روٹھا بابر مان گیا

سلیم خالق  پير 1 اپريل 2024
شاہین اچھی طرح جانتے تھے کہ ایسا ہونے والا ہے، وہ تو ایک موقع پر خود ہی مستعفی ہونے کا بھی سوچ رہے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

شاہین اچھی طرح جانتے تھے کہ ایسا ہونے والا ہے، وہ تو ایک موقع پر خود ہی مستعفی ہونے کا بھی سوچ رہے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

’’ہم قیادت میں تبدیلی کا سوچ رہے ہیں‘‘ جب ایک سلیکٹر نے شاہین آفریدی سے یہ کہا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا ’’اچھا مگر وجہ کیا ہے‘‘ اس پر جواب ملا ’’وہ دراصل بیٹسمین بولر سے اچھا کپتان ہوتا ہے ناں‘‘ شاہین کی مسکراہٹ بڑی معنی خیز تھی کیونکہ کسی کو کپتانی سے ہٹانے کا اس سے زیادہ مضحکہ خیز کوئی جواز ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

جب ساری دنیا کو پتا چل گیا کہ بابر اعظم کو دوبارہ قیادت سونپی جا رہی ہے تب پی سی بی کو خیال آیا کہ موجودہ کپتان کو بھی اعتماد میں لے لینا چاہیے، شاہین اچھی طرح جانتے تھے کہ ایسا ہونے والا ہے ، وہ تو ایک موقع پر خود ہی مستعفی ہونے کا بھی سوچ رہے تھے لیکن قریبی لوگوں نے روک دیا، اب بورڈ کے رابطے پر اسی لیے ذہنی طور پر تیار نظر آئے، انھوں نے جواب دیا کہ ’’آپ لوگوں کی جو مرضی وہ کریں‘‘

اب ہم دوسری جانب چلتے ہیں، بابر اعظم کو کپتان بنانے کی باتیں کئی روز سے چل رہی تھیں، نئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی ہر حال میں انھیں اس روپ میں دیکھنا چاہتے تھے، بابر اپنے ساتھ سابقہ انتظامیہ کے سلوک پر نالاں تھے،انھوں نے مطالبات کی ایک فہرست سامنے رکھ دی، کئی باتیں بورڈ نے مان بھی لیں، ہر بیٹا اپنے باپ کو بہت اہمیت دیتا ہے، بابر کیلیے ان کے والد نے قربانیاں بھی بہت زیادہ دی ہیں، وہ تو ہر فیصلہ انہی سے پوچھ کر کرتے ہیں، انھوں نے والد کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کر کے کہا کہ ’’ابو جی اب بتائیں مجھے کیا کرنا چاہیے۔

جواب میں والد نے کہاکہ ’’ بوبی پتر سب سے بڑھ کر پاکستان ہے تم کو انکار نہیں کرنا چاہیے ‘‘ یہ سن کر بابر نے بھی بورڈ کو ہاں میں جواب دے دیا، یوں اتوار کو وہ ’’بریکنگ نیوز‘‘ سامنے آ گئی جس کا کئی روز سے سب کو علم تھا، اس تمام تر معاملے میں شاہین کے ساتھ بہت غلط ہوا، وہ بیچارے صرف ایک سیریز کیلیے قومی کپتان رہ سکے، آپ دنیا میں کسی کو بھی قیادت سونپ دیں صرف ایک سیریز سے صلاحیتوں کا اندازہ نہیں لگا سکتے، بورڈ نے اپنے  پیمانے کی وضاحت نہیں کی۔

اگر پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کی شکستوں پر شاہین کو ہٹایا گیا تو ماضی میں بطورکراچی کنگز  کپتان بابر کو ان سے زیادہ ناکامیاں برداشت کرنا پڑی تھیں تب تو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا،شاہین ایک ایماندار، صاف گو اور کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلنے والا لڑکا ہے، بابر کو کئی کامیابیاں شاہین نے ہی اپنی بولنگ سے دلائیں، اب ورلڈکپ صرف 2 ماہ کے فاصلے پر ہے اور ہم نے کپتان تبدیل کر دیا، معاملے میں مس مینجمنٹ بھی سامنے آئی، 12مارچ کو پہلی بار میں نے کپتانی میں تبدیلی کے حوالے سے خبر دی۔

یقیناً فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہوگا لیکن 2 ہفتے سے زائد وقت گذرنے کے بعد بھی کسی نے شاہین سے یہ نہیں کہا کہ خبر غلط ہے ٹینشن نہ لو یا واقعی ہم کپتانی میں تبدیلی کا سوچ رہے ہیں، حد تو یہ ہے کہ 27  مارچ کو جب میں نے بابر کے کپتانی سنبھالنے کی خبر دی تب بھی شاہین کو آفیشل طور پر کچھ نہیں بتایا گیا، جب ان کے اندھیرے میں رہنے کی رپورٹ شائع ہوئی تو ایک سلیکٹر نے رسمی کارروائی پوری کر دی جس کی تفصیل میں نے ابتدا میں بیان کی ہے۔

شاہین آپ کے نمبر ون فاسٹ بولر ہیں اور وہ کسی صورت اس سلوک کے مستحق نہیں تھے، انھوں نے تو ورلڈکپ کی تیاریاں بھی شروع کر دی تھیں،اسی لیے عماد وسیم اور محمد عامر کو بھی ریٹائرمنٹ واپس لینے پر قائل کیا، اب بابر کیلیے ایک بڑا مسئلہ ان دونوں کی واپسی بھی ہے کیونکہ آپس کے تعلقات مثالی نہیں ہیں، عامر اور عماد نے کئی بار بابر کی کپتانی اور بیٹنگ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، یہاں بھی بابر کو ان کے والد سے مشورہ ملا کہ دونوں سینئرز کے پاس خود جا کر گلے شکوے دور کرو تاکہ ایک متحد پاکستانی ٹیم سامنے آ سکے، اس معاملے میں بابر کا قصور نہیں جس طرح انھیں کپتانی سے ہٹایا گیا اور شاہین نے پیشکش قبول کر لی۔

اسی طرح اب شاہین کو ہٹانے پر بابر کپتان بننے پر راضی ہو گئے، بابر کی برطرفی کا طریقہ کار بھی درست نہ تھا، اس وقت کہا گیا کہ پلیئرز ایجنٹ کمپنی کا اثرورسوخ کم کرنے کیلیے قیادت میں تبدیلی کی، البتہ بابر کی طرح شاہین بھی ’’سایا کارپوریشن‘‘ کے ہی زیر سایہ ہیں،شان مسعود کی ٹیسٹ قیادت فی الحال بچ گئی کیونکہ ان کی ’’بیک‘‘ بھی بہت مضبوط ہے، اب ٹیم میں گروپنگ کا خطرہ ہے، کم از کم تین گروپس بن سکتے ہیں، اس مسئلے کو حل کرنے کیلیے بورڈ کو ابھی سے کوشش کرنا چاہیے۔

ماضی میں ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کیلیے ’’سوچنا بھی منع ہے‘‘ کی سوشل میڈیا مہم چلانے والے کھلاڑی اب دور ہو گئے ہیں، کہا گیا کہ فیصلہ سلیکٹرز کے کہنے پر ہوا حالانکہ کپتان کی تبدیلی تو اسی وقت طے ہو چکی تھی جب سلیکشن کمیٹی بنی ہی نہیں تھی، ویسے بھی یہ کمیٹی عجیب سی ہے، عبدالرزاق ٹی وی پر جگت بازی کرتے نظر آ رہے وہ سلیکٹر بن گئے، یوسف تو یس مین ہی ہیں، گوکہ کوئی سربراہ نہیں لیکن محسن نقوی سے قریبی تعلق وہاب ریاض کو ہی باس ثابت کرتا ہے، اسد شفیق چند ماہ قبل تک کرکٹ کھیل رہے تھے اب کراچی کے کوٹے پر سلیکٹر بن گئے، کئی صوبوں کی نمائندگی ہی نہیں ہے۔

سابق وزیر بلال افضل کی شمولیت سب سے زیادہ حیران کن ہے، کرکٹ کو سیاسی شخصیات سے دور رکھنے کی باتیں اسی لیے ہوتی ہیں، ابھی تک کوچز کا بھی تقرر نہیں ہو سکا، دنیا بھر میں جتنے سابق کرکٹرز کوچنگ کر رہے ہیں، میڈیا باری باری سب کے نام دے چکا، اب شاید جیسن گلیسپی اور گیری کرسٹن پر اتفاق ہو چکا لیکن پی سی بی کے بقراطوں نے اشتہار اب جاری کیا ہے،آخری تاریخ15 اپریل سے قبل کسی کا تقرر نہیں ہو سکتا۔

18 تاریخ کو نیوزی لینڈ سے پہلا ٹی ٹوئنٹی ہے، یعنی عبوری لوکل سیٹ اپ سے کام چلانا پڑے گا، نقوی صاحب کو کرکٹنگ امور کیلیے بھی نئی اور اچھی ٹیم بنانا ہوگی، خیر  اب امید یہی رکھنی چاہیے کہ ٹیم متحد رہ کر اچھا پرفارم کرے گی، بابر کیلیے کئی بڑے چیلنجز منتظر ہیں، جیسے بطور بیٹر انھوں نے شاندار پرفارم کیا اب کپتانی کی دوسری اننگز میں بھی ویسے ہی کرنا پڑے گا اور وہ اس کے اہل بھی ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔