نزدیک کی نظر

شیریں حیدر  اتوار 24 مارچ 2024
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

’’ ہمارے ملک میں تو لگتا ہے کہ غربت ختم ہی ہو گئی ہے۔‘‘ وہ کہہ رہی تھی، ہم ایک افطار پارٹی میں تھے۔

’’بڑی اچھی خبر ہے!‘‘ میں نے جوابا کہا، ’’ مگر کس طرح آپ کہہ سکتی ہیں کہ ملک میں غربت ختم ہو گئی ہے؟‘‘

’’ میری زکوۃ اللہ کے کرم سے لاکھوں میں بنتی ہے اور میں ڈھونڈتی ہوں کہ کوئی مستحق ملے۔ بہت کوشش کرکے زکوۃ ادا کر پاتی ہوں۔ زکوۃ مانگنے والے ادارے یعنی ہسپتال ، مختلف فلاحی تنظیمیںاور فلاحی ادارے جو ہیں ان پر مجھے اعتبار ہی نہیں۔‘‘

’’ ہمم… یہ تو واقعی مشکل صورت حال ہے، اگر آپ کے نکتہء نظر سے دیکھا جائے تو۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ بتائیں بھلا پھر کہ کہاں دی جائے زکوۃ اور کس کو؟‘‘ اس نے مجھے جتلایا کہ واقعی وہ درست تھی، زکوۃ کا مستحق ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ’’ گھر سے نکلو تو راستے میں سو بھکاری ہر ٹریفک سگنل پر کھڑا ملتا ہے، وہاں ہر ایک کو سو پچاس دیتے ہوئے سال بھر میں نصف سے بھی کم زکوۃ ادا ہو پاتی ہے، مسجدوں میں پنکھے اور قالین کا انتظام کرتی ہوں، پھر بھی ساری زکوۃ ادا کرنا مشکل ترین کام ہے۔‘‘ اسی سمے اس کے فون کی گھنٹی بجی اور اس نے اپنے پرس سے عینک نکالی ، فون کو دیکھا اور اس کے بعد کال کاٹ دی۔ عینک اس نے اتار کر فولڈ کر کے دوبارہ پرس میں رکھی۔

’’ آپ کی دور کی نظر کمزور ہے یا نزدیک کی؟‘‘

’’ اس میں نظر کی کمزوری کا کیا عمل دخل ہوا؟‘‘ اس نے سوال کیا۔

’’ چلیں میں آپ سے سوال کرتی جاتی ہوں، آپ جواب دیتی جائیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔‘‘ میںنے اس سے کہا۔

’’ چلیں ، ٹھیک ہے، پوچھیں آپ سوالات، میں بھی تو جانوں کہ آپ کے پاس کیا حل ہے میرے مسئلے کا۔‘‘

’’ آپ کے بہن بھائی کتنے ہیں؟‘‘ میں نے پہلا سوال کیا، ’’ اور کیا سب اتنے ہی امیر ہیں؟‘‘

’’ ہم چھ بہن بھائی ہیں۔ ‘‘ جواب ملا، ’’ سب تو اتنے امیر نہیں ہیں، میری شادی ایک امیر گھرانے میں ہوئی ہے، باقی بہن بھائیوں کے ہاں دولت کی اتنی ریل پیل نہیں ہے، مگر سب اپنا اپنا گزارا کر رہے ہیں۔ ایک بہن بیوہ ہے، وہ میرے والدین کے گھر میں رہتی ہے، ایک سکول میں پڑھاتی ہے۔‘‘

’’ اس کے بچے بھی ہیں اور کیا اس کا گزارا اپنی تنخواہ میں ہو جاتا ہے؟‘‘ میں نے سوال کیا۔

’’ وہ تومشکل سے ہی ہوتا ہے۔‘‘ اس نے بتایا۔

’’ مجھے آپ کے مسئلے کا حل انہی سوالات سے مل گیا ہے۔‘‘

’’ اچھا، بہت خوب، کیا حل نکالا ہے آپ نے؟‘‘ اس نے ہنس کر پوچھا۔

’’ آپ اپنی زکوۃ اپنی خالہ، اپنی تایا زاد اور سب سے پہلے اپنی بیوہ بہن کو کیوں نہیں دیتیں؟‘‘ میںنے سوال کیا۔

اگر اپنے قریبی رشتہ داروں کوزکوۃ دینے میں کوئی قباحت ہوتی تو اللہ تعالی اس کا ایسا نظام ہی کیوں بناتے کہ آپ اپنے والدین اور ان کے والدین، اور اپنی اولادوں اور ان کی اولادوں کے سوا، ہر کسی کو زکوۃ دے سکتے ہیں اور اس بات کا مطلب ہی یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنے مستحق رشتہ داروں کو زکوۃ دیں ۔ فلاحی، تعلیمی اور طبی اداروں میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے، مگر آپ کو ان پر بھروسہ نہیں تو نہ سہی۔ اپنے ارد گرد دیکھیں تو آپ کو اپنے گھر کے ملازمین، (جنہیں آپ تنخواہ کے علاوہ زکوۃبھی دے سکتے ہیں۔)

آپ کے گھر کا کوڑا اٹھانے والے، دھوبی، چوکیدار، مالی، کئی بوڑھے اور لاغر ریڑھیوں والے، رکشے چلانے والے اور کئی ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جن کے مستحق ہونے میں ہمیں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ …’’ مگر اپنوں کو زکوۃ دینے سے ان کی عزت نفس مجروح ہو گی، اس کا کیا؟‘‘ اس نے قائل ہوتے ہوئے سوال کیا۔

’’انہیں نہ بتائیں ، بہن ہے تو اسے کئی بہانوں سے دے سکتی ہیں آپ، ظاہر ہے کہ وہ میکے میں ہے تو سو ضروریات کا گلا گھونٹتی ہو گی۔ اپنی خالہ اور تایا زاد کو قرض حسنہ کہہ کر ان کی مدد کردیں۔ اصل میں انسان کی خود داری اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے روکتی ہے مگر اسے اگر خود سے کوئی مدد کی پیش کش کردے تو تھوڑی حیل و حجت کے بعد وہ اس مدد کو قبول کر لیتا ہے، بالخصوص بیماری اور تکلیف میں اسے یہ مدد غیبی مدد لگے گی۔ کسی کی مدد کر کے اس کی تشہیر نہ کریں تو ان کی خودداری بھی قائم رہے گی۔‘‘ میںنے وضاحت کی۔

’’ اسی لئے آپ کہہ رہی تھیں کہ میری نزدیک کی نظر کمزور ہے؟‘‘ اس نے کہا، ’’ ویسے یہ خیال میرے ذہن میں بھی کئی بار آتا تھا کہ میں اگر انہیں اپنی لاکھوں کی زکوۃ میں سے مدد کردوں تو ان کا مسئلہ حل ہو جائے مگر ان کی دل آزاری کے خیال سے رک جاتی تھی۔ اسی طرح ہمارے خاندان میں کئی ایسے سفید پوش بھی ہیں جو کئی مالی مسائل کا شکار ہیں مگر وہ کسی سے مانگ نہیں سکتے۔‘‘ اس نے بتایا، ’’ اب میں نزدیک دیکھنے والی عینک ہر وقت لگا کر رکھوں گی تا کہ میری نزدیک کی نظر مسلسل کا م کرے۔‘‘ اس نے ہنس کر کہا ۔ آپ بھی اپنی نزدیک کی عینک ہر وقت لگا کر رکھا کریں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔