شاہین اور بابر کے دل صاف کرائیں

سلیم خالق  پير 8 اپريل 2024
محسن نقوی نے کاکول میں اکیلے ملاقات سے گریزکیا شایدانھیں لگتا تھاکہ ایسا کیاتو پلیئر کے پریشرمیں آنے کا تاثر آئے گا (فوٹو: ایکسپریس ویب)

محسن نقوی نے کاکول میں اکیلے ملاقات سے گریزکیا شایدانھیں لگتا تھاکہ ایسا کیاتو پلیئر کے پریشرمیں آنے کا تاثر آئے گا (فوٹو: ایکسپریس ویب)

اسٹیڈیم شائقین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا،آئی پی ایل کا میچ ختم ہوا تو ممبئی انڈینز کے کپتان ہردیک پانڈیا سینئر کھلاڑی روہت شرما سے گلے ملنے کیلیے آگے بڑھے مگر انھوں نے ہاتھ جھٹک دیا، یہ منظر ہزاروں افراد نے دیکھا، اسی طرح فیلڈ میں دونوں کا بحث مباحثہ، روہت کی فیلڈ پوزیشن و دیگر معاملات بھی سب کے سامنے تھے۔

مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب روہت شرما کی جگہ پانڈیا کو فرنچائز نے کپتان مقرر کر دیا، روہت واضح طور پر غصے میں تھے اوراس کا اظہار بھی کرتے رہے، اس کا نقصان انہی کو ہوا اور  فارم متاثر ہو گئی، ساتھ ٹیم بھی ہارتی گئی، روہت کی فین فولوئنگ بہت ہے۔

ہر میچ کے دوران اسٹیڈیم میں پانڈیا کے خلاف نعرے بازی ہوتی رہی، یہ دیکھ کر غیرملکی کمنٹیٹرز بھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ انھوں نے ہوم گراؤنڈز پر کسی میزبان اسٹار کے ساتھ ایسا سلوک ہوتے نہیں دیکھا۔ یہ مسئلہ صرف آئی پی ایل تک محدود نہیں بھارتی بورڈ کوخطرہ ہے کہ سینئر کھلاڑیوں کی اس لڑائی سے کہیں ٹیم کی ورلڈکپ میں کارکردگی متاثر نہ ہو جائے۔

اب ہم اپنے ملکی کرکٹ حالات کا جائزہ لیتے ہیں یہاں بیچارے شاہین شاہ آفریدی نے صرف ایک سیریز میں کپتانی کی اور اسے سبکدوش کر دیا گیا،آخر تک اس فیصلے کے متعلق اعتماد میں نہیں لیا اور جب سلیکٹر نے بات کی توایسا مضحکہ خیز جواز دیا جو اب تک موضوع بحث ہے، شاہین ایک 24 سال کا نوجوان ہے۔

وہ اس وقت سخت غصے میں ہے لیکن بڑوں نے کسی سخت اقدام سے روکا ہوا ہے، البتہ سوشل میڈیا پوسٹ سے کسی حد تک اپنے دل کی بھڑاس ضرور نکالی، ہونا یہ چاہیے تھا کہ پی سی بی کے چیئرمین اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر شاہین اور بابر اعظم کو ملاقات کیلیے بلاتے وہاں کپتانی پر بات ہوتی اور پھر چند روز بعد فیصلے کااعلان کر دیتے، یہاں ایسا نہیں کیا گیا، بعد میں بھی غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش نہیں ہوئی، سونے پر سہاگہ فرضی بیان جاری کر کے شاہین کو مزید اشتعال دلایا گیا، پھر آرام دینے کی خبریں چلوا دیں، یہ سب کچھ کیا ہے؟

اس سے پہلے بابر اعظم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا، انھوں نے تو بورڈ سے تعاون کرنا ہی چھوڑ دیا تھا، انٹرویوز وغیرہ بھی نہیں دیتے تھے، گوکہ بابر کے اپنے فینز بھی بڑی تعداد میں ہیں لیکن ایجنٹ کمپنی بھی سوشل میڈیا پر انھیں کنگ بنا کررکھتی ہے۔

جیسے پی ٹی آئی اور عمران خان کیخلاف آپ کچھ کہیں تو سوشل میڈیا نہیں بخشتا ایسا ہی بابر کے معاملے میں بھی ہے، جب شاہین نے بابر کی جگہ کپتانی سنبھالی تو ان کیخلاف بھی کافی پوسٹس ہوئی تھیں، یوں ملک کے بہترین بولر اور بہترین بیٹر کو ایک دوسرے کا حریف بنا دیا گیا ، اب بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بابر اور شاہین کی ایجنٹ کمپنی ایک ہی ہے لیکن سوشل میڈیا پر شاہین کی اڑان اتنی اونچی دکھائی نہیں دیتی، معاملات کی سنگینی کا پی سی بی کو اندازہ نہیں،دل صاف نہیں ہیں ایسے میں یکجا ہو کر کیسے کھیلیں گے؟ آپ شاہین کے بغیر ورلڈکپ نہیں جیت سکتے، اسی طرح اگر شاہین کپتان ہوتے تو بابر کا ساتھ ہونا ضروری تھا، بظاہر تو سب کچھ ٹھیک لگ رہا ہے لیکن ایسا ہے نہیں، محمد عامر اور عماد وسیم کی بابر سے نہیں بنتی، شاہین بھی ناراض ہیں، آپ ایسے بھارت کو ہرائیں گے اور ورلڈ کپ لے کر آئیں گے؟

بابر کیلیے تو اس بار کپتانی کانٹوں کا تاج ہے، اچھا یہی ہوگا کہ  غلط فہمیاں دور کی جائیں، یہ گلی محلے نہیں پاکستان کی ٹیم ہے، ملک کا مفاد دیکھنا چاہیے، ساتھ بورڈ بھی اپنا انداز تبدیل کرے، آپ اپنی پوزیشن کی وجہ سے کھلاڑیوں کو کسی خاطر میں نہیں لا رہے ہوں گے لیکن وہ ملک میں وزرا سے زیادہ مقبول ہیں، اب پہلے والا دور نہیں جب کسی پلیئرکو ڈرا دھمکا کر چپ کرا لیا جاتا تھا، موجودہ دور میں کرکٹرز کے پاس آپشنز کی کمی نہیں، مثال کے طور پر آپ شاہین کو نہ کھلائیں تو وہ 4،5 لیگز کھیل کر 5 گنا زیادہ رقم کما سکتے ہیں،عامر اور عماد اتنے عرصے قومی ٹیم سے باہر رہے، ان کو کیا نقصان ہوا؟لیگز سے زیادہ رقم کما لی، بورڈ کو نرم رویہ اپنانا چاہیے۔

ویسے ہی کئی کھلاڑی سینٹرل کنٹریکٹ سے آزاد ہو کر فری لانس بننے پر غور کر رہے ہیں،اگر پاکستانی کرکٹرز آئی پی ایل کھیل رہے ہوتے تو ایسا بہت پہلے ہی ہو جاتا، ہمیں ویسٹ انڈیز سے سبق سیکھنا چاہیے، ان کے بورڈ نے پلیئرز کا خیال نہیں رکھا لہذا وہ بددل ہو کر لیگز میں جاتے رہے، آج آپ دیکھ لیں ہر لیگ  میں کیریبیئن کرکٹرز چھائے ہوئے ہیں لیکن ان کی قوی ٹیم برباد ہو چکی، ہمیں پاکستانی سائیڈ کو ویسٹ انڈیز بننے سے روکنا ہوگا۔

اگر پانڈیا اور روہت جیسے تجربات سے بچنا ہے تو ماحول بہتر بنائیں، جتنی چاہیں ساتھ ہنسی مذاق کی ویڈیوز بنا کر میڈیا کو بھیج دیں کوئی فائدہ نہ ہوگا، دل صاف ہونے چاہیئں، ابھی تو سب ٹھیک ہے،آگے جب خدانخواستہ شکست ہوئی تو پھر کہا جائیگا کہ فلاں کھلاڑی نے کپتان کے ساتھ تعاون نہیں کیا، اگر کسی کو قیادت سونپنی ہے تو طویل عرصے کیلیے سونپیں، نتائج کچھ بھی ہوں تبدیل نہ کریں۔

چاہے چار چیئرمین بدل جائیں فیصلے پر ڈٹے رہیں، ایسا اسی وقت ہوگا جب کپتان کا فیصلہ چیئرمین بورڈ کی جگہ سابق عظیم کرکٹرز سے کروایا جائے، اس سے کھلاڑی بھی پرفارم کرنے کے حوالے سے دباؤ میں رہیں گے،انھیں پتا ہوگا کہ کپتان کو سپورٹ نہ کیا تو پھر باہر ہو جائیں گے، بابر ہمارے ملک کے بہترین بیٹر ہیں، کپتانی سے ان کے اپنے کھیل پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے، عامر اور عماد پر بھی واضح کر دیں کہ ہر صورت انھیں سپورٹ کرنا ہوگا ورنہ ایک بار پھر ریٹائر ہو جائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، شاہین چند دن سوشل میڈیا اور کرکٹ سے دور فیملی کے ساتھ گذاریں پھر تازہ دم ہو کر واپس آئیں، انھیں اصل غصہ کپتانی سے ہٹانے کے طریقہ کار پر ہے۔

محسن نقوی نے کاکول میں اکیلے ملاقات سے گریز کیا شاید انھیں لگتا تھا کہ ایسا کیا تو پلیئر کے پریشر میں آنے کا تاثر آئے گا،انھیں اب ایسا کرنا چاہیے ، یقین مانیے یہ اچھے لڑکے ہیں، 5 منٹ دونوں کو دل کا غبار نکالنے دیں، گلے لگائیں پھر  شاہین کو بابر کے ساتھ بٹھائیں ،اس سے سب ٹھیک ہو جائے گا،ورنہ کسی میچ کی تناؤ والی صورتحال میں آپ کو پانڈیا اور روہت جیسے مناظر بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں،  فیصلہ نقوی صاحب کا ہے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔