اسکول جانے سے محروم بچوں کے مسائل

زین الملوک  بدھ 3 اپريل 2024
تعلیم تک رسائی کے بغیر بچے استحصال، غربت اور سماجی اخراج کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

تعلیم تک رسائی کے بغیر بچے استحصال، غربت اور سماجی اخراج کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

تعلیم کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جو افراد اور معاشروں کی ترقی اور انھیں بااختیار بنانے کےلیے ضروری ہے۔ تعلیم ذاتی ترقی، اقتصادی خوشحالی اور سماجی ترقی کےلیے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر فرد کسی بھی صنف، نسل، سماجی و اقتصادی حیثیت یا جغرافیائی محل وقوع سے قطع نظر معیاری تعلیم تک رسائی کا مستحق ہے۔ تاہم عالمی تعلیمی اقدامات میں نمایاں پیش رفت کے باوجود دنیا بھر میں عموماً اور خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں بچے اسکول نہیں جاتے۔

تعلیم محض خصوصی مراعات نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یہ افراد کو مکمل زندگی گزارنے اور اپنے معاشروں میں بامعنی تعاون کرنے کےلیے ضروری علم، ہنر اور مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس کو تسلیم کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ اور بچوں کے حقوق کے کنونشن جیسے بین الاقوامی معاہدے تعلیم کو تمام افراد کےلیے بنیادی حق کے طور پر تصدیق کرتے ہیں۔

تاہم! ان اعلامیوں کے باوجود پاکستان اسکول نہ جانے والے بچوں کے اہم مسئلے سے دوچار ہے ۔ یونیسکو کے مطابق پاکستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 22.8 ملین بچے تعلیم کے حق سے محروم ہیں، جو کہ اس عمر کے بچوں کا 44 فیصد بنتا ہے۔ 5 سے 9 سال کی عمر میں 5 ملین بچے اسکولوں میں داخل نہیں اور پرائمری اسکول کی عمر کے بعد اسکول چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد دگنی ہوجاتی ہے۔ 10سے 14 سال کی عمر کے 11.4 ملین نوجوان رسمی تعلیم حاصل نہیں کرپاتے۔

سندھ میں 15 فیصد بچے، جن میں سے 52 فیصد غریب ترین بچے (58 فیصد لڑکیاں) اسکول سے باہر ہیں۔ پنجاب میں 14 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے اور بلوچستان میں47 فیصد بچے (78 فی صد لڑکیاں) اسکول سے باہر ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے (رقبے کے لحاظ سے) کے تقریباً نصف بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ بلوچستان کے کئی اضلاع میں ایک ہزار سے زائد پرائمری اور سیکنڈری اسکول عارضی طور پر غیر فعال ہیں جب کہ دیگر 44 کو دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے مستقل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں بھی صورتِ حال مختلف نہیں، جہاں چار میں سے ایک بچہ اسکول سے باہر ہے۔ 2021-22 کےلیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کیے گئے مردم شماری کے سروے کے مطابق خیبرپختونخوا میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 4.7 ملین بچے اسکول نہیں جاتے۔

پرائمری سطح پر تقریباً 10.7 ملین لڑکے اور 8.6 ملین لڑکیاں اسکولوں میں داخلہ لیتے ہیں اور نچلی ثانوی سطح پر 3.6 ملین لڑکے اور 2.8 ملین لڑکیاں رہ جاتی ہیں۔ یہ مسئلہ غیر متناسب طور پر پس ماندہ معاشروں بشمول بچیوں، دیہی آبادی اور غربت میں رہنے والوں کو متاثر کررہا ہے۔ جنس، سماجی و اقتصادی حیثیت اور جغرافیہ کی بنیاد پر تفاوت ہمیشہ نمایاں ہے۔

پاکستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی بڑی تعداد میں کئی عوامل کارفرما ہیں۔ اس سلسلے میں غربت ایک بڑی رکاوٹ ہے کیوں کہ خاندان اکثر اسکول کی تعلیم سے منسلک اخراجات جیسے ٹیوشن فیس، یونیفارم اور نصابی کتابوں کے اخراجات برداشت نہیں کرپاتے۔ ورلڈ بینک کے مطابق 2023 تک پاکستان میں غربت کی شرح 37.2 فیصد (3.65ڈالر یومیہ) تھی۔ اس غربت کی وجہ سے بچے اپنے خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ ہیں اور اس طرح وہ اسکول جانے کے بجائے محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ نیز ثقافتی رسم و رواج اور سماجی توقعات، خاص طور پر دیہی علاقوں میں لڑکوں کی تعلیم کو لڑکیوں پر ترجیح دینا، بچیوں کی کم عمری میں شادی اور صنفی امتیاز لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کو مزید محدود کرتے ہیں۔ شہری علاقوں میں عموماً اور دور دراز علاقوں میں خصوصاً لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ اسکولوں کا نہ ہونا، ناکافی انفرااسٹرکچر، اسکولوں اور قابل اساتذہ کی کمی جیسے مسائل اس معاملے کو مزید بڑھاتے ہیں۔

مجھے آج بھی وہ صبح یاد ہے جب ہمارے ایک ہم جماعت نے یونیفارم کے بغیر آکر اسکول اسمبلی میں شرکت کی تو ہمارے ایک محترم استاد کی غیرت جاگ اٹھی اور انھوں نے اُس بےچارے کی وہ درگت بنائی کہ اس دن کے بعد سے اس بیچارے نے ساری زندگی اسکول کے پاس سے بھی گزرنا گوارا نہ کیا۔ اس ذلت کو برداشت نہ کرسکنے کے باعث اُس نے اپنا علاقہ ہی چھوڑ دیا اور اپنی قیمتی زندگی منفی سرگرمیوں میں گنوا دی۔ حاصلِ مثال یہ ہے کہ غربت اور دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا بے رحمانہ رویہ بھی بچوں کے اسکول چھوڑ جانے میں برابر کا حصہ دار ہے۔

اس تعلیمی تفاوت کے نتائج دور رس اور گہرے ہیں۔ تعلیم تک رسائی کے بغیر بچے استحصال، غربت اور سماجی اخراج کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ وہ ضروری مہارتوں اور علم کو فروغ دینے کے مواقع سے محروم ہونے کے ساتھ غربت کے چکر کو توڑنے اور قومی ترقی میں حصہ ڈالنے کی صلاحیت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم کے حق سے محروم رہنا سماجی عدم مساوات کو برقرار رکھنے کے ساتھ صنفی مساوات اور سماجی انصاف کی جانب پیش رفت میں بھی رکاوٹ ہے۔

پاکستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کے مسئلے سے نمٹنے کےلیے ایک کثیرالجہتی فکر و خیال کی ضرورت ہے جس میں پالیسی اصلاحات، مختلف اہداف کا تعین اور کمیونٹی کا اشتراک شامل ہو۔

اولاً: تعلیم میں سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت ہے، خاص طور پر کم سہولیات والے علاقوں میں معیاری اسکولوں تک رسائی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس میں نئے اسکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی بھرتی اور تربیت، برائے نام اسکولوں (گھوسٹ اسکول) اور برائے نام اساتذہ (گھوسٹ ٹیچرز) کی فعالی، اور مالی طور پر کم زور خاندانوں کو وظائف اور مالی امداد کی فراہمی شامل ہے۔ پاکستان مجموعی ملکی پیداوار کا صرف 1.7 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے لیکن حکومت کو اپنے تعلیمی شعبے کی بہتری کےلیے کم از کم 4 فیصد حصہ مختص کرنا چاہیے۔

دوم: صنفی مساوات کو فروغ دینے اور امتیازی سلوک کو ختم کرنے کی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس میں ان ثقافتی اصولوں اور دقیانوسی تصورات کو نشانۂ ہدف بنانے کی ضرورت ہے جو تعلیم میں صنفی بنیاد پر تفاوت کو برقرار رکھتے ہیں۔ نیز لڑکوں اور لڑکیوں کےلیے اسکول تک رسائی کے مساوی مواقع کو یقینی بنانا ہے۔

سوم: تعلیم سے اخراج کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کےلیے کمیونٹی کی شمولیت اور بیداری پیدا کرنے کے اقدامات بھی بہت اہم ہیں۔ محکمۂ تعلیم اور اسکولوں کے اساتذہ والدین، مقامی رہنماؤں اور کمیونٹی کے سرکردہ اراکین کے ساتھ مل کر تعلیم کےلیے ایک معاون ماحول کو فروغ اور خاندانوں کو اپنے بچے تعلیم کی خاطر اسکول بھیجنے کو ترجیح دینے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

چہارم: موبائل اسکول اور فاصلاتی تعلیم جیسے اختراعی طریقوں سے بچوں کو دور دراز علاقوں میں جہاں روایتی اسکول ناقابل رسائی ہیں، تعلیم تک رسائی میں مدد مل سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل وسائل سے فائدہ اٹھا کراس خلا کو پُر کیا جاسکتا ہے تاکہ جغرافیائی طور پر دور اور الگ تھلگ رہنے والوں کو تعلیمی مواقع فراہم ہوسکیں۔

مزید برآں، صرف بچوں کو اسکول میں داخل کرنا کافی نہیں، ان کے تعلیمی سفر کو برقرار رکھنے اور اس سفر میں ان کی بامعنی شرکت کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ لہٰذا، تعلیمی معیار کو بڑھانے کےلیے جامع حکمت عملیوں پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے، جس میں نصاب میں اصلاحات، اساتذہ کی تربیت، اور سیکھنے کے مناسب وسائل کی فراہمی شامل ہے۔

تعلیم ایک بنیادی انسانی حق ہے جس تک سب کی رسائی ہونی چاہیے، اس کے باوجود پاکستان میں لاکھوں بچے اس بنیادی حق سے محروم ہیں۔ اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے کو حل کرنے کےلیے قومی، کمیونٹی اور انفرادی سطح پر رکاوٹوں کو دور کرنے اور ایک جامع اور مساوی تعلیمی نظام کی تشکیل کےلیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ تعلیم میں سرمایہ کاری کرکے، صنفی مساوات کو فروغ دے کر اور کمیونٹیز کو شامل کرکے پاکستان اپنے نوجوانوں کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جو کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں مثبت کردار ادا کرنے والے پیداواری، ہنرمند اور اچھی پرورش کرنے والے شہریوں کی نسل کو فروغ دے سکتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

زین الملوک

زین الملوک

بلاگر ایم اے اردو (پشاور یونیورسٹی)، ایم اے سیاسیات (پشاور یونیورسٹی) اور ایم ایڈ (آغاخان یونیورسٹی، کراچی) ڈگری کے حامل ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے شعبۂ تعلیم اور آج کل آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ، کراچی سے بطورِ منیجر ایگزامینیشن ڈیولپمنٹ وابستہ ہیں۔ ان سے ای میل [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔