مشکل ترین عمل ہے، اس لیے مجھے اور میرے ادارے کے مقامی وابستگان کو مصراور اُردن کے  راستے اختیار کرنا پڑے ہیں ۔

مطلوبہ سامان بھی ہم اِنہی ممالک سے خرید رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر دل دکھ سے بھر جاتا ہے کہ اہلِ غزہ اِس وقت شدید قحط کی کیفیات سے گزر رہے ہیں ، مگر عالمِ اسلام کے حکمران اپنے مشاغل میں مگن ہیں۔ اب جب کہ رمضان شریف کی بھی آمد آمد ہے، ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسرائیلی مظالم میں زندگی بتانے والے اہلِ غزہ کس قسم کے حالات میں سحری اور افطار کریں گے۔‘‘

عبدالرزاق ساجد نے مجھے بتایا: ’’رمضان شریف کے حوالے سے ،اہلِ غزہ کے نہائت ضرورت مند فلسطینیوں کے لیے، المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل نے لاکھوں پونڈز کا خصوصی پیکیج تیار کیا ہے ۔

برطانوی مسلمانوں اور برطانوی شہریوں نے اِس سلسلے میں ایک بار پھر دل کھول کر عطیات دیے ہیں ۔ بقول ساجد صاحب: برطانوی مساجد نے اِس ضمن میں بنیادی کردار ادا کیا ہے جس کی تحسین کی جانی چاہیے ‘‘۔

وہ پُر عزم لہجے میں کہتے ہیں:’’ اگر اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی ہو جاتی ہے تو ہم ادارئہ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے غزہ کی تعمیرِ نَو میں بھی اپنا مقدور بھر حصہ ڈالیں گے۔ انشاء اللہ۔ کوشش اور نیت یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد ہم غزہ کے چند خاندان کا فوری انتخاب کریں اور اُن کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیرِ نَو کا کام شروع کر دیں تاکہ آنے والا موسمِ گرما اُن کے لیے قیامت خیز نہ بن جائے ۔‘‘

المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین نے مصر اور اُردن میں جو تازہ ایام گزارے ہیں، اُن کے مشاہدات خاصے پریشان کن ہیں ۔ عبدالرزاق ساجد بتاتے ہیں: ’’ حماس اور اسرائیل کی یہ جنگ صرف غزہ تک نہیں رہ گئی۔

اِس کے منفی اور تباہ کن اثرات نے مصر، اُردن اور شام کی معیشت کے ساتھ بحیرئہ احمر کی تجارت کو بھی شدید متاثر کیا ہے ۔مصر کے قرضے گلے تک پہنچ گئے ہیں۔ مصری کرنسی میں تباہ کن زوال آچکا ہے ۔ مصری معیشت میں نہر سویز سے گزرنے والے عالمی تجارت کے حامل بحری جہازوں سے حاصل ہونے والے ریونیوکا بڑا کردار ہے۔ غزہ کی جنگ کی وجہ سے یہ جہاز اب کم ہو گئے ہیں اور یوں مصری قومی یافت میں 60فیصد کمی واقع ہُوئی ہے ۔

فارن کرنسی کمانے کا ایک زریعہ بھی رک گیا ہے۔ مصری معیشت میں ٹورزم بھی اساسی کردار ادا کرتی ہے۔ 2022-23 کے مالی سال میں مصر نے اپنی ٹورزم انڈسٹری سے 14ارب ڈالر کمائے تھے ۔ اور اب غزہ کی جنگ کے کارن یہ کمائی تقریباً 50فیصد کم ہو گئی ہے ۔ مصر کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں‘‘ ۔

ساجد صاحب فلسطین کے ہمسایہ میں واقع ملک، اُردن، بھی گئے۔اُردن ہی سے انھیں غزہ کے مظلوم مکینوں کے لیے اشیائے خورونوش، میڈیکل آلات، ادویات اور چند ایمبولینسیں بھی خریدنا تھیں۔ بقول ساجد صاحب،اُردن مقدور بھر مظلوم و زخمی فلسطینیوں کے لیے سہارا تو بن رہا ہے لیکن اسرائیلی اور امریکی دباؤ بھی ہیں؛ چنانچہ اُردن کو بڑی حکمت کے ساتھ غزہ کے ضرورتمندوں کا ہاتھ تھامنا پڑ رہا ہے۔

غزہ ، اسرائیل کی جنگ کے کارن اُردن میں بے روزگاری کی شرح 27فیصد تک پہنچ گئی ہے۔جناب عبدالرزاق ساجد نے مصر، غزہ اور اُردن کے حالیہ دَورے کے نتیجے میں اپنے براہِ راست قیمتی مشاہدات و تاثرات ہم سے شیئر کرتے ہُوئے بتایا:’’ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غزہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ اور اسرائیلی مظالم صرف فلسطینی اور اہلِ غزہ کی تباہی و بربادی کا باعث بن رہے ہیں، غلط فہمی کا شکار ہیں۔

انھیں معلوم ہی نہیں ہے کہ غزہ کی جنگ کس شدت سے ہمسایہ ممالک کو بھی تیزی سے متاثر کررہی ہے۔ اُردن بھی اِنہی متا ثرہ ممالک میں شامل ہے۔ اُردن کے ساتھ تو اسرائیل کے سفارتی و تجارتی تعلقات بھی ہیں اور یہ تعلقات خاصے بہتر ہیں، اس لیے اسرائیل بارے لب کشائی کرتے ہُوئے اُردنی حکومت اور اُردنی شہری خاصے محتاط واقع ہو رہے ہیں‘‘ ۔

عالمی فلاحی تنظیمAMWT کے چیئرمین اور خدمت گزار جناب ساجد مزید بتاتے ہیں: ’’اُردنی حکومت کو غزہ جنگ کے پھیلتے سایوں سے کئی خوف لاحق ہیں۔ مثال کے طور پر اُردنی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر غزہ جنگ نہ رُکی تو خطّے میں حماس کی مقبولیت میں اضافہ بھی ہوگا اور اِس گروپ کے حامیوں کو مزید جرأتیں ملیں گی، خاص طور پر اُن اُردنی شہریوں کو جو نسلی اعتبار سے فلسطینی ہیں۔

اِس بات کا بھی خدشہ پایا جاتا ہے کہ حماس لیڈرشپ اُردنی قبائل کو اسرائیل کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ اُردن میں اگست2024میں پارلیمانی انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔ اُردنی حکومت کو یہ بھی خوف لاحق ہے کہ اگر غزہ، اسرائیل جنگ ختم نہ ہُوئی تو اُردن میں ’’اسلامک ایکشن فرنٹ‘‘ ایسی طاقتور مذہبی سیاسی جماعتیں پارلیمانی انتخابات جیت سکتی ہیں ۔ اور یہ کسی بھی طرح اُردن کے شاہی اقتدار کے لیے اچھا شگون نہیں ہوگا۔

اُردن کے حکمران ، شاہ عبداللہ دوم، نے ملک میں بہترین سیاسی اصلاحات تو کی ہیں مگر وہ نہیں چاہیں گے کہ سیاسی جماعتیں الیکشن میں بھاری اکثریت سے فتح یاب ہو کر شاہی اقتدار سے زیادہ طاقتور ہو جائیں ؛ چنانچہ یہ خیال بھی روز افزوں ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بندی نہیں ہوتی تو اگست میں اُردن کے انتخابات کو چندماہ کے لیے ملتوی کر دیا جائے ‘‘۔اسرائیل دانستہ ’’غزہ‘‘ میں جنگ نہ روک کر ہمسایہ ممالک کے لیے مہیب مسائل پیدا کررہا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔