سب جانتے ہیں سائفر کی کاپی جان بوجھ کر عالمی میڈیا میں پبلش کرائی گئی، بلاول

ویب ڈیسک  پير 4 مارچ 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے گالم گلوچ نہیں، بات چیت کرنی ہوگی۔ خواہ مفاہمت ہو یا چارٹر آف اکانومی ہمیں بات کرنی چاہیے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا انگریزی کہاوت ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ میں اپنے خاندان کا تیسری نسل کا نمائندہ ہوں جو اس ایوان میں منتخب ہوا ہوں ۔ اس بلڈنگ میں داخل ہوں تو فاؤنڈیشن اسٹون پر شہید ذوالفقار بھٹو کا نام کندہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مدر آف انسٹی ٹیوشن ہے۔ اس جمہوری ادارے کو طاقت ور بنا کر ہم اپنے آپ کو اور پاکستان کے عوام کو مضبوط بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو کمزور کر کے ہم نہ صرف آپنے آپ کو بلکہ جمہوریت کو کمزور کریں گے۔ وہ ہمارے بزرگ جو چھ چھ دفعہ اس ایوان میں آ چکے ہیں، وہ اچھی روایتیں پیدا کریں ۔ ایسی روایات کہ آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ جب اگلے ممبرز آئیں تو وہ ہمیں دعائیں دیں، نہ کہ گالیاں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اس وقت ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہم اس وقت ہم ایک خطرناک مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔ملک اس وقت معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ اس الیکشن میں عوام نے ووٹ اس لیے ڈالا کہ اس ملک کو معاشی بحران سے نکالا جائے۔ وزیر اعظم صاحب نے اپنی تقریر میں اپنے منصوبوں پر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کہہ رہے ہیں کہ ان کی تقریر پی ٹی وی پر نہیں دکھائی جائے گی۔ یہ روایت بانی پی ٹی آئی نے ڈالی تھی، ہمیں یہ برقرار نہیں رکھنی چاہیے۔ یہاں احتجاج کے نام پر گالیاں دینے سے عوام مایوس ہوں گے۔ آپ کو ووٹ صرف اس لیے نہیں ملے کہ یہاں آکر گالیاں دیں۔ ہمیں سیاست کے ضابطہ اخلاق بنانا ہوں گے۔ چاہے مفاہمت ہو یا چارٹر آف اکانومی ہمیں بات کرنی چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مینڈیٹ تقسیم ہو جانے کی وجہ سے ایک جماعت فیصلہ نہیں کر سکتی۔ عوام نے ووٹ صرف اس لیے دیا ہے کہ معاشی بحران سے بچایا جائے۔ اگر ہمارے ساتھی کل احتجاج نہ کررہے ہوتے تو وزیراعظم کی تقریر سنتے۔ وزیراعظم نے جو نکات اٹھائے ان پر عمل ہوا تو بحران ختم ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے قائد حزب اختلاف عمر ایوب اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو منتخب ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان ہم سب کا ہے، جمہوری ادارے کو طاقت ور بنائیں گے تو عوام کو طاقت ور بنائیں گے۔ ادارے کو کمزور کرتے ہیں تو وفاق اور نظام کو کمزور کرتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس ملک میں ہم نے کچھ ایسے فیصلے کیے جس سے آج پاکستان کے عوام مشکل میں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اگر ہم سب مل کر بیٹھیں ، وزیر اعظم کو اپنی ان پٹ دیں تو وہ بہتر فیصلے کر پائیں گے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ میں وزیر اعظم کو نہیں مانتا پھر ہم اس پر تنقید کا بھی حق نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے منشور پر الیکشن لڑے ہیں۔ عمر ایوب صاحب کو اتنا اپنے منشور کے بارے نہیں پتا ہو گا جتنا میں اپنے منشور کے بارے میں جانتا ہوں۔وزیر اعظم نے گزشتہ روز پاکستان کی معاشی مشکلات پر بات کی۔ دو پہلو ایسے ہیں جن پر بات کر کے ہم شارٹ فال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم پر سال 2013 سے 2018 اور اس کے بعد من و عن عمل نہیں کیا گیا ۔ 18 وزارتیں ایسی ہیں جنہیں 2015 میں ڈیزالو ہو جانا چاہیے تھا۔ان پر جو اخراجات ہوئے ان سے خسارہ پورا کیا جا سکتا تھا ۔ اب موقع ہے کہ شہباز شریف صاحب انقلابی اقدامات کریں اور وہ کچھ وزارتیں فوری ختم کر سکتے ہیں اور کچھ وقفے وقفے سے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم جوڈیشل ریفارمز اور الیکشن ریفارمز کریں۔ میں اپوزیشن سے بھی گزارش کروں گا کہ ان دو ایشوز پر ہمارا ساتھ دیں اور اگر ہم ایسا کر گزرتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت جمہوریت کو کمزور نہیں کر سکتی۔ ہم جب اپوزیشن میں تھے اور ایسی باتیں کرتے تھے تو ہم پر طنز ہوتا تھا ۔مگر ہم ایسا نہیں کریں گے۔آج یہ فارم 47 کی بات کر رہے ہیں ، ہم تب یہ کہ رہے تھے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس پر فل سٹاپ لگے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بات کلیئر ہو شہباز شریف صاحب الیکشن جیتے یا قیدی نمبر 804، شہباز شریف بھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے مینڈیٹ پر شک ہو ۔ عمران خان جیسے نہیں چاہتے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب تیسری دفعہ اس ایوان میں پہنچیں تو یہی باتیں دہرائی جائیں۔ سائفر پر بات ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کا تذکرہ کیا گیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ میرے سینے میں بھی راز ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں اس ملک کا وزیر خارجہ رہا ہوں۔ عمر ایوب صحیح کہہ رہے ہیں کہ ایک کاپی وزارت خارجہ میں ہوتی ہے۔ کل قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اس کی ذمے دار بیورو کریسی ہے۔ اگر عمران خان خود نہ کہتے کہ یہ کاپی مجھ سے گم ہوگئی ہے۔ یہ کاپی اگر دشمن کے ہاتھ لگ جائے تو اس پر جو کوڈ ہوتا ہے اس سے دشمن پرانے تمام سائفر تک رسائی پا سکتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جان بوجھ کر کسی نے اس سائفر کی کاپی کو انٹرنیشنل میڈیا میں پبلش کرایا۔ اس بات کی مذمت بھی بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق اس پر جو بھی سزا بنتی ہے وہ ہونی چاہیے۔ آئین تو ہم سب کے لیے ہے۔ اگر میں اس آئین سے انحراف کرتا ہوں تو مجھے سزا دلائیں ۔ اگر دوسری طرف سے ایسا ہوتا ہے تو اس پر بھی سزا ہونی چاہیے۔ اگر یہ ہم ہر جمہوریت کی بات کریں گے تو میں تو یہی کہوں گا کہ ہو دا ہیل آر یو ٹو ٹاک لائک دیٹ۔میں اس ہستی کا نواسا ہوں جس نے اپنی جان تو قربان کر دی لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔ یہ لوگ ہمیں لیکچر نہ دیں۔

اس دوران ایوان میں سنی اتحاد کے اراکین نے گو زرداری گو کے نعرے لگانا شروع کردیے۔ بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے احتجاج کیا، جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان بلاول اور ن لیگ کے ارکان شہباز شریف کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اپوزیشن کے احتجاج کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر جاری رکھی۔

اس موقع پر سنی اتحاد کونسل کے ایم این اے اور پی پی کے آغا رفیع اللہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اسپیکر ایاز صادق نے سنی اتحاد کونسل کے اراکین کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی جب کہ اپوزیشن ارکان گو زرداری کے نعرے لگاتے رہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف ان کی نشست پر پہنچ گئے اور اچھی تقریر کرنے پر انہیں مبارک دی اور مصافحہ کیا۔ بعد ازاں Who the hell are you کوکارروائی سے حذف کر دیا گیا۔ جس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں بھی چاہتا ہوں اس کوُ کارروائی سے حذف کریں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اندیشوں اور خدشات کے باوجود اپوزیشن جمہوری عمل کا حصہ بنی، ان کے خدشات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جوڈیشل انکوائری کرائیں پچھلے کچھ عرصے سے سیاست کو مداخلت کی شکایت رہی ہے، اگر یہ بات ہی نہیں سننا چاہتے ان کے حق میں بات کر رہا ہوں پھر بھی ناراض ہو رہے ہیں آپ نے کہا کہ ہماری شناخت فارم 47 ہے ہماری شناخت 1947ء ہے ہمارے پاس فارم 45 موجود ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ نیتوں کا بحران ہے بڑے لوگ ٹیکس نہیں دیتے تجارتی خسارہ اس وقت خطرناک صورتحال اختیار کرگیا ہے اور اگلے 20 سے 25 سال میں اس کو درست کرنے کے کوئی امکانات نظر نہیں آتے ہمیں ڈر ہے کہ پاکستان فائننشل بینک رپٹ نہ ہو جائے پاکستان مورل کرپٹ تو پہلے ہی ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو چار روز سے اس ایوان میں ہو رہا ہے یہ 2018ء کی اسمبلی میں بھی ہوتا رہا ہے جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے یہ شور مداخلت کو دعوت دے رہی ہے بلاول بھٹو زرداری نے 18ویں ترمیم کی بات کی پہلے صوبے ڈیوولوشن کریں جس طرح 2018 میں ان کو جتوایا گیا اسی طرح ان کو ہروایا گیا ہے جس نے جتوایا تھا انہوں نے ہی ہروا دیا کیا 2018ء میں آپ لوگ جیتے تھے؟

خالد مقبول نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں آپس میں نہ بیٹھیں تو ہمیں پھر گھر بھیج دیا جائے گا اور جمہوریت ڈی ریل ہو جائے گی۔

اس ایوان پر سب کا حق ہے کیا اپوزیشن والوں کے حقوق دوسروں سے کم ہیں، بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر نے تقریر شروع کی اور بلاول پر تنقید کی تو پیپلزپارٹی کی خواتین کھڑی ہوگئیں اور شور شرابہ شروع ہوگیا۔ سابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے مائک مانگ لیا تو ڈپٹی اسپیکر نے انہیں مائیک دے دیا اور کہا کہ راجہ پرویز سابق وزیراعظم ہیں انہیں بات کرنے دی جائے تاہم انہیں مائیک دیے جانے پر سنی اتحاد کونسل نے ہنگامہ کردیا اور شیر افضل مروت ایک بار پھر اسپیکر ڈائس کے آگے آگئے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہمیں ایوان کا ماحول بہتر کرنا ہے، ہم سب ایک ہیں ہمیں اگر ذاتیات پر حملے کرنے ہے تو ایوان کا ماحول بہتر نہیں ہوگا، بیرسٹر گوہر صاحب آپ سے اپیل ہے آپ سمجھ دار انسان ہیں نئے انے والے ممبران کو تھوڑی تربیت دیں۔

اس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمیں درس دینے والے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے، ہمارے وزیر اعظم کے امیدوار کو ٹی وی پر وقت نہیں دیا گیا۔

انہوں ںے کہا کہ اس ایوان پر سب کا حق ہے کیا اپوزیشن والوں کے حقوق دوسروں سے کم ہیں؟ یہ لوگ شفافیت کا دعوی کس منہ سے کرتے ہیں جنھوں نے سب سے پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشین ختم کی، آج یہ نہیں مانا جا رہا کہ الحکومت اور اپوزیشن ایک جیسے ہیں، ہم چاہتے ہیں ہمیں برابری کا وقت دیا جائے، ہم نہیں مانتے کہ یہ لوگ حکومت کے حق دار ہیں ہم قومی مفاد پر ایک ہیں لیکن ہمارے حقوق دینا ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔