اقوامِ متحدہ کی نسل کشی رپورٹ ( قسط اول )

وسعت اللہ خان  منگل 2 اپريل 2024

( اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پچیس مارچ کو خصوصی نمایندے فرانسسیکا البانیز نے ایک مفصل رپورٹ پیش کی۔اس میں اس بنیادی سوال کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اسرائیل ایک نسل کش ریاست ہے یا نہیں ؟ یہ رپورٹ چونکہ سب سے ذمے دار عالمی ادارے کے ایک سینئر اہلکار نے مرتب کی ہے لہٰذا کسی ممکنہ تعصب یا جانبداری کا شائبہ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ میں اس رپورٹ کا قسط وار خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔ تاکہ آپ اسرائیل کی نسل کش پالیسیاں اقوامِ متحدہ کے نقطہ نظر سے دیکھ اور پرکھ سکیں )۔

’’ یہ مناقشہ سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی مسلح یلغار سے شروع ہوا۔اس کے نتیجے میں تقریباً بارہ سو اسرائیلی شہری اور مسلح اداروں کے ارکان ہلاک ہوئے اور لگ بھگ ڈھائی سو شہریوں کو یرغمال بنایا گیا۔ان میں اسرائیلی مسلح اداروں کے چند ارکان بھی شامل تھے۔

اسرائیل نے جوابی فضائی اور بری فوجی کارروائی شروع کی اور پہلے نو دن میں غزہ میں دو ہزار چھ سو ستر ہلاکتیں ہوئیں۔یہ ہلاکتیں غزہ میں دو ہزار چودہ کی اسرائیلی مسلح کارروائی میں مرنے والے شہریوں (دو ہزار دو سو اکیاون) کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ تھیں۔ اسرائیلی مہم اب ساتویں مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس دوران انفرادی سطح سے لے کر عالمی عدالتِ انصاف تک ہر جگہ یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آیا یہ کوئی دفاعی کارروائی ہے یا نسل کشی کی منصوبہ بند مہم ؟

جینوسائیڈ یا نسل کشی کی اصطلاح انیس سو چوالیس میں ایک یہود نژاد پولش قانون دان رافیل لیمکن نے وضع کی۔اس کا مقصد یورپی یہودیوں اور پولش شہریوں کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی نازی جرمن پالیسی کا احاطہ کرنا تھا۔رافیل لیمکن نے جنگ کے خاتمے کے بعد انیس سو اڑتالیس میں نسل کشی کی روک تھام کا عالمی کنونشن وضع کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

لیمکن کی تعریف کے مطابق نسل کشی کے کئی مرحلے ہیں۔ان میں کسی مخصوص گروہ کو جسمانی طور پر مٹانے یا تتر بتر کر کے اس کی آبائی زمین اور املاک سے بے دخلی کے عمل سے لے کر اس کے سماجی و سیاسی اداروں، زبان ، ثقافت اور مذہبی اقدار کی مرحلہ وار یا یکدم تباہی کی کوشش شامل ہے۔

نسل کشی کسی بھی زمین اور اس کے وسائل پر جبراً قبضہ کر کے اسے اپنی نوآبادی بنانے کے عمل کا لازمی جزو ہے۔ جیسا کہ یورپی نوآبادکاروں نے امریکا ، آسٹریلیا اور نمیبیا کے اصل باشندوں کو مسلح اور غیر مسلح طریقوں سے ہلاک یا بے دخل کیا ، انھیں جبراً دور دراز علاقوں میں منتقل کیا ، ان کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود کر دیا۔ان کے بچوں کو اجنبی ثقافت میں جبراً ضم کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ان کی خواتین کو بانجھ کرنے کی مہم چلائی گئی تاکہ مستقبل میں یہ گروہ کسی بھی طرح اپنی چھینی ہوئی زمین یا وسائل پر اپنی دعوی داری کے لیے کھڑا رہ سکے۔

اگر اس تعریف کے آئینے میں فلسطین کو دیکھا جائے تو اسرائیل کی پیدائش سے آٹھ برس پہلے ہی انیس سو چالیس میں فلسطین میں جوئش کالونائزیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ جوزف ویٹز نے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا کہ ’’اس ملک میں بیک وقت دو گروہ نہیں بس سکتے۔واحد حل یہ ہے کہ فلسطین عربوں سے خالی ہو جائے اور ان کے کسی گاؤں یا قبیلے کا اس سرزمین پر وجود نہ رہے ‘‘۔

چنانچہ انیس سو اڑتالیس سے انچاس تک اور پھر جون انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کے بعد سے اب تک لاکھوں فلسطینیوں کو اسرائیلی حدود کے علاوہ مغربی کنارے اور یروشلم سے بے دخل کیا گیا۔ان کے گاؤں، گھر اور املاک تباہ کی گئیں یا لوٹا گیا یا مارا گیا اور ان کی وطن واپسی کی تمام راہیں مسدود کر دی گئیں۔

جون انیس سو سڑسٹھ کے بعد سے فلسطینی اکثریتی مغربی کنارے اور غزہ پر براہ راست اسرائیلی فوجی قوانین نافذ کیے گئے۔انھیں حقِ خوداختیاری کے مطالبے سے باز رکھنے کے لیے ان کی آبادیوں کو الگ تھلگ کیا گیا۔امتیازی تادیبی ضوابط وضع کیے گئے۔ بہت سوں کی شہریت منسوخ کر کے دیس نکالا دیا گیا۔ گھروں کو ضبط یا مسمار کرنے کی پالیسی اپنائی گئی اور آبائی زمینوں کو بحقِ سرکار ضبط کر کے ان پر یہودی آبادکار بستیاں بسانے کا سلسلہ شروع ہوا۔اسرائیل نے فلسطینیوں کو باضابطہ طور پر اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ یوں بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی انسان کو جان و مال و عزت کے تحفظ کے جو بنیادی حقوق حاصل ہیں ان سے محروم کر دیا گیا۔

غزہ کی پٹی سے اگرچہ دو ہزار پانچ میں اسرائیلی فوجی قبضہ ہٹا لیا گیا اور وہاں آباد یہودی آبادکاروں کو اسرائیل اور مغربی کنارے پر منتقل کر دیا گیا۔مگر غزہ پر ایک جامع ناکہ بندی کا شکنجہ کس دیا گیا۔ اسرائیل نے غزہ پر کبھی بھی حقِ ملکیت سے دستبرداری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔بلکہ دسمبر دو ہزار بائیس میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے غزہ کو ایک وسیع تر یہودی وطن کا اٹوٹ انگ قرار دیا۔

انیس سو اڑتالیس میں نسل کشی کی روک تھام کے لیے جو بین الاقوامی کنونشن اپنایا گیا اس کی نہ صرف اقوامِ متحدہ کی پانچوں ویٹو پاورز بلکہ اسرائیل نے بھی توثیق کی۔اس کنونشن کے تحت نسل کشی ایسا جرم ہے جس کو کسی ریاست کے حقِ دفاع سے نہیں جوڑا جا سکتا۔نسل کشی کے عمل کی حمائیت اور اعانت بھی اتنا ہی سنگین جرم ہے جتنا کہ خود نسل کشی کا عمل۔ ایسے اقدامات کا بین الاقوامی قوانین کے تحت کوئی دفاع نہیں ہو سکتا۔نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی سماعت نہ صرف ریاستی عدلیہ بلکہ بین الاقوامی عدلیہ کے دائرہ کار میں بھی آتی ہے۔

نسل کشی کی تعریف سات نکات پر مشتمل ہے۔ کسی مخصوص نسلی ، مذہبی یا سیاسی گروہ کی اجتماعی ہلاکت کا عمل ، جسمانی و ذہنی نقصان پہنچانے کا عمل ، زندگی کو تنگ کر دینے کے ایسے سوچے سمجھے اقدامات جن کا نتیجہ اس گروہ کی جسمانی و مادی تباہی کی صورت میں نکلے،اس گروہ کی تولیدی صلاحیت چھیننے کے اقدامات ، اس گروہ کے بچوں کو جبراً منتقل کرنے یا کسی اور گروہ کے حوالے کرنے کا عمل ، یا ایسے کسی عمل کو سرانجام دینے کی عمومی خواہش یا کسی گروہ کو صفحہِ ہستی سے مٹانے یا تتر بتر کر دینے کی سوچی سمجھی پالیسی۔

ان میں سے کوئی بھی اقدام نسل کشی کے احاطے میں آتا ہے۔نسل کشی کی ذمے دار کوئی ریاست بھی قرار دی جا سکتی ہے یا ریاستی فیصلے کرنے والے عمل داروں کو بھی ملزم ٹھہرایا جا سکتا ہے۔اگر ریاست ان عمل داروں کو سزا نہیں دیتی تو پھر پوری ریاست اس عمل کی ذمے دار تصور کی جائے گی ‘‘۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کے نزدیک اسرائیل غزہ میں نسل کشی کی سات میں سے تین بنیادی شرائط پر فی الحال پورا اتر رہا ہے۔یہ شرائط کیا ہیں۔تفصیل اگلی قسط میں۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔