بچے کو پہلے ’مادری زبان‘ سکھانا ضروری ہے۔۔۔!

رضوان طاہر مبین  منگل 5 مارچ 2024
ابتدا سے ’اجنبی زبان‘ کا بوجھ ذہنی نشوونما اور سیکھنے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے ۔ فوٹو : فائل

ابتدا سے ’اجنبی زبان‘ کا بوجھ ذہنی نشوونما اور سیکھنے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے ۔ فوٹو : فائل

ننھے بچوں کے سیکھنے کے عمل میں ان کی ’مادری زبان‘ کا عمل دخل بہت کلیدی ہوتا ہے۔ اس لیے ماہرینِ نفسیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو ابتدائی تعلیم ان کی ’مادری زبان‘ ہی میں فراہم کرنی چاہیے، یہ امر ان کے سیکھنے کے عمل میں ایک پختگی ہی فراہم نہیں کرتا، بلکہ انھیں اوائل عمری کی غیر ضروری مشقت اور بہت سی الجھنوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

فی زمانہ بہت سی وجوہات کی بنا پر ماؤں نے اپنی زبانوں سے دوری اختیار کر لی ہے، جس میں انگریزی زبان سے غیر ضروری مرعوبیت کا بہت عمل دخل ہے۔ ہماری قوم کے اس احساس کم تری کا یہ اظہار ایسی ماؤں کے رویے سے بھی جھلکتا ہے کہ جب ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ اپنی مادری زبان جانے یا نہ جانے، لیکن کسی طرح انگریزی کے دو چار حروف بولنے کے قابل ہو جائے۔

عام لوگوں کی طرح وہ بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ بچے کو انگریزی زبان کی جتنی زیادہ سمجھ ہوگی، وہ اتنا ہی قابل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے ایسے اسکولوں کا چناؤ کیا جاتا ہے، جو روز اول ہی سے بچے کو مکمل انگریزی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے بچے انگریزی زبان میں اس قدر ڈھل جاتے ہیں کہ پھر ان کے لیے ’مادری زبان‘ یک سر اجنبی ہو جاتی ہے۔

کم سن بچوں کا اپنی ’مادری زبان‘ چھوڑ کر انگریزی یا کسی دوسری زبان کو اختیار کرنا، ان کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت مضر اور غیر مناسب امر ہے۔ ایسی ماؤں کو غور کرنا چاہیے کہ وہ ننھا بچہ جو ابھی اس دنیا میں آیا ہے۔۔۔ جو ابھی اپنے گرد وپیش سے واقفیت حاصل کر رہا ہے۔

اس کے لیے اس کی نظر اور سماعت بہت حساسیت سے تمام چیزوں کو اپنے اندر جزب کر رہی ہے۔ اس کا کورا ذہن بہت جلدی ان تمام چیزوں کے حوالے سے کچے پکے سے تاثر قائم کر رہا ہے۔ گویا کہ ہر روز کوئی نیا منظر، نئی آواز اس کے لیے ایک نئی معلومات ہوتی ہے۔ وہ ابھی ’آواز‘ اور ’بات‘ میں بھی فرق نہیں کر پاتا، لیکن دھیرے دھیرے اس کا ذہن اسے سمجھاتا چلا جاتا ہے کہ یہ دونوں کچھ الگ الگ سی چیزیں ہیں۔

ایسے ہی سیکھتے سیکھتے وہ سب سے پہلے ہمارے چہرے کے تاثرات کو سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ چند ماہ کی عمر میں ہی جب ہم اسے دیکھ کر مسکراتے ہیں، تو وہ بچہ بھی جواب میں مسکراتا ہے۔ ہم اپنی آنکھوں کے اشاروں، ہاتھوں کی جنبش، اسے چھونے اور پیار کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے ’باتیں کرنا‘ شروع کرتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے کہ جب وہ خود کو مخاطب پا کر زیادہ انہماک سے چیزوں کو سمجھنا اور سیکھنا شروع کرتا ہے اور اپنا ردعمل بھی دیتا ہے۔

اسے ابھی صرف یہ خبر ہوتی ہے کہ یہ محض آواز نہیں، بلکہ ’الفاظ‘ ہیں، لیکن یہ الفاظ ہوتے کیا ہیں۔۔۔؟ ابھی اسے یہ خود بھی ٹھیک سے نہیں پتا ہوتا۔ یہ الفاظ اس کے ذہن کے سادے پردے پر ایک شبیہہ بناتے چلے جاتے ہیں، اس کے اب تک کے تجربات اور نشوونما اس لفظ کو اچھا، برا یا اور کسی طرح کے زمرے میں شامل کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ الفاظ کے بولے جانے کے طریقے اور اس کے صوتی اثرات کے مطابق اس آواز یا لفظ کو ذہن کے بنائے ہوئے مختلف خانوں میں بانٹتا اور ذخیرہ کرتا جاتا ہے۔

شیر خوارگی کے اس مرحلے میں جب بچے کا ذہن، آواز اور الفاظ کے فرق کو واضح کر کے اسے کوئی معنی بھی پہنانے لگتا ہے، تب وہ ایسی باتیں، جس کا مخاطب وہ نہیں ہوتا، لیکن اس کے ماحول میں مستقل اس لہجے اور انداز میں گفتگو ہو رہی ہوتی ہے، اسے بھی بہت تیزی سے اپنی نازک سماعت کی گرفت میں لینا شروع کرتا ہے۔

یہاں سے اس کے ذہن میں الفاظ کا تصور مزید اجلا اور واضح ہوتا جاتا ہے۔ ان الفاظ کے معنی خیزی میں ایک درجے اور بڑھوتری ہوتی ہے۔ الفاظ کے یہ معنی وہ ازخود اپنے تجربات میں آنے والی مختلف چیزوں سے منسلک کرنا شروع کرتا ہے۔

اگر آپ کو اپنے بچپن کے کچھ ایسے تجربات یاد ہوں، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ نے اپنے ہوش وہواس کے زمانے میں بھی مختلف نئے الفاظ کو اپنے تئیں کوئی معنی اور کوئی مطالب تفویض کیے تھے، جو بعد کی تعلیم اور تجربات میں بہتر یا درست ہوئے ہوں گے۔ آج بھی آپ مختلف الفاظ کی الگ الگ شکلیں اور ان کے معنوں کے حساب سے یہ محسوس بھی کر سکتے ہیں، جس کی بہت آسان مثال لفظ ’خوشی‘ یا ’ناراضی‘ ہے۔

اسے محسوس کیجیے تو لفظ خوشی میں ایک طرح کی مسرت دکھائی دے گی اور ناراضی میں خفگی، بالکل ایسے، کہ جیسے یہ لفظ بھی منہ بسورے ہوئے ہوں۔ بس اسی کو آپ چھوٹے بچوں کی نشوونما کے حساب سے سمجھ لیجیے کہ کس طرح وہ مختلف الفاظ کو سیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد سب سے زیادہ قریبی لفظ جیسے ماں، باپ، پانی یا کوئی کھانے پینے کی ایسی چیز جس کا ذکر زیادہ ہو، وہ ٹوٹی پھوٹی زبان میں بولنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔

اوائل عمری کے تین، چار برس میں بچہ چاہے ٹھیک طرح سے بول نہ پائے، لیکن ہماری بات کا مطلب کافی حد تک سمجھنے کے لائق ہو چکا ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں اگر اس کی ماں کی زبان اور اسے سکھائی جانے والی زبان یک ساں ہو تو اسے سیکھنے میں بڑی سہولت اور آسانی رہتی ہے۔ وہ بہت سہولت سے مختلف لفظوں کے مفاہیم کے لحاظ سے ایک ایک تصور یا عکس اپنے ذہن میں محفوظ کرتا چلا جاتا ہے۔ جوں جوں مختلف چیزیں سیکھتا جاتا ہے، توں توں یہ ذخیرۂ الفاظ پروان چڑھتا رہتا ہے۔

بہت سی مائیں بچوں کو ’مادری زبان‘ کے بہ جائے انگریزی یا اور کسی زبان سے قریب کرتی ہیں، اور وہ گھر میں اردو یا اپنی کوئی اور مادری زبان استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔ اس مرحلے میں بچے کے ننھے ذہن پر ایک اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ یاد رکھیے، بہت سی زبانیں ایک دوسرے کے نزدیک بھی ہوتی ہیں، ان کے ذخیرہ الفاظ اور بول چال میں بھی مماثلت ہوتی ہے، لیکن بہت سی زبانیں ایک دوسرے سے ذرا فاصلے پر بھی ہوتی ہیں۔

ایسے ہی ایک زبان کا ایک لفظ دوسری زبان میں بہت مختلف اور بعض اوقات الٹ معنی بھی دیتا ہے۔ ایسے میں بچے کا ذہن ایک غیر ضروری اور اضافی مشقت سے گزر رہا ہوتا ہے، نتیجتاً یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ بچے کے سیکھنے کے عمل میں شدید رخنہ پڑے گا اور اس کے ابتدائی تصورات کی وضاحت باہم متصادم ہو جائے گی، کیوں کہ وہ ابھی ایک زبان ہی کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا ہوتا کہ اس کا واسطہ ایک نئی زبان سے پڑنے لگتا ہے۔

یہ موقع اسکول میں بھی درپیش ہوتا ہے اور گھروں میں بھی۔ گھر میں اس صورت میں کہ جب بچے سے الگ زبان میں بات ہو اور اس کے سامنے لوگ کسی اور زبان میں بات کریں۔ ایسے موقع پر اگرچہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بہت سہولت سے دونوں زبانوں میں متوازی مہارت حاصل کرلے، لیکن اس کا امکان ذرا کم ہوتا ہے، کیوں کہ بچہ چاہے کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو، لیکن یہ ابتدائی اور بنیادی مرحلہ ہوتا ہے، جو یک سوئی کا متقاضی ہوتا ہے۔

یہی نہیں جو زبان بچے کی ماں بولتی ہے، اس کے لیے اس کے ذہن میں فطری طور پر زیادہ موافقت پائی جاتی ہے۔ اس بات کو سمجھیے گا کہ جیسے بچے کی پیدائش سے قبل کے بہت سے معاملات بھی دنیا میں آنے والے بچے کے مزاج، اطوار اور رجحانات و میلانات پر اثر ڈال رہے ہوتے ہیں، بالکل ایسے ہی اس بچے میں اپنی ’مادری زبان‘ کے لیے بھی ایک قدرتی طور پر قربت موجود ہوتی ہے۔

اس لیے بچپن میں سب سے پہلے اس کی مادری زبان میں چیزوں کو سمجھنا اور اسی میں بہت سے تصورات واضح ہونا زیادہ ضروری ہیں۔ اس مرحلے کے طے ہونے کے بعد انگریزی یا کسی اور زبان کی واقفیت کی طرف جانا چاہیے، تاکہ وہ زیادہ بہتر طریقے سے اپنے سیکھنے کے مراحل طے کر سکے۔

کسی بھی لفظ کا پہلا معنیٰ نہیں بھولتا

بچوں کا ننھا ذہن پہلے مرحلے میں مختلف کیفیات اور احساسات کے تجربات کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں کچھ لفظوں کے پیرہن بھی دے رہا ہوتا ہے۔ بچہ جتنی سہولت اور آسانی سے اپنی ’مادری زبان‘ میں کسی جذبے اور احساس کو کوئی نام دے گا، اس کے لیے نشو ونما کے اگلے مراحل اتنے ہی زیادہ سہل اور رواں ثابت ہوں گے۔

اگر اسے مادری زبان کے بہ جائے دوسری زبان کی طرف دھکیلا جائے گا، تو یہ امر اسے دُہرے معنوں کی طرف الجھا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مادری زبان اردو ہونے کے باوجود بچے انگریزی میں اردو یا اپنی مادری زبان کو سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہوتا ہے کہ والدین نے انھیں جبراً ان کی مادری زبان سے دور کر کے انگریزی زبان کی طرف راغب کیا۔

اس لیے وہ کسی بھی چیز کے ناموں سے لے کر مختلف فعل اور احساس وخیالات کو انگریزی زبان میں کہتے اور سمجھتے ہیں یا پھر ان کی زبان ہی اردو اور انگریزی کا عجیب وغریب سا ملغوبہ بن کر رہ جاتی ہے۔ نہ وہ اپنی مادری زبان کا ادراک رکھتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر انگریزی یا اردو میں ڈھل پاتے ہیں، جب کہ بہت سی ماؤں نے اپنے بچوں کو دنیا کے سامنے ’پڑھا لکھا‘ اور طبقہ ’اشرافیہ‘ کا دکھانے کے واسطے مکمل ’انگریز‘ بنا دیا ہوتا ہے، لیکن ان کے ذہن کے کسی درجے میں ’مادری زبان‘ کے موجود نہ ہونے کا ایک خلا ہمیشہ کے لیے باقی رہ جاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ قدرت نے انھیں جب دنیا میں وجود بخشا، تو انھیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ماں کا قُرب دیا، اور اسی قرب اور اس کے وجود میں پرورش کے نتیجے میں انھیں یہ فطری صلاحیت بھی دی کہ وہ اپنی ماں کی عادات واطوار کے ساتھ ماں کی زبان کو بھی بہت جلدی سیکھ سکیں، لیکن جناب، آج کے دور کی ماؤں نے تو انھیں اپنی زبان سکھانے میں کوئی دل چسپی لی ہی نہیں، اس طرح ان کی اپنی زبان سیکھنے اور جاننے کا یہ قدرتی رجحان رائیگاں چلا گیا اور شاید اپنے ذہن کی اس فطری جھکاؤ کے سبب وہ جس طرح اپنی مادری زبان میں لفظوں کے معنی سمجھ اور انھیں برَت سکتا ہے۔

اس درجے پر وہ کسی اجنبی زبان میں سمجھ ہی نہیں سکتا۔ اس کا تجربہ ہم دیگر زبانیں سیکھنے کے بعد کر سکتے ہیں کہ کس طرح کسی لفظ کے لیے ہمارے ذہن میں بار بار وہی شبیہہ اور وہی مفاہیم آتے ہیں، جو ہمارے ’ہواس‘ اور شعور کی سطح میں ہم نے اپنا لیے ہوتے ہیں۔

مادری زبان کی بنیاد نئی زبان سیکھنے میں معاون

آج کل کے دور کے غلط رجحان کا شکار مائیں اپنے بچوں کو اس لیے بھی انگریزی کی جانب راغب کرتی ہیں کہ اس طرح شاید وہ بچوں کی تعلیم کا ’مقصد‘ حاصل کر لیں گی۔ یا اگر بچوں کو اگر ان کی ’مادری زبان‘ سکھائی جائے گی، تو ان کا وقت ضایع ہوگا۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، مادری زبان ہر بچے کا بنیادی حق تسلیم کیا جانا چاہیے اور اس حوالے سے ماہرین اطفال کی آرا کے مطابق قانون سازی اور شعور بھی اجاگر کرنا ضروری ہے۔

بالکل اسی طرح کہ جیسے شیر خوارگی اور بچوں کی بیماریوں سے تحفظ وغیرہ کے حوالے سے مہم چلائی جاتی ہے۔ ایسے ہی والدین کو بچوں کے مادری زبان سیکھنے کا حق فراہم کرنے کا پابند کریں، ساتھ میں ان کی یہ غلط فہمی بھی دور کی جائے کہ مادری زبان غیر ضروری ہے یا بچے کے سیکھنے کے عمل میں یہ کوئی فضول چیز ہے۔

مادری زبان بچے کی نفسیاتی نشوونما میں ایک تسکین آور بنیاد بنتی ہے۔ جب وہ یہ مرحلہ مکمل کرتا ہے کہ اپنی مادری زبان میں اپنی بات کہہ سکے، تو یہ کچھ بھی سیکھنے کے حوالے سے ایک دیرپا اور پختہ اساس بن چکی ہوتی ہے، یہ امر اس کے لیے دوسری زبانیں، علوم اور ہنر سیکھنے کے لیے راہیں کھولتا چلا جاتا ہے۔

اب آپ یہ سوچیں گے کہ کوئی بھی مادری زبان بھلا کیوں کر بچے کے سیکھنے کے عمل کو مہمیز کر سکتی ہے۔۔۔؟ کیوں کہ علم تو انگریزی، اردو یا دنیا بھر کی دیگر زبانوں میں ہے، اگر بچے کو مادری زبان پر عبور ہوگا تو وہ کیسے دوسری زبانوں میں موجود علوم و فنون تک رسائی پا سکے گا، تآں کہ وہ متعلقہ زبانوں کو بھی نہ سیکھ لے۔

تو جناب، آپ کی بات جزوی طور پر تو درست ہے، وہ اس لیے کہ اسے ضرور دوسری زبان کی شد بد بھی حاصل کرنی پڑے گی، لیکن اگر اس کو اپنی کسی کیفیت کسی جذبے اور کسی چیز کا مطلب اپنی مادری زبان میں معلوم ہوگا، تو وہ بہت سہولت سے انگریزی یا کسی اور زبان میں بھی اس چیز کا مطلب سمجھ لے گا، لیکن اگر یہاں خلا موجود ہوا اور اسے پتا ہی نہ ہو کہ فلاں بات کیا ہوتی ہے، یا فلاں جذبے کو اس کی اپنی زبان میں کیا کہتے ہیں۔۔۔ فلاں چیز کا نام کیا ہوتا ہے وغیرہ۔ ایسے میں وہ کیسے ایک نئی زبان کے حوالے سے اسے بہتر طریقے سے سمجھ سکے گا۔

یہ بہت اہم نکتہ ہے، لیکن ہماری مائیں اس پہلو سے ناواقف اور ماہرین تعلیم غافل دکھائی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے بچوں کی تعلیم اور سیکھنے کے عمل میں بھی ایک رخنہ پڑ رہا ہے، دوسری طرف قومی زبان اردو اور ہماری دیگر پاکستانی زبانوں کے مستقبل پر بھی بہت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔