پیراشوٹ نہ کھلنے سے امدادی پیکٹ فلسطینیوں پر گرگیا؛5 جاں بحق،10 زخمی

ویب ڈیسک  اتوار 10 مارچ 2024
گھر کی چھت پر امدادی سامان کے منتظر فسلطینی خاندان پر بھاری پیکٹس راکٹس کی طرح گرے، فوٹو: رائٹرز

گھر کی چھت پر امدادی سامان کے منتظر فسلطینی خاندان پر بھاری پیکٹس راکٹس کی طرح گرے، فوٹو: رائٹرز

غزہ میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سے امدادی سامان پھینکنے کے دوران ایک بھاری پیکٹ پیرا شوٹ نہ کھلنے کی وجہ سے چھت پر امداد کے منتظر فلسطینی خاندان پر گر گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اردن کی فوج کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ امدادی سامان کو ہیلی کاپٹرز سے پیراشوٹ کے ذریعے پھینکنے کے آپریشن میں اردن اور امریکا ہیں۔

اردن کی فوج کے اہلکار نے مزید بتایا کہ ہمارے ہیلی کاپٹرز نے دیگر 4 ممالک کے ساتھ مل کر اپنا امدادی سامان کی ترسیل کا آپریشن بغیر کسی جانی یا مالی نقصان کے مکمل کیا تاہم امریکی آپریشن سے متعلق کوئی معلومات نہیں۔

اے ایف پی نے اس معاملے پر امریکی فوج کا ردعمل لینے کی کوشش کی لیکن تبصرے کے لیے کوئی دستیاب نہ تھا۔

امدادی سامان کا پیکٹ کسی راکٹ کی تیزی سے گرا۔ اس کی رفتار اور وزن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مکان کی چھت کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار گر گئی تھی۔

یہ افسوسناک واقعہ غزہ کے ساحلی علاقے الشطی کے پنای گزین کیمپ میں پیش آیا جس میں اب تک 5 افراد کے جاں بحق اور 10 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

4 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے جنھیں بہتر علاج کے لیے غزہ کے واحد بچ جانے والے سب سے بڑے اسپتال الشفا منتقل کیا جا رہا ہے۔ غزہ میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ہلاکتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : اسرائیلی فوج کی نصیرات کیمپ پر بمباری، 13 خواتین اور بچے شہید 

خیال رہے کہ امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کو غزہ میں محدود اور ناکافی تعداد میں داخل ہونے کی اجازت کی بنا پر لاکھوں فلسطینی خوراک کی کمی کا شکار ہوگئے ہیں۔

ٹرکوں سے امدادی سامان کی ناکافی ترسیل کے بعد دوسرا مسئلہ ٹرکوں سے امدادی سامان لینے کے دوران بھگدڑ اور پھر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہونے والے انسانی نقصان کا ضیاں ہے۔

جس پر امریکا اور اردن نے امدادی سامان ہیلی کاپٹرز کے ذریعے برسانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے دوران پیراشوٹ کے ذریعے آٹے کے بڑے تھیلے اور کھانے پینے کی دیگر اشیا کے بڑے پیکٹ پیراشوٹ کی مدد سے پھینکے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ فضا سے امدادی سامان پھینکنا زمینی راستے ترسیل کا متبادل نہیں ہو سکتی اس لیے سرحدی راہدریوں سے امدادی ٹرکوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔