ذکر ایک فلم کا

راؤ منظر حیات  ہفتہ 13 اپريل 2024
raomanzarhayat@gmail.com

[email protected]

مکمل اتفاق تھا کہ یوٹیوب پر ایک فلم ’’زندگی تماشہ‘‘ دیکھنے کا موقع مل گیا۔ عید کی چھٹیوں میں تھوڑی سی فراغت بھی غنیمت ہے۔

حسن اتفاق یہ کہ ایک قریبی دوست کے کہنے پر اس فلم کو غور سے دیکھا۔ سرمد کھوسٹ کی بنائی بلکہ ڈائریکٹ کی ہوئی یہ فلم ہرگز ہرگز معمولی نہیں ہے۔ انسانی رویوں کو انسان کی جبلت کے حساب سے حد درجہ کامیابی سے پیش کیا گیا ہے۔ لاہور کا اندرون شہر ‘ ایک بالکل عام سے آدمی کا رقص کا شوق‘ یہ حد درجہ جاذب نظر اور ذہین مناظر تھے۔

اس فیچرفلم کے ہر گوشے سے یہ سچ بار بار کشید ہو رہا تھا کہ سرمد کھوسٹ ‘ حیرت انگیز تخلیقی خوبیوں کا مالک ہے۔ایک تکلیف دہ عنصر پر غور کرنا چاہئے۔ ہماری برائے نام فلمیں اور ٹی وی ڈراموں میں ایک حد درجہ عامیانہ سوچ یکساں ہے۔ اور وہ ہے گلیمر در گلیمر ۔ یعنی پوری پوری سیریز یا فلم گزر جاتی ہے اور اچھی اداکاری دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اس کے متضاد‘ زرق برق ملبوسات‘ احمقانہ حد تک بناوٹی میک اپ اس طرز سے سامنے رکھا جاتا ہے کہ طبیعت اکتا سی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ‘ پھسپھسی سی بلکہ مردہ طرز کی کہانی‘ انسان کی دیکھنے کی قوت پر بوجھ بن جاتی ہے۔ یعنی ایک ادنیٰ خیال کو بہتر ثابت کرنے کے لئے‘ میک اپ اور کپڑوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل ازحد بے ترتیب اور عامیانہ طور کی فلموں کوجنم دیتا ہے۔ مگر کمال ہے کہ ان فلموں اور ڈراموں کو بنانے والے کسی صورت میں بھی اپنے طرز عمل کو بدلنے کے لئے تیار نہیں ۔ اگر ان سے پوچھیں ‘ تو یہ جواب ملتا ہے کہ جناب لوگ یہی کچھ دیکھنا پسند کرتے ہیں۔یہ ادنیٰ طرزترتیب ہماری فنی مجبوری ہے۔ طالب علم کی دانست میں یہ دلیل بھی ناقص ہے ۔ لوگوں کی کثیر تعداد‘ اس طرح کے معاملات کو ہرگز ہرگز نہیں دیکھنا پسند کرتی۔

موجودہ دور بلکہ حالات میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا دم توڑ چکا ہے۔ کسی بھی سنجیدہ انسان سے پوچھیے کہ آپ نے ٹی وی کب دیکھا تھا یا کرنٹ افیئرز کے پروگرام سے آخری بار کب مستفید ہوئے تھے۔ جواب حیرت انگیز حد تک ایک جیسا ہو گا۔ لوگ‘ حالات حاضرہ کے پروگراموں سے اس حد تک اکتا چکے ہیں کہ انہیں اچھی طرح یاد بھی نہیں رہتا کہ آخری پروگرام کب دیکھا تھا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز ہرگز نہیں کہ لوگ حالات حاضرہ سے غیر متعلق ہو چکے ہیں۔

بالکل نہیں‘ مگر اب ٹی وی کے ان ادھ موئے پروگراموں کی جگہ سوشل میڈیا لے چکا ہے۔ عام سے عام ‘ سوشل میڈیا اینکر کی آواز کو لاکھوں لوگ سنتے ہیں۔ ان کے پرائیویٹ چینلز کی پسندیدگی ان گنت ہو چکی ہے۔ یوٹیوب چینلز نے حقیقت میں ٹی وی انڈسٹری کو خون کے آنسو رلا دیا ہے۔ سوائے چند ٹی وی چینلز کے‘ باقی چینلز برائے نام سانس لے رہے ہیں۔ ناپسندیدگی کے اس خلا کو پورا کرنے کے لئے‘ اب مزاحیہ اداکاروں کو سکرین پر بٹھا کر Viewershipبڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شروع شروع میں تو شائد اس طرز عمل کا کوئی فائدہ ہو۔ مگر سالہاسال سے یہ حربے بھی یکسانیت کا شکار ہو چکے ہیں۔

تہذیب سے گری ہوئی جگتیں اور ذو معنی جملوں سے بھی انسانی طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے۔ عرض نہیں کروں گا کہ لوگ ان مزاحیہ پروگراموں سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔ بالکل ہوتے ہیں۔مگر ایک جیسی باتین سن سن کر کان پک جاتے ہیں۔اس پورے جمود کا علاج صرف اور صرف معیاری فلمیں ہیں۔ ان میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسانی ذہن کو ایک ڈیڑھ گھنٹے کے لئے اپنی طرف پوری طرح متوجہ کر لیتی ہے۔

عمدہ فلموں کی بنیاد‘ دراصل حد درجہ اچھی کہانی ہوتی ہے۔ انسانی ذہن بہت نایاب چیز ہے۔ یہ کام کرنے پر آ جائے۔ تو’’مغل اعظم‘‘ جیسی شاہکار فلم سامنے آ جاتی ہے۔ اور اگر کام نہ کریں تو پھر ادنیٰ پن کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ یہاں ایک نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہترین فلموں کا اگلا پارٹ یا Sequela نہیں ہوسکتا۔ چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی فلم ساز‘ ہدایتکار یا کہانی لکھنے والا‘ مغل اعظم کا اگلا حصہ ‘ بنا دے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔

یہی صورتحال ہالی ووڈ کی شہرہ آفاق فلموں کی ہے۔ Love story, Godfather,Ben hur اور اس جیسی چند فلموں کوتمام تر جدید ٹیکنالوجی کے باوجود دوبارہ تشکیل دینا ناممکن ہے ۔یہ درست ہے کہ چند مشہور زمانہ کلاسک فلموں کے نئے حصے بنائے گئے۔ مگر وہ اس سطح کے نہیں تھے جو اصل اور پہلی فلموں کے برابر ہوں۔ Godfather  Theکے بعد‘ اس کے دو حصے مزید بنائے گے۔ سرمایہ بھی بہت خرچ ہوا۔ مگر بات بن نہ سکی۔ پاکستان میں بھی یہی صورت حال ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اصل فیچر فلم جو تیس چالیس برس پہلے بن کر کامیاب ہو چکی ہے۔ اس کا دوسرا حصہ‘ ٹیکنالوجی کی مدد سے اگر بنایا بھی گیا تو واہ واہ تو ضرور ہوئی مگر تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے تو بات بنتی نظر نہیں آتی۔

بالکل یہی معاملہ پرانے ٹی وی ڈراموں کا ہے۔ مثال دینا چاہتا ہوں۔ ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ جیسا فقید المثال اور حد درجہ سادہ ڈرامہ‘ کوشش کے باوجود نہ دوبارہ لکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی بنایا جا سکتا ہے۔ یہی انسانی ذہن کا کمال ہے۔ ایک سنگ تراش اگر Micheal Angeloکو کاپی کرنا چاہے‘ تو ہزار کوشش کے باوجود نہیں کر سکتا۔ صادقین کی عمدہ ترین خطاطی کو دوبارہ بنانا ممکن نہیں ہے۔ یہ صورت حال ہر تخلیقی شعبے کا سب سے بڑا سچ ہے۔

بڑے سے بڑے فلم ساز ‘ اداکار‘ ڈائریکٹر ‘ شاعر‘ رقاص‘موسیقار‘ اور دیگر لوگوں میں اعلیٰ کام کرنے کی ایک لہر ہوتی ہے۔ یہ لہر زندگی کے ہر موڑ پر دائم نہیں رہتی۔ اس کا اپنا دورانیہ ہوتا ہے۔ یہی کوئی دوچار برس ‘ یا شائد اس سے تھوڑی سا کم یا زیادہ۔ یہ نہیں ہو سکتا‘ کہ ایک انسان پوری زندگی‘ یکساں معیار کا کام ہی کرتا رہے۔ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے کیونکہ تخلیق کرنے کا عمل جوار بھاٹا کی طرح ہوتا ہے۔ اس کی مدوجزر گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہے۔

قومی بدقسمتی ہے کہ ملک میں ریاست کی شعوری کوشش ہے کہ لوگوں میں نئی سوچ اور جدت کو ظلم کے ذریعے سے ختم کیا جائے۔ ملک کو ایک عجیب سی یکساں ڈگر پر چلایا جائے جس میں تنوع نہ ہو۔ بدقسمتی سے یہ کوشش مکمل طور پر کامیاب رہی ہے۔ بحیثیت ریاست ہم تخلیقی عمل کو اپنے نظام کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس کو باغیانہ طرز عمل قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورا ملک ایک فکری قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ فلم ’’زندگی تماشہ‘‘ بالکل ایک نیا ‘ اچھوتا اور انسانی جبلت کے نزدیک ترین کام ہے۔

مجھے قطعاً معلوم نہیں تھا کہ ‘ اس فلم پر ملک میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ اور یہ صرف یوٹیوب پر موجود ہے۔ پوری دنیا میں اس فلم کو دیکھا گیا۔ اور اسے ایوارڈز سے نوازا گیا۔ بلکہ پابندی لگانے سے ہمارے ملک کی سبکی بھی ہوئی۔ سوشل میڈیا سے ہی معلوم ہوا ‘ کہ اس بار‘ 23مارچ پر تقسیم انعامات کی فہرست میں سے بھی سرمد کھوسٹ کا نام نکال دیا گیا۔

یہ وثوق سے عرض کر سکتا ہوں۔کہ ایسے متعدد کرداروں کو تمغے دیئے گئے جن کا تعارف صرف ایک طبلچی اور خوشامدی سے زیادہ نہیں ہے۔ ویسے اس نظام سے آپ اس سفلی پن کے علاوہ‘ کیا توقع کر سکتے ہیں۔ مگر سوال ہے کہ کیا سرمد کھوسٹ‘ کی عزت‘ ایک ایوارڈ کی مرہون منت ہے۔ نہیں صاحب‘ وہ ایک اعلیٰ ترین ہدایت کار ہے‘ جو اپنے کام کو دوسروں سے بہتر جانتا ہے۔ اور وہ کسی سرکاری بابو یا بوسیدہ سیاست دان کا طفیلی بھی نہیں ہے۔ اگر اس کو سرکار تمغے کے قابل نہیں سمجھتی‘ تو یہ سرکاری ذہن پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

آج تک سرمد کھوسٹ سے نہیں ملا۔ مگر اس کا کام بذات خود ایک قدرتی تمغہ ہے۔ دوسری بات‘ یہ بھی معلوم ہوئی کہ ’’زندگی تماشہ‘‘ میں فحاشی کا عنصر ہے اور پابندی کی وجہ یہی بتائی گئی۔ لیکن صاحب مجھے تو فحاشی کی ایسی تعریف تک کوئی نہیں بتا سکا۔ جس پر تمام جید لوگوں کا ایکا ہو۔

مسلمان ملکوں میں کسی طرح کی کوئی اخلاقی یا معاشرتی یکسانیت نہیں پائی جاتی ۔متحدہ عرب امارات ‘ الجزائر ‘ مراکش اور اس طرح کے دیگر ممالک اپنی ساخت میں مسلمان ہیں مگر ان کی معاشرتی اقدار کم از کم ہمارے جیسے ملک سے مکمل مختلف ہے ۔گزارش ہے ہمارے جیسے ذہنی طور پر مفلوک الحال معاشرے میں ’’زندگی تماشہ‘‘ ایک حد درجہ اچھی تخلیقی کوشش ہے۔ اگر آپ کو پسند نہیں تو نہ دیکھیں۔ مگر نہ دیکھنے سے اس موضوع کی اہمیت کم نہیں بلکہ زیادہ ہو گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔