الحمرا کی داستانیں (آخری حصہ)

زاہدہ حنا  بدھ 20 مارچ 2024
zahedahina@gmail.com

[email protected]

اپنی مددگار سے میں نے قصص الحمرا منگوائی تو وہ میرے لیے قصص الانبیا لے آئی، میں نے اس سے کہا کہ دونوں کتابوں کا فرق سمجھو، وہ درست کتاب لے آئی۔ اس کے بعد کا قصہ ان صاحب کا ہے جن کو میں عبارت لکھوا رہی تھی۔ انھوں نے واشنگٹن ارونگ کو اروند سمجھا۔

اب بتائیے کہ خطا اورنگ زیب کے سوا کس کی ہو سکتی ہے۔ اس نے زیادہ کروٹیں نہیں بدلی ہوں گی اس لیے کہ اپنے سوٹ میں اس کی روح سے اور وقار عظیم صاحب روح سے دست بستہ عذر خواہ ہوں۔ واشنگٹن ارونگ نے کیا کہانیاں لکھی ہیں اور وقار عظیم نے ان کا کیا کمال ترجمہ کیا ہے۔

یوں تو ان کہانیوں میں سب ہی کہانیاں غضب کی ہیں لیکن ’’ الحمرا کا سپاہی‘‘ معرکۃالآرا ہے۔ اس داستان میں 300 برس سے ایک سپاہی خزانے کی پہرہ داری کر رہا ہے اور عین وقت پر یا یوں کہیے کہ جب طلسم فتح ہونے کا وقت ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی بات ایسی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے طلسمی سپاہی کو سو برس کی قید پھر سے بھگتنی پڑتی ہے۔

ہر سو سال کے بعد سینٹ جان کے تیوہار کے دن طلسم کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے اور مجھے اس غار سے حدرۃ کے پل پر جا کر اس جگہ کھڑے ہونے کی اجازت ملتی ہے، جہاں آج تم نے مجھے دیکھا تھا۔ میں اس جگہ کھڑا ہو کر اس شخص کا انتظار کرتا ہوں جس کے ہاتھوں یہ طلسم ٹوٹنے والا ہے۔ آج سے پہلے میں نے سینٹ جان کے دو تیوہار وہاں کھڑے ہو کر گزارے لیکن مجھے میرے طلسم سے رہائی دینے والا نہ آیا اور میں انسانوں کی نظر سے اوجھل اس طرح یہاں واپس آگیا جیسے بادلوں نے مجھے پردے پر چھپا رکھا ہو۔

تم پہلے شخص ہو جس نے تین سو سال بعد آج مجھ سے بات کی اور اس کا سبب مجھے معلوم ہے۔ تمہاری انگلی پر حضرت سلیمانؑ کی انگوٹھی ہے، جس کی تاثیر پہننے والے کو ہر طلسم کے اندیشوں سے بے خبر اور محفوظ کر دیتی ہے۔ اب یہ تمہارے ہاتھ میں ہے کہ مجھے اس قید سے رہائی دلواؤ یا سو برس کے لیے اور اسی قید میں چھوڑ جاؤ۔‘‘

طالب علم حیرت سے سکوت میں مستغرق یہ داستان سنتا رہا۔ اس نے اس سے پہلے بھی الحمرا کے تہ خانوں میں چھپے ہوئے طلسمی دفینوں کے افسانے سنے تھے لیکن انھیں ہمیشہ محض افسانہ سمجھ کر ان پر یقین نہ کیا تھا۔ اسے اب اس مہر کی قیمت کا اندازہ ہوا جو اسے سینٹ سپرین سے انعام میں ملی تھی۔ گو وہ ایسے قوی اور موثر طلسم سے مسلح تھا لیکن اس طرح ایک طلسمی غار کے تہ خانے میں قید ہونا اور ایک ایسے طلسمی انسان سے باتیں کرنا جسے قوانین قدرت کے مطابق اب سے تین سو برس پہلے اپنی قبر میں دفن ہونا چاہیے تھا، اسے بڑا عجیب معلوم ہوا۔

وہ فولاد کے ایک بے حد وزنی صندوق کی طرف جس میں کئی قفل پڑے ہوئے تھے اور جس پر ہر طرف عربی کی عبارتیں کندہ تھیں، اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’ اس صندوق میں بے شمار سونے کے سکے، جواہرات اور بیش بہا زیورات بند ہیں، اگر تم اس طلسم کو توڑ دو جس میں، میں قید ہوں تو اس خزانے میں سے آدھا تمہارا ہوگا۔‘‘’’لیکن میں اس طلسم کو کیسے توڑ سکتا ہوں‘‘؟’’اس کام کے لیے ایک عیسائی پادری اور ایک عیسائی دوشیزہ کی مدد درکار ہے۔ عیسائی پادری طلسم کے الفاظ پڑھنے کے لیے اور دوشیزہ اس آہنی خزانے کو مہر سلیمانی سے چھونے کے لیے اور یہ کام آج رات ہی کو کرنے کا ہے۔

اس کی سنجیدگی اور اہمیت کا تقاضا ہے کہ یہ پاکیزہ صف لوگوں کے ہاتھوں انجام پائے۔ پادری کو صحیح قسم کا دین دار اور تقدس کا مجسمہ ہونا چاہیے اور یہاں آنے سے پہلے ایک دن روزہ رکھنا چاہیے۔ اسی طرح دوشیزہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی سیرت معصیت سے پاک ہو اور آسانی سے نفس پرستی کا شکار نہ ہو جائے۔ تمہیں ایسے دو آدمیوں کی مدد حاصل کرنی ہے، لیکن کام ایسا ہے کہ اس میں تاخیر کی ذرا بھی گنجائش نہیں۔ تین دن کی فرصت ہے، اگر تین دن کے اندر مجھے رہائی نہ ملی تو میری ایک صدی پھر اس قید خانے میں بسر ہوگی۔‘‘

’’گھبراؤ مت۔‘‘ طالب علم نے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔ ایسا پادری اور ایسی دوشیزہ میری نظر میں ہے، لیکن اپنی مہم کی تکمیل کے بعد میں اس تہ خانے میں کیسے پہنچوں گا ‘‘؟’’ مہر سلیمانی تمہاری رہنمائی کرے گی۔ تہ خانے کا راستہ تمہارے لیے کھل جائے گا۔‘‘طالب علم تیزی سے تہ خانے سے نکلا۔ اس کے باہر نکلتے ہی سنگین راستہ بند ہوگیا اور وہ زمین پہلے کی طرح ہموار ہوگئی۔اگلے دن علی الصبح وہ پادری کی حویلی پہنچ گیا۔ آج اس کے قدم جرأت واستقامت سے اٹھ رہے تھے۔

آج وہ کوچہ گرد طالب علم کی حیثیت سے پادری کے پاس نہیں جا رہا تھا جس کا مقسوم ستار بجانا اور دریوزہ گری کرنا تھا۔ آج وہ طلسمی دنیا کا سفیر بن کر اس کے پاس آیا تھا اور اس کے پاس زمین کے پراسرار طلسمی خزانوں کی بشارت تھی۔ اس سفارت کی تفصیل داستان میں بالکل نہیں بتائی گئی۔ سوائے اس کے کہ ایک دین دار سپاہی کو بچانے اور ایک بیش بہا خزانے کو شیطان کے قبضے سے نکالنے کے خیال نے پادری کو فوراً اس مہم کے لیے راضی کر دیا کہ دولت کتنے غریبوں کی غریبی دور کرنے، کتنے کلیسا تعمیر کرنے اور کتنے دوستوں اور عزیزوں کو متمول بنانے کے لیے کام آئے گی۔

رہی نیک دل اور معصوم خادمہ تو وہ بھی خوشی سے اس مقدم مہم میں شریک ہونے پر راضی ہو گئی اور اگر کبھی کبھی اٹھ جانے والی نظر پر اعتبار کیا جاسکے تو یہ کہنا بھی درست ہے کہ طلسمی دنیا کے سفیر کے لیے شرمیلی آنکھوں میں اب تھوڑی سی جگہ بھی پیدا ہوگی تھی۔

رات کا خاصا حصہ گزر جانے پر یہ قافلہ لالٹین کی روشنی میں بھٹکتا اور ٹھوکریں کھاتا نالے کے اوپر چڑھتا نظر آیا۔ خادمہ کے ہاتھ میں کھانے پینے کے سامان کی ایک ٹوکری تھی کہ جب ایک شیطان سمندر کی سطح میں غرق ہو چکے تو دیو اشتہا کی تواضح کی جاسکے۔

مہر سلیمانی کی تاثیر نے انھیں برج کے تہ خانے میں داخل کر دیا۔ طلسمی سپاہی آہنی صندوق پر ان کا منتظر بیٹھا تھا۔ اس کی ہدایت کے مطابق طلسم توڑنے کے سب رسمی مرحلے طے کیے گئے اور آخر دوشیزہ نے مہر سلیمانی آہنی قفلوں سے لگا دی۔ مہر لگتے ہی صندوق کا ڈھکن ایک جھٹکے کے ساتھ کھل گیا اور سونے کے سکوں، بیش بہا زیوروں اور نایاب جواہرات کی آب و تاب نے سب کی نظریں خیرہ کر دیں۔’’یہ ہے معاملے کی بات!‘‘ طالب علم خوشی سے چلا اٹھا اور جلدی جلدی اپنی جیبیں بھرنے لگا۔’’جلدی اور گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔‘‘ سپاہی نے نرمی سے کہا۔ ’’چلو! پہلے صندوق کو باہر نکال لیں اور پھر اس کے حصے بخرے کریں۔‘‘

اس مشورے پر سب آگے بڑھے لیکن کام آسان نہ تھا۔ صندوق بے حد وزنی تھا اور صدیوں سے اس جگہ رکھا تھا۔ سب تو صندوق کو باہر نکالنے میں مصروف تھے اور نیک دل پادری ایک کونے میں بیٹھا دونوں ہاتھوں سے کھانے کی ٹوکری پر حملہ کر رہا تھا کہ کسی طرح دیوِ اشتہا کو تسکین دے جس نے اس کی انتڑیوں میں آگ لگا رکھی تھی۔ آن کی آن میں ایک فربہ بھنا ہوا مرغا اور ہسپانوی شراب کا ایک شیشہ آنتوں میں اتر گیا اور دیوِ اشتہا تسکین پا چکا تو پادری نے اظہار تشکر کے طور پر معصوم دوشیزہ کے رخساروں پر ایک شفقت آمیز بوسہ کی مہر ثبت کردی۔

یہ سب کچھ تہ خانے کے ایک گوشے میں بڑی خاموشی سے ہوا تھا لیکن کان اور زبان رکھنے والی دیواروں نے جیسے بڑی فتح مندی کے ساتھ اس کا پرزور اعلان کر دیا اور ایک معصوم بوسے نے جو طوفان آج اٹھایا وہ شاید آج سے پہلے کبھی نہیں اٹھایا ہوگا۔ بوسے کی آواز پر سپاہی مایوسی سے چلا اٹھا۔ صندوق جسے اٹھایا جا چکا تھا ایک دھماکے کے ساتھ زمین پر گرا اور پھر مقفل ہو گیا۔ پادری، طالب علم اور خادمہ تینوں نے اپنے کو غار کے باہر کھڑا پایا اور اس کی دیوار بادل کی گرج کے ساتھ بند ہو گئی۔ افسوس! نیک دل پادری نے اپنا روزہ وقت سے ذرا پہلے کھول لیا تھا۔

مختصر یہ کہ گرجا کے جرس نے بارہ بجائے اور طلسم کا اثر پھر شروع ہو گیا۔ ابھی بے چارے سپاہی کی قسمت میں ایک صدی کی قید اور لکھی تھی۔ ایک صدی کی یا اس کے بعد آنے والی کئی صدیوں کی۔ وہ شاید آج بھی اسی تہ خانے میں قید ہو۔ محض اس لیے کہ نیک دل پادری نے حسین خادمہ کے رخساروں کا ایک معصوم بوسہ لیا تھا۔ ’’افسوس! شفیق بزرگ، افسوس!‘‘ واپس آتے ہوئے طالب علم نے پادری کو مخاطب کرکے کہا اور سر کو جنبش دیتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’شاید اس بوسے میں روح کم تھی اور نفس زیادہ۔‘‘

طلسمی سپاہی کی داستان کا جتنا حصہ مستند سمجھا جاتا ہے وہ اس جگہ آ کر ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن روایت نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ طالب علم اپنی جیبوں میں اتنے سکے اور جواہرات بھر لایا تھا کہ اس کی باقی زندگی آسائش اور آسودگی سے گزری اور نیک نفس پادری نے اس غلطی کی تلافی کے لیے جو اس سے تہ خانے میں سرزد ہوئی تھی اپنی حسین خادمہ کی شادی اس کے ساتھ کر دی۔ حسین خادمہ جتنی اچھی خادمہ تھی اس سے اچھی بیوی بھی ثابت ہوئی اور اپنے شوہر کے گھر کو اولاد کی دولت سے مالا مال کر دیا۔ پہلی اولاد ایک لڑکا تھا اور اس لحاظ سے حیرت انگیز تھا کہ گو’’ست ماہا‘‘ تھا لیکن سب بچوں میں فربہ اور تندرست تھا۔

طلسمی سپاہی کی داستان غرناطہ کی داستانوں میں سب سے زیادہ دلچسپی سے بیان کی جاتی ہے، گو اس کی تفصیلات میں جا بجا اختلافات ہیں، لیکن ایک بات جس پر عوام پوری طرح متفق ہیں یہ ہے کہ سینٹ جان کے تیوہار کے دن وہ اب بھی حدرۃ کے پل پر سنگین انار کے قریب کھڑا ہو کر سنتری کی خدمت انجام دیتا ہے۔ گو سوائے ان معدودے چند خوش نصیب لوگوں کے جن کے پاس مہر سلیمانی ہو، کسی کو نظر نہیں آتا۔

اس دلچسپ اور طلسمی قصے کی دوسری اور بہت سی کہانیاں ہیں جو دامانِ دل کھینچ لیتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔