اچھرہ میں خاتون کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے گمنام ہیروز میں مسیحی شہری بھی شامل

سید مشرف شاہ  پير 4 مارچ 2024
فوٹو ایکسپریس

فوٹو ایکسپریس

اچھرہ بازار میں خاتون کو توہین رسالت کے الزام میں مذہبی جنونیوں کے ہجوم سے بچانے والی اے ایس پی گلبرگ لاہور شہر بانو نقوی کو تو ہر طرف سراہا جارہا ہے مگر کچھ گمنام ہیروز کا کچھ ذکر نہیں جنہوں نے خاتون کی زندگی کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان گمنام ہیروز میں ایک مسیحی دکاندار اور دوسیلز مین بھی شامل ہیں، جنہوں نے پولیس کے پہنچنے سے قبل اپنی جانیں داؤ پر لگا کر خاتون کو تحویل میں لے کر محفوظ جگہ پر منتقل کیا۔

تفصیلات کے مطابق ایک ہفتہ قبل اچھرہ کے علاقہ پاکستان چوک میں خاتون کو عربی رسم الخط والا سوٹ پہننے پر مشتعل ہجوم نے ہراساں کیا  تھا تاہم پولیس کے بروقت ایکشن کے باعث خاتون کو ہجوم سے بچالیا گیا تھا۔

“ایکسپریس” کو حاصل معلومات کے مطابق  خاتون کے بازار داخل ہوتے ہی اس پر گستاخی کا الزام عائد کیا گیا جس کے بعد لوگوں نے اسکا پیچھا شروع کیا تو خاتون فوڈ کارنر میں گھس گئی تھی۔

جہاں فوڈ کارنر کے مالک  طارق جونسن نے پولیس کے پہنچنے تک خاتون کو ہجوم سے محفوظ رکھا۔ طارق جونسن نے خاتون کو دکان میں بند کیا اور دوسیلز مین اس دکان کی سیکیورٹی سرانجام دیتے رہے جس کے باعث مشتعل ہجوم خاتون تک نہ پہنچ سکا۔

اس دوران ایس ایچ او اچھرہ  محمد بلال عریبی سب سے پہلے موقع پر پہنچے اور مشتعل ہجوم کو قابو کیا،ایس ایچ او اچھرہ نے اس دوران ایک مسلح شخص سے پسٹل بھی برآمد کر کے اُسے قابو کیا۔ پھر پولیس کی دیگر نفری بھی موقع پر پہنچی،جس کے بعد ایس پی ماڈل ٹاون ڈویژن ارتضی کمیل،ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن شہزاد رفیق اعوان موقع پر پہنچنے اور انہوں نے ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے علاقہ کے علماء اکرام کو موقع  پر پہنچنے کی درخواست کی۔

پولیس کی درخواست پر علما اکرام نے موقع پر پہنچ کر لوگوں کو قابو کرنے میں پولیس کو مدد فراہم کی ۔اس دوران خاتون فوڈ کارنر کے اندر ہی موجود رہی،تاہم موقع پر کوئی خاتون آفیسر موجود نہ تھی جو کہ ہجوم کے اندر سے خاتون کو باہر لے کر نکل سکتی جس کے پیش نظر ایس پی ماڈل ٹاون ارتضی کمیل نے اے ایس پی گلبرگ شہر بانو نقوی کو موقع پر طلب کیا تو وہ خاتون کو موقع سے اپنے ساتھ لیکر نکلیں اور خاتون کو حفاظتی مقام پر منتقل کیا گیا۔

اس حوالے سے ایک نئی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے ،ویڈیو میں ایس پی ماڈل ٹاون ڈویژن  ارتضی کمیل کو مشتعل ہجوم کو پیچھے  دھکیلتے دیکھا گیا، ایس پی ماڈل ٹاؤن ارتضی کمیل نے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے بعد اے ایس پی شہربانو نقوی کو خاتون کو فوری ریسکیو کرنے کا کہا اور خود مشتعل ہجوم میں موجود رہے اور ان کو قائل کیا کہ کوئی بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے گا۔

اے ایس پی سیدہ شہربانو نے  خاتون کو دکان سے نکال کر گاڑی میں منتقل کیا جبکہ خاتون کو بھجوا کر ایس پی ماڈل ٹاؤن ڈویژن ارتضی کمیل کافی دیر مظاہرین میں موجود رہے اور ان کو قائل کرتے رہے۔

پولیس نے اچھرہ کے علاقے میں خاتون کوہراساں کرنے کے واقعہ کا  مقدمہ متعدد افراد کیخلاف درج کرلیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کو سیل کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر ایس ایچ او اچھرہ محمد بلال عریبی کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کے حوالے سے پولیس کی جانب سے متعدد میٹنگز ہوئیں۔

مذہبی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے افسران کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کرنے کا کہا گیا تھا بعد ازاں ایف آئی آر کا حکم دیا گیا جس میں 5 کے قریب نامزد اور متعدد نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے۔

پولیس  ذرائع کے مطابق وقوعہ کے وقت جن افراد کا جو رول تھا ان کے بارے میں  مقدمہ میں لکھا گیا ہے،مشتعل افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کی گئی تھی اور ان کی ویڈیو بھی بنا کر ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔واضح رہے کہ واقعہ کے بعد آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اےایس پی گلبرگ سرکل لاہور سیدہ شہربانو نقوی کو قائداعظم پولیس ماڈل کے لیے نامزد کیا تھا  ۔ بہادر اور  نڈر پاکستانی پولیس افسر سیدہ شہربانو  اب سعودی عرب میں شاہی مہمان بنیں گی۔

اے ایس پی گلبرگ شہر بانو نقوی  نے چند روز قبل سعودی سفیر سے ملاقات  کی  ہے سعودی سفیر نے اے ایس پی شہربانو نقوی کو سعودی عرب دورے کی دعوت دی۔ ذرائع کے مطابق سیدہ شہربانو نے اپنی فیملی کے ہمراہ سعودی عرب جانے کی دعوت قبول کر لی ہے، سیدہ شہربانو نقوی جلد اپنی فیملی کے ہمراہ سعودی عرب جائیں گی۔

اے ایس پی سیدہ شہربانو نقوی اپنی فیملی کیساتھ عمرے کی سعادت بھی حاصل کریں گی۔سعودی سفیر نے اے ایس پی شہربانو نقوی کی بہادری کی تعریف کی۔سعودی سفیر نے اے ایس پی شہربانو نقوی کے بے مثال بہادری کو سراہا۔پاک فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بھی سیدہ شہربانو نقوی نے چند روز قبل ملاقات  کی تھی۔پاک فوج کے سربراہ نے بھی اے ایس پی سیدہ شہربانو نقوی کی بہادری کی تعریف کی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔