پی ٹی آئی دور میں ایمنسٹی لینے والے بلڈرز کے کمپلیشن سرٹیفکیٹس کی تصدیق کروانے کا فیصلہ

ارشاد انصاری  جمعـء 15 مارچ 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: پی ٹی آئی دور میں ایمنسٹی لینے والے بلڈرز کے کمپلیشن سرٹیفکیٹس کی تصدیق کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے دور میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو دی جانے والی ایمنسٹی اسکیم سے اربوں روپے کا فائدہ اٹھانے والے ڈویلپرز اور بلڈرز کے جمع کروائے جانے والے کمپلیشن سرٹیفکیٹس کی آئی کیپ کی تسلی بخش کوالٹی کنٹرول ریویو کی ریٹنگ رکھنے والی چارٹرڈ اکاونٹنٹ کمپنیوں سے تصدیق کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمپلیشن سرٹیفکیٹس کی تصدیق کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے آئی کیپ کی تسلی بخش کوالٹی کنٹرول ریویو کی ریٹنگ رکھنے والی چارٹرڈ اکاونٹنٹ کمپنیوں کونوٹیفائی کردیا ہے۔

ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 399(I)/2024 کے ذریعے آئی کیپ کی تسلی بخش کوالٹی کنٹرول ریویو کی ریٹنگ رکھنے والی چارٹرڈ اکاونٹنٹ کمپنیوں کو ایمنسٹی اسکیم سے اربوں روپے کافائد اٹھانے والے ڈویلپرز اور بلڈرز کے جمع کروائے جانیوالے کمپلیشن سرٹیفکیٹس کی تصدیق کے اہل قرار دینے کے لیے نوٹیفائی کردیا ہے۔

واضح رہے کہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں سے ذرائع آمدن نہیں پوچھے جانے تھے اور ٹیکسوں میں بھی چھوٹ و مراعات دی گئی تھیں۔

اس بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر سے جب رابطہ کیاگیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایک مقررہ مدت میں پراجیکٹس مکمل کرنے والے ڈویلپرز اور بلڈرز سمیت ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکسوں میں چھوٹ و رعایات پر مبنی ایمنسٹی اسکیم دی تھی۔

ایمنسٹی اسکیم کے تحت ٹیکسوں سے چھوٹ اور رعایات حاصل کرنے کے لیے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ڈویلپرز اور بلڈرز کے لیے اہلیت کا معیار مقرر کیا گیا تھا جس کے تحت ڈویلپرز اور بلڈرز کے لیے ضروری تھا کہ وہ کم ازکم 50 فیصد پلاٹس فروخت کے لیے بک کرچکے ہوں اسی طرح کم ازکم 40 فیصد پلاٹس و گھر یا فلیٹس فروخت کرکے اس کی سیل پروسیڈنگ مکمل کرچکے ہوں۔ اسی طرح ڈویلپرز و بلڈرز کے لیے ضروری تھا کہ رہائشی و کمرشل پراجیکٹس کی کم ازکم 50 فیصد سڑکوں کی تکمیل سے متعلق نیسپاک سے سرٹیفکیٹ حاصل کرچکے ہوں۔

اس کے علاوہ دیگر قانونی ریکوائرمنٹ کو پورا کرنا بھی لازم قراردیا گیا تھا اور اس اہلیت کے معیار کے مطابق ان ڈیولپرز اور بلڈرز نے ٹیکسوں سے چھوٹ و مراعات لینے اور ذرائع آمدن نہ پوچھے جانے کی سہولت حاصل کرنے کے لیے کمپلیشن سرٹیفکیٹ جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا تھا اور اس سرٹیفکیٹ کی انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان(آئی کیپ)کی کوالٹی کنٹرول ریویو کی تسلی بخش ریٹنگ رکھنے والی کمپنیوں سے تصدیق کروانے کی شرط بھی رکھی گئی تھی اور ان کمپنیوں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے نوٹیفائی کرنا تھا۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ڈویلپرز اور بلڈرز سمیت ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں کے کمپلیشن سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے کیونکہ ایف بی آر کی طرف سے آئی کیپ کی تسلی بخش کوالٹی کنٹرول ریویو کی ریٹنگ رکھنے والی چارٹرڈ اکاونٹنٹ کمپنیوں کو نوٹیفائی نہیں کیا گیا تھا۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اب اس قانونی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئی کیپ کی تسلی بخش کوالٹی کنٹرول ریویو کی ریٹنگ رکھنے والی چارٹرڈ اکاونٹنٹ کمپنیوں کونوٹیفائی کردیا ہے جس کے تحت 30 ستمبر 2023 اور اس کے بعد تک آئی کیپ کی تسلی بخش کوالٹی کنٹرول ریویو کی ریٹنگ رکھنے والی چارٹرڈ اکاونٹنٹ کمپنیاں ہیں وہ کمپنیاں ڈویلپرز اور بلڈرز سمیت ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں کے کمپلیشن سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرسکیں گی اور جن ڈویلپرز و بلڈرز کے جمع کروائے گئے کمپلیشن سرٹیفکیٹس کی یہ نوٹیفائیڈ چارٹرڈ اکاونٹنٹ کمپنیاں تصدیق کریں گے انہیں ٹیکسوں میں چھوٹ کی سہولت حاصل رہے گی اور ان سے نہ تو ذرائع آمدن بھی نہیں پوچھے جائیں گے تاہم جن ڈویلپرز و بلڈرز کے جمع کروائے گئے کمپلیشن سرٹیفکیٹس کی تصدیق نہیں ہوسکے گی یا وہ اہلیت پر پورے نہیں اترے ہوں گے ان سے ٹیکس واجبات بھی ری کور کیے جائیں گے اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی اور ذرائع آمدن بارے بھی پوچھ گچھ کی جاسکے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔