ڈالر کی انٹربینک اور اوپن مارکیٹ قیمت میں معمولی کمی

احتشام مفتی  جمعـء 15 مارچ 2024
(فوٹو : فائل)

(فوٹو : فائل)

  کراچی: مثبت اشاریوں پر آئی ایم ایف ٹیم کے اطمینان سے جلد قرض کی آخری قسط جاری ہونے کی توقعات کے باعث جمعہ کو بھی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی بہ نسبت روپیہ تگڑا رہا۔

ملک کو درپیش مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے وزیر خزانہ کی متبادل ذرائع استعمال کرنے کی حکمت عملی کے تحت چائنیز بانڈز مارکیٹ سے رجوع کرنے کی اطلاعات، دوست ممالک سے پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے تعاون حاصل کرنے جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر تنزلی سے دوچار رہی۔

ایک موقع پر 24 پیسے کی کمی سے 278 روپے 53 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن سپلائی بہتر ہوتے ہی مارکیٹ فورسز کی ڈیمانڈ آنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 03پیسے کی کمی سے 278روپے 74پیسے کی سطح پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 281 روپے 25پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

برآمد کنندگان کی جانب سے زرمبادلہ میں اپنی برآمدی آمدنی کی فروخت کے تسلسل، ماہ صیام میں ترسیلات زر کی آمد بڑھنے اور زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 17ملین ڈالر بڑھنے جیسے عوامل سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈیمانڈ کے مقابلے میں سپلائی زیادہ ہے۔

مطلوبہ شرائط پوری ہونے سے آئی ایم ایف سے 1.1ارب ڈالر کی قسط کا اجراء یقینی ہونے اور نئے قرض پیکیج کے حصول میں ممکنہ کامیابی سے آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی کے امکانات ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔