خواجہ سراؤں کے حالات کب بدلیں گے؟

بینش صدیقہ  ہفتہ 30 مارچ 2024
قوانین بننے کے باوجود خواجہ سرا اب بھی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں۔ (فوٹو: فائل)

قوانین بننے کے باوجود خواجہ سرا اب بھی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں۔ (فوٹو: فائل)

’’اسکول اور کالج میں ساتھی طالب علم مجھے اوٸی اللہ باجی کہہ کر چھیڑتے تھے۔ مجھ میں اپنی شناخت کے حوالے سے اعتماد نہیں تھا اس لیے ان کی چھیڑ چھاڑ کا جواب نہیں دے پاتا تھا۔ کبھی روتا ہوا گھر آتا، تو کسی کو میرے آنسو پونچھنے کی فرصت نہیں ہوتی تھی۔ خدا خدا کرکے میٹرک ہوا تو مجھے لگا جیسے قید سے رہاٸی مل گٸی۔

تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا اور یہ غلط فہمی بھی کہ اب کالج میں سمجھ دار لوگ ہوں گے جو زندگی عذاب نہیں بناٸیں گے۔ یہی سوچ کر کالج میں داخلہ لیا۔ لیکن یہاں طالب علم صرف آوازیں نہیں کستے تھے بلکہ باقاعدہ ہراساں کرتے تھے۔ اگر میں ان سے پیچھا چھڑانے کےلیے اس جگہ سے فرار کی کوشش کرتا تو زدوکوب تک کرتے۔ شکایت کرتا تو کس سے؟ اساتذہ تک مجھ پر طنز کرنے یا جملے کسنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اس کا حل میں نے یہ نکالا کہ کالج جانا چھوڑ دیا۔ بس کسی نہ کسی طرح پرچے دیے امتحان میں کامیاب ہوگیا اور اس کے بعد آگے پڑھنے سے توبہ کرلی۔‘‘

احمد (فرضی نام) یہ باتیں کرتے ہوٸے کافی دل گرفتہ تھا جو لوگوں کے ناروا سلوک، تحقیر آمیز رویے اور ساتھی طالب علموں کی جانب سے ہراساں اور زد و کوب کرنے کے واقعات کے باعث تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ کٸی برس گزرنے کے باوجود اسے تعلیم ادھوری رہ جانے کا شدید دکھ ہے۔

احمد سے میری پہلی ملاقات ایک پارک میں ہوٸی جہاں وہ اپنے بھاٸی بہن کے بچوں کو لے کر آیا تھا۔ کراچی کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا احمد دس بہن بھاٸیوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ وہ پیداٸشی طور پر خواجہ سرا ہے۔ احمد کا کہنا ہے کہ بچپن میں تو اتنا احساس نہیں تھا لیکن بارہ چودہ برس کی عمر میں ہم جماعتوں کا رویہ تکلیف دہ ہونے لگا۔ وہ مجھے خسرا، ہیجڑا اور دیگر القابات سے نوازتے۔ کبھی کہتے ناچ کر دکھاؤ۔ میں روتا ہوا گھر آتا۔ میری والدہ گھر اور دیگر بہن بھاٸیوں کے کاموں میں الجھی ہوتیں۔ ان کے پاس میری دل جوٸی کی فرصت نہیں تھی۔ باہر والوں کے رویے تو پھر بھی رو دھو کر برداشت ہوجاتے لیکن میرے بھاٸیوں کا رویہ بھی دوسروں سے کم نہیں تھا۔ وہ مجھے تقریبات میں لے جانا پسند نہیں کرتے تھے، بات بات پر ڈانٹتے، بے عزتی کرتے۔ گھر اور باہر توہین آمیز رویوں سے تنگ آکر کتابوں میں پناہ لینے کوشش کی تو ساتھی طالب علموں نے جینا حرام کردیا۔

ٹرانس جینڈر پروٹیکشن راٸٹس بل

2018 میں قومی اسمبلی سے ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف راٸٹس) ایکٹ منظور ہوا تھا، جس کے مطابق تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر خواجہ سراؤں کے ساتھ امتیازی سلوک، تشدد اور ہراسانی کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ 2022 میں اس ایکٹ پر ٹرانس جینڈر کی تعریف اور میڈیکل کے حوالے سے اعتراضات اٹھے تھے۔ لیکن دیگر شقوں پر تمام حلقے متفق تھے۔ اس کے باوجود احمد جو پیداٸشی طور پر خواجہ سرا ہے، ان کی زندگی کا ایک اہم ترین دور ناامیدی پر ختم ہوگیا۔

یہ صرف احمد کی کہانی نہیں۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں 21 ہزار سے زاٸد خواجہ سرا موجود ہیں۔ جبکہ ٹرانس جینڈر کی نماٸندہ تنظیم ’’جیا‘‘ ان کی تعداد لاکھ سے زاٸد بتاتی ہے۔ ان میں سے سیکڑوں وہ افراد ہیں جو تعلیم حاصل کرکے ایک باوقار زندگی جینا چاہتے ہیں لیکن سماج میں اب بھی ان کی قبولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ تعلیم کے دروازے ان پر بند کردیے جاتے ہیں اور ملازمت ملنا بھی دیوانے کے خواب جیسا ہے۔ حالانکہ قوانین میں تبدیلی کرکے سرکاری اداروں میں خواجہ سراؤں کی تعلیمی استعداد کے مطابق روزگار کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے، اس کے باوجود حق دار کو حق نہیں مل رہا۔

خواجہ سراؤں کےلیے سرکاری ملازمت کا کوٹہ
احمد سے جب ہم نے پوچھا کہ انہوں نے کسی سرکاری نوکری کے حصول کی کوشش کیوں نہیں کی؟ تو انہوں نے بتایا کہ کٸی جگہ درخواستیں دیں۔ خواجہ سراؤں کے نماٸندے کہلانے والے اور میڈیا پر لاٸم لاٸٹ میں رہنے والے خواجہ سراؤں کے نماٸندوں کی بھی منتیں کیں کہ کہیں کلرک ہی لگوادیں لیکن کامیابی نہ ملی۔

احمد اپنی کمیونٹی کے سرکردہ افراد کے رویے سے بھی خوش نہیں۔ کہتے ہیں کمیونٹی کے نماٸندہ کہلانے والے افراد کی نیتیں درست نہیں، ورنہ گزشتہ پندرہ برسوں میں خواجہ سراؤں کے حق میں جتنی قانون سازی ہوٸی اب تک حالات کافی تبدیل ہوجانے چاہیے تھے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے خواجہ سراؤں کو ہنرمند بنانے کےلیے شہر کے مختلف علاقوں میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اور مشینری فراہم کی، لیکن ٹرانس جینڈر نماٸندوں نے سب سامان بیچ کر نوٹ کھرے کرلیے اور کسی نے پلٹ کر نہیں پوچھا کہ سب کہاں گیا۔

خواجہ سراؤں کے حقوق کی علمبردار بندیا رانا کہتی ہیں کہ 2009 میں سپریم کورٹ نے ملازمتوں میں 2 فیصد کوٹے کی بات کی، جو نہیں ملا۔ سابق وزیراعلیٰ سندھ قاٸم علی شاہ نے ملازمتوں میں کوٹے کا اعلان کیا تھا۔ آٸی جی سندھ پولیس نے پانچ فی صد کوٹہ مقرر کیا لیکن یہ سب بس کاغذات پر ہوتا رہا۔ خواجہ سراؤں کو ملازمت نہیں ملی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملازمتوں کےلیے دیے گٸے اشتہارات میں کہیں بھی یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ اس ملازمت کےلیے خواجہ سرا بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ اسی لیے خواجہ سرا درخواست دے کر اپنا پیسہ اور وقت ضاٸع نہیں کرنا چاہتے۔ بندیا رانا کا کہنا ہے کہ ہم اپنے لیے علحیدہ تعلیمی ادارے نہیں مانگتے ہیں۔ ہمارے لیے الگ اسکول کالج نہ بناٸیں بلکہ خواجہ سراؤں کےلیے اسکالر شپس مقرر کریں، ہم ساتھ رہ کر لوگوں کے رویے تبدیل کرانا چاہتے ہیں۔

بندیا رانا کہتی ہیں حالات اس وقت تک نہیں بدلیں گے جب تک ہمیں درست طور پر تسلیم نہیں کیا جاٸے گا۔ مردم شماری کہتی ہے ملک بھر میں ہماری کل تعداد 21 ہزار ہے جب کہ صرف کراچی میں بیس ہزار سے زاٸد ٹرانس جینڈر موجود ہیں۔ جیا فاؤنڈیشن کے پاس ان ٹرانس جینڈرز کا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی ویب ساٸٹ پر یہ ڈیٹا موجود ہے۔ عالمی اداروں میں امداد لینی ہوتی ہے تو ہماری تعداد بڑھا دیتے ہیں اور مردم شماری میں ہمیں منظر سے غاٸب کردیتے ہیں۔ ہماری تعداد کو کم اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کیونکہ تعداد زیادہ ہونے پر ہمیں تعلیم، صحت، روزگار، اسمبلی، ہر جگہ زیادہ کوٹہ دینا پڑے گا۔ ہمارے حقوق کو اگر درست طور پر کسی نے تسلیم کیا ہے تو وہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ انہوں نے ریزرو سیٹ دی ہے۔ ہر ٹاؤن میں ہماری ایک ریزرو سیٹ ہے۔ کے ایم سی میں بھی نشستیں دی گٸیں۔ اس سے ہماری جدوجہد تیز ہوگی۔

خواجہ سراؤں کےلیے ووکیشنل انسٹیٹوٹ بند کیوں ہوجاتے ہیں؟

خواجہ سراؤں کےلیے قاٸم کیے گٸے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ خاموشی سے بند کیوں ہوجاتے ہیں؟ اس حوالے سے بندیا رانا کا کہنا تھا کہ کورنگی پانچ نمبر میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قاٸم کیا گیا تھا جس میں خواجہ سراؤں کو سلاٸی کڑھاٸی، کھانا پکانا، بیوٹیشن سمیت دیگر کورسز کرائے جاتے اور دس ہزار روپے کا وظیفہ بھی دیا جاتا۔ لیکن خواجہ سراؤں نے اس میں دلچسپی نہیں لی۔ کیونکہ ان کے اخراجات دس ہزار میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اور اگر وہ سلاٸی سیکھ بھی لیں تو انہیں کام دے گا کون؟ اس لیے یہ سلسلہ چل نہیں پاتا۔ اور ادارے خاموشی سے بند ہوجاتے ہیں۔ بندیا رانا کہتی ہیں کہ خواجہ سرا ووکیشنل ٹریننگ کرنا نہیں چاہتے اور کر بھی لیں تو کون سا تیر مار لیں گے۔ لیکن ہر طرف سے مایوس ہوکر احمد نے اپنے بل بوتے پر کپڑوں کی سلاٸی کا کام سیکھا اور گلستان جوہر میں ایک دکان بنالی۔ مہارت کے باعث ان کا یہ کام چل پڑا۔ دس سال تک انتہاٸی محنت سے کام کیا۔ مالی حیثیت مستحکم ہوٸی تو بھاٸیوں نے بھی ان کے معاملے میں کسی حد تک برداشت کا دامن تھام لیا۔ وہ گھر میں بھتیجے بھتیجیوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی نمٹاتے نظر آتے ہیں۔

خواجہ سراؤں کے حوالے سے روایتی سوچ؛ حل کیا ہے؟

کراچی جیسے شہر کے ایک متوسط خاندان کا فرد ہونے کے باعث احمد بہت حد تک خوش قسمت ہیں کہ ان کی زندگی کی گاڑی تو چل پڑی۔ وہ کمیونٹی کا حصہ بن کر ناچنے گانے یا بھیک مانگنے کے بجائے اپنے ہنر کی بدولت ایک کارآمد شہری کے طور پر اپنی پہچان بنارہے ہیں۔ لیکن معاشرے کے بھیانک رویوں کے باعث ان کی زندگی میں بہت سی نا آسودگیاں رہ گٸی ہیں۔ وہ آج بھی اپنے ارد گرد کے افراد کے طنز و تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں۔ کیا خواجہ سراؤں کے ساتھ یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا؟

اس کا حل کیا ہے؟

ماہر نفسیات، جینڈر اسپیشلسٹ اور کنسلٹنٹ ساٸرہ علی کہتی ہیں کہ والدین کی سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے وہ ایسے بچوں کو دنیا سے چھپا کر رکھتے ہیں کہ کسی کو پتا نہ چل جائے کہ ان کا بچہ تیسری جنس سے تعلق رکھتا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ بچوں کو لوگوں سے چھپاٸیں نہیں لیکن سات سال تک اسکول مت بھیجیں۔ سات سے آٹھ برس میں انسانی دماغ کی نشوونما مکمل ہوجاتی ہے۔ وہ ابتداٸی سال بچوں کو گھروں میں تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔ ڈراٸنگ کراٸیں، نغمے یاد کراٸیں، کہانیاں سناٸیں، کھلونے لاکر دیں، چھوٹی چھوٹی مصروفیات پر تعریف کریں۔ اس سے ان کے اندر خود اعتمادی آئے گی کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں، ساتھ ہی والدین اور دیگر گھر والوں سے ان کا تعلق مضبوط ہوگا۔ اپنے گھر والوں پر ان کا بھروسہ قاٸم ہوجائے گا۔
سات سال کی عمر میں انہیں ذہنی طور پر تیار کریں کہ وہ اسکول جاٸیں گے۔ اسے کہانی کی صورت میں ’’بلینگ‘‘ سے آگاہ کریں۔ اپنے بچے کو گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ کی تعلیم دیں۔ ان اقدامات کے بعد جب بچہ اسکول جائے گا اور اسے باہر لوگ اگر تنگ بھی کریں گے تو وہ شرمندہ ہونے کے بجائے انہیں جواب دے سکے گا۔ اسے اعتماد ہوگا کہ اس کے گھر والے اسے سمجھتے ہیں، اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کی شخصیت تباہ ہونے سے بچ جائے گی۔ ساتھ ہی ہر بچے کی طرح تیسری جنس کے بچوں کو ورزش کا عادی بناٸیں۔ اس سے جو ان کی انرجی ہے وہ مثبت اثر انداز ہوگی۔ ان کا غصہ، اینگزاٸٹی وغیرہ جم میں ورزش کرنے سے باہر نکلیں گی۔

پندرہ برسوں میں انقلابی اقدامات کے باوجود آخر خواجہ سراؤں کی زندگیاں اور معاشرتی سوچ میں واضح تبدیلی کیوں نہیں ہورہی؟ یہی سوال جب ہم نے صحافی شیما صدیقی سے کیا تو ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی سوچ اس لیے تبدیل نہیں ہورہی کہ قوانین تو بن رہے ہیں لیکن عمل درآمد نہیں ہورہا۔ کچھ قصور خواجہ سراؤں کے نماٸندوں کا بھی ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کو ہنرمند اور باعزت روزگار سے وابستہ ہونے پر خاص اصرار کرتے نظر نہیں آتے۔ انہیس اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ لوگ خواجہ سراؤں کو اپنے جیسا ایک انسان سمجھنا اس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک نہ صرف میڈیا بلکہ منبر و مسجد جیسے پلیٹ فارمز سے بھی اس حوالے سے آگاہی اور شعور نہیں دیا جائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

بینش صدیقہ

بینش صدیقہ

بلاگر پندرہ برس سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ نجی نیوز چینلز میں بطور سینٸر پروڈیوسر نیوز وابستگی رہی۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر ان کی تحریریں اخبارات و نیوز ویب ساٸٹ پر شاٸع ہوتی رہتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات اور اردو ادب میں ماسٹرز اور ادب میں پی ایچ ڈی مکمل کرچکی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔