قومی یکجہتی کی ضرورت

کیپٹن (ر) عمر فاروق  پير 8 اپريل 2024
’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے بیانیے کو فروغ دیا جائے۔ (فوٹو: فائل)

’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے بیانیے کو فروغ دیا جائے۔ (فوٹو: فائل)

مملکت خداداد پاکستان جو اپنے تصور سے تشکیل و تخلیق تک ایک عظیم اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر متعارف کروائی گئی کہ اس مملکت میں عظیم ترین امت مسلمہ کے افراد کی نشوونما اور پرورش مقصود تھی اور ریاست پاکستان نے امت مسلمہ کے قائد کا کردار ادا کرنا تھا۔ مگر ان عظیم نظریاتی مقاصد کے حصول میں سنگلاخ رکاوٹیں حائل ہیں۔

آج پاکستان کو قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ آج ذاتی مقاصد کو قومی مفادات اور مقاصد پر ترجیح حاصل ہے اور ان ذاتی مقاصد کے حصول کےلیے ملک کی سلامتی اور یکجہتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور ارباب اقتدار کی نااہل پالیسیوں کے نتیجے کے طور پر ریاست پاکستان کے اتحاد اور یکجہتی کو پارہ پارہ کیا جارہا ہے۔

کہیں طالبانیت کے نام پر ملک میں دہشت گرد حملے ہیں تو کہیں بلوچستان کے محروم طبقات اور ناراض نوجوان بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ کہیں برسوں سے پاکستان میں مقیم متعدد افغانی جرائم کا گڑھ ہیں تو کہیں پاک ایران بارڈر پر جند اللہ تنظیم متحرک ہے۔

اس کے علاوہ آئے روز سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاج اور ہڑتال سے ملک کی معیشت کا پہیہ جام کردیتی ہیں۔ اس دوران مقامی ڈاکو، راہزن اور لٹیرے کراچی، لاہور، پشاور، راولپنڈی میں جرائم میں ملوث ہیں، خصوصاً کراچی اور لاہور میں جرائم کنٹرول سے باہر ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نوجوان نسل کو منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ملکی سالمیت، ملکی یکجہتی اور ریاستی دفاعی اداروں سے متنفر کیا جارہا ہے۔ اور سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی سے نوجوان نسل گمراہی کے راستے پر گامزن ہے۔

معاشی بدحالی تو ایک طرف یہ اخلاقی بدحالی اور قومی یکجہتی سے کھیلنے کی سازشیں دیمک کی طرح قوم کو چاٹ رہی ہیں۔

آئیے ریاست کے تمام عناصر اپنا جائزہ لیں۔ قومی ادارے اور ساتھ ہی ساتھ تعلیمی ادارے، مدرسے، والدین، اساتذہ کرام، میڈیا اور علماء سب ملک کی سلامتی کو فوقیت دیں۔ دہشت گرد، باغی، ڈاکو کو جان سے مار دینا ایک حل ہے اور وقتی اپروچ ہے اور عارضی بندوبست ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے مدرسوں، تعلیمی اداروں یا معاشرے میں پاکستان یا ریاستی اداروں سے نفرت کرنے والے نوجوان کیوں پیدا ہورہے ہیں۔ کیا نصاب ناقص ہے؟ کیا شعور کی منتقلی میں رکاوٹیں ہیں؟ کہ اچھا بھلا نوجوان ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لیتا ہے اور یہ سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ مخصوص علاقوں میں جہاں سے ناراض بلوچ نوجوان یا ناراض طالب علم نوجوانوں کی تخلیق ہوتی ہے وہاں احساس محرومی کو ختم کیا جائے۔ ملک گیر مہم چلائی جائے۔ بھارت اور دشمن ممالک کی ایجنسیوں کو ملک سے باہر پھینک دیا جائے۔ اہل قلم اور علماء اپنا کردار ادا کریں۔ گولی اور طاقت کا استعمال بقدر ضرورت کیا جائے۔ ناراض نوجوانوں کو قومی دھارے میں لایا جائے۔ ان موضوعات پر خصوصی پروگرام میڈیا میں ترتیب دیے جائیں۔

’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے بیانیے کو فروغ دیا جائے۔ پڑوسی ممالک میں موجود اینٹی پاکستان کمین گاہوں اور ملک کے اندر موجود اینٹی پاکستان سیل اور سلیپرز سے سختی سے نمٹا جائے۔

ملک کی موجودہ نسل سے ڈائیلاگ کریں، ان کو ملک کی اہمیت اور سلامتی کی ضرورت سے آگاہ کریں۔ غیر اخلاقی پروپیگنڈے کی سختی سے حوصلہ شکنی کریں۔ ہر شخص کی ہر وقت ہر سوشل میڈیا ایپ تک رسائی کی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔

ریاست مخالف عناصر کے جذبات و احساسات کو درست طریقے سے حل کیا جائے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان ہماری پناہ گاہ ہے۔ ہم اس کے محافظ ہیں۔ ہم نے اپنی پناہ گاہ میں نقب نہیں لگانی اور دشمن کا آلہ کار نہیں بننا۔ ریاست اور ملک سے پیار کریں۔ نئی نسل کو پاکستان سے پیار ودیعت کریں۔ اور اپنے حصے کی شمع جلائیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کیپٹن (ر) عمر فاروق

کیپٹن (ر) عمر فاروق

بلاگر پاکستان آرمی میں آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور پاک امریکا ڈپلومیٹک مشن میں پندرہ سال تعینات رہے ہیں۔ بلاگر سے ان کی فیس بک آئی ڈی FB/qazi.umar.98478 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔