اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

اسٹاف رپورٹر  منگل 9 اپريل 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ دنوں سے جاری تیزی کا رجحان برقرار ہے، آج بھی انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

عیدالفطر کی تعطیلات سے قبل کے اختتامی سیشن میں بھی پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا۔ وزیراعظم کے دورۂ سعودی عرب کے دوران پاکستان کے آئل اینڈ گیس ریکوڈک ریفائنری ودیگر شعبوں میں 5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر پیشرفت اور غیرملکیوں کی مارکیٹ میں شعبہ جاتی بنیادوں پر خریداری سرگرمیاں کیپٹل مارکیٹ میں بلندیوں کے نئے ریکارڈز کا باعث ہیں جس سے ملکی تاریخ میں پہلی بار انڈیکس کی 70000ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح بھی عبور ہوگئی۔

حصص بازار میں تیزی کے سبب 52فیصد شیئرز کی قیمتیں بڑھ گئیں جب کہ حصص کی مالیت میں بھی 77ارب 84کروڑ 3لاکھ 41ہزار 698روپے کا مزید اضافہ ہوگیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی؛ پہلی بار 69 ہزار پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح عبور

کاروباری دورانیے میں غیرملکیوں سمیت مقامی سرمایہ کاروں کی آئل اینڈ گیس سمیت انڈیکس کی دیگر آئٹمز میں خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے ایک موقع پر 1057پوائنٹس کی تیزی بھی ہوئی لیکن وقفے وقفے سے پرافٹ ٹیکنگ سے تیزی کی مذکورہ شرح میں کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 694.73 پوائنٹس کے اضافے سے 70314.72 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

کے ایس ای 30 انڈیکس 221.49 پوائنٹس کے اضافے سے 23132.29 پوائنٹس، کے ایم آئی 30 انڈیکس 1098.06پوائنٹس کے اضافے سے 117981.97پوائنٹس اور کے ایم آئی آل شئیر انڈیکس بھی 195.56 پوائنٹس کے اضافے سے 32667.65 پوائنٹس پر بند ہوا۔

کاروباری حجم پیر کی نسبت 16فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 38کروڑ 93لاکھ 96ہزار 548حصص کے سودے ہوئے جب کہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 353 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا، جن میں 181 کے بھاؤ میں اضافہ 157 کے داموں میں کمی اور 15 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھاؤ 100روپے بڑھ کر 8350روپے اور ماڑی پیٹرولیم کے بھاؤ 55.85 روپے بڑھ کر 2621.71روپے ہوگئے جب کہ سفائر ٹیکسٹائل کے بھاؤ 60 روپے گھٹ کر 1350روپے اور باٹا پاکستان کے بھاؤ 50روپے گھٹ کر 1700روپے ہوگئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔