میٹھا کھانے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے؟

 جمعرات 14 مارچ 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

ہیلی او نیل

صحت کو ’ہزار نعمت‘ کہا جاتا ہے اور ہم سب صحت مند رہنا چاہتے ہیں۔ اس کا احساس ہمیں عام طور پر ہر اس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے صحت کے اہداف پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ ایسے میں آپ اپنے کھانے پینے کی چیزوں پر بھی نظر ڈالتے ہیں لیکن بعض اوقات میٹھے یا کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور کھانے کی شدید خواہش سے ان منصوبوں کو زک پہنچ جاتی ہے۔

جب ہم اپنی خوراک کو بہتر بنانے یا وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو ہم شوگر اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور کھانوں کے بارے میں فکر مند کیوں ہو جاتے ہیں؟ اور ہم اس کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟ کوئی مخصوص کھانا کھانے کی خواہش کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوتی ہیں لیکن یہاں ہم چار سب سے عام اسباب پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

(1) جسم میں بلڈ شوگر کی سطح میں شدید کمی

شوگر انسانوں سمیت تمام جانوروں کے لیے توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس کا ذائقہ اہم بنیادی حسی تجربات میں سے ایک ہے۔ یہاں تک کہ زبان پر مخصوص میٹھے ذائقہ کے ریسیپٹرز کے بغیر بھی چینی کے ذائقے کی نشاندہی کرنے کا خاصہ پیدا ہو سکتا ہے جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ ذائقے سے بالاتر ہے۔ شوگر کے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہی ہماری آنت میں موجود نیوران متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس عمل کے ردعمل میں آپ کی بھوک بڑھ سکتی ہے یا مزید میٹھا کھانے کی خواہش جاگ سکتی ہے۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ طویل مدت تک شوگر یا چینی سے بھرپور غذا کے استعمال سے ہمارا موڈ، ہاضمے کا نظام اور آنتوں کی سوزش متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ مختلف لوگوں میں اس کا ردعمل مختلف ہو سکتا ہے مگر باقاعدگی سے میٹھا کھانے یا کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذائیں کھانے سے خون میں شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے اور شوگر کے تیزی سے گرنے جیسی علامات رونما ہو سکتی ہیں۔

جب خون میں شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے تو آپ کے جسم میں قدرتی طور پر توانائی کے ایک فوری ذریعے کی چاہ پیدا ہونے لگتی ہے اور ایسی صورتحال میں عمومی طور پر آپ کا دل میٹھا یا کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا کھانے کو کر سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں اشیاء توانائی تک فوری رسائی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔

(2) ڈوپامائن اور سیروٹونن میں کمی

ڈوپامائن (ہارمون) جیسے کچھ نیورو ٹرانسمیٹرز دماغ کے خوشی والے حصے میں متحرک ہوتے ہیں۔ میٹھے اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذائیں کھانے سے ڈوپامائن کے اخراج کو متحرک کیا جا سکتا ہے جس سے دل و دماغ میں ایک خوشگوار احساس پیدا ہو سکتا ہے۔ جبکہ اچھا محسوس کروانے والا ہارمون ’سیروٹونن‘ بھوک کو دباتا ہے۔ سیروٹونن کی سطح میں تبدیلی آپ کے موڈ، جسم میں توانائی کی سطح اور توجہ میں اتار چڑھاؤ کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔

اس کا تعلق دوپہر کے بعد کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذائیں کھانے سے بھی ہے۔ کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا سیروٹونن کو کم کر سکتی ہے اور آپ کے موڈ کو ڈاؤن کر سکتی ہے۔ تاہم ایک حالیہ جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ ان غذاؤں اور بے چینی اور ڈپریشن کے خطرے کے درمیان بہت کم تعلق ہے۔

مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور کھانے کی خواہش رکھتی ہیں۔ چڑچڑاپن، تھکاوٹ، اداسی وغیرہ جیسی کیفیات اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور کھانوں کی خواہش حیض سے پہلے کی علامات کا حصہ ہیں اور اس کا تعلق سیروٹونن کی سطح میں کمی سے ہو سکتا ہے۔

(3) جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی

اکثر اوقات ہمارا جسم ان چیزوں کو ترستا ہے جس کی اس میں کمی ہوتی ہے۔ جیسے پانی یا ہائیڈریشن اور نمک کی کمی۔ مثال کے طور پر کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا انسولین کی سطح کو کم کرتی ہے اور جسم میں سوڈیم اور پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کو کم کرتی ہے۔ کیٹوجینک غذا جیسی بہت کم کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں ’کیٹوسس‘ پیدا کرتی ہیں۔ یہ ایک میٹابولک یا نظام ہضم کی حالت ہے جس میں جسم کاربوہائیڈریٹس پر اپنے معمول کے انحصار سے ہٹ کر چربی کو توانائی کے اپنے بنیادی ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی طرف جاتا ہے۔

کیٹوسس اکثر پیشاب کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے ساتھ منسلک ہوتا ہے، جو جسم میں ممکنہ سیال کی کمی، الیکٹرولائٹ کے عدم توازن اور نمک کی خواہش میں مزید حصہ ڈالتا ہے۔

(4) تناؤ

تناؤ، بوریت، اور جذباتی ہلچل آرام دہ کھانے کی خواہش کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تناؤ سے متعلقہ ہارمونز ہماری بھوک، شکم سیری اور کھانے کی ترجیحات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تناؤ کے ہارمونز خاص طور پر میٹھے اور آرام دہ کھانے کی خواہش کا باعث بن سکتے ہیں۔

2001ء میں تناؤ کا شکار 59 پری مینوپاسل (حیض بند ہونے کی عمر سے قبل والی عمر کی) خواتین کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ تناؤ جسم میں کیلوریز کی کھپت میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ایک اور حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جب دائمی تناؤ زیادہ کیلوریز والی خوراک کے ساتھ مل جاتا ہے تو کھانے کی مقدار اور میٹھی چیزیں کھانے کی ترجیح بڑھ جاتی ہے۔

آپ میٹھے اور کاربوہائیڈریٹس کی خواہش پر لگام کیسے لگا سکتے ہیں؟

ذیل میں ہم آپ کو میٹھے اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذاؤں کو کھانے کی خواہشات کو روکنے کے لیے چار تجاویز پیش کر رہے ہیں:

ایک پورے فوڈ گروپ کو ختم نہ کریں۔ اچھی طرح سے متوازن غذا کھانے کی کوشش کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنے کھانے میں کافی پروٹین شامل کر رہے ہیں تاکہ آپ کو پیٹ بھرنے اور میٹھے اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا کھانے کی خواہش کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

معمر لوگوں کو ہر کھانے میں 20 سے 40 گرام کے درمیان پروٹین کا استعمال کرنا چاہیے اور خاص طور پر ناشتے اور دوپہر کے کھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جبکہ پٹھوں کی صحت کے لیے کم از کم 0.8 گرام اپنے وزن کا فی کلوگرام روزانہ پروٹین کی مقدار لینی چاہیے۔

فائبر سے بھرپور غذائیں کھائیں۔ ان میں سبزیاں اور سارے اناج آتے ہیں۔ یہ آپ کو مکمل محسوس کرواتے ہیں اور آپ کے خون کی شکر کی سطح کو مستحکم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اپنے کھانے میں بروکولی، کوئینووا، بھورے چاول، جئی یا جو، پھلیاں، دال، اور چوکر والے اناج شامل ہیں۔

پراسیسڈ کوکیز، سوڈا، یا بیکڈ اشیا جیسی زیادہ چینی والے ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، کی جگہ آپ ہول گرین بریڈ یا ہول گرین مفنز، یا نٹ اور سیڈ بارز یا چیا سیڈز اور جئی سے بنی انرجی بائٹس اپنے کھانے میں شامل کریں۔

اپنے جسم میں تناؤ کی سطح کو منظم کریں۔ کھانے کی خواہش کے جذباتی محرکات کو کنٹرول کرنے کے لیے ذہنی تناؤ کو کم کرنے کی تکنیک میں مراقبہ، گہری سانس لینا یا یوگا کی مشق کرنا شامل ہے۔

دھیان سے کھانے کی مشق کریں، آہستہ آہستہ کھانا کھائیں اور جسم کے احساسات کو ہم آہنگ کریں۔ کافی نیند لیں۔ کم از کم سات گھنٹے سوئیں اور ہر رات کم سے کم سات سے آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند پورا کرنے کی کوشش کریں۔ نیند کی کمی ان ہارمونز میں خلل ڈال سکتی ہے جو بھوک اور کھانے کی خواہش کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اپنے کھانے پر کنٹرول حاصل کریں۔ صحت مند کھانے یا وزن کم کرنے کی کوشش کرتے وقت چینی، نمک اور کاربوہائیڈریٹ کی خواہش پر قابو پانا یقیناً ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ یاد رکھیں، یہ ایک سفر ہے جس میں ناکامیاں ہو سکتی ہیں۔ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں کیونکہ آپ کی کامیابی کا دارومدار کبھی کبھار خواہشات پر نہیں ہوتا بلکہ ان پر قابو پانے کی آپ کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔

(بشکریہ بی بی سی اردو)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔