پی ایس ایل؛ دسویں ایڈیشن کیلیے ونڈو کی تلاش بڑا چیلنج بن گئی

سلیم خالق  ہفتہ 13 اپريل 2024
فرنچائزز نے غیرملکی کھلاڑیوں کی دستیابی سمیت دیگر خدشات ظاہر کردیے (فوٹو: فائل)

فرنچائزز نے غیرملکی کھلاڑیوں کی دستیابی سمیت دیگر خدشات ظاہر کردیے (فوٹو: فائل)

کراچی: مصروف شیڈول میں سے ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 کیلیے ونڈو کی تلاش بڑا چیلنج بن گئی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ روایتی طور پر پی ایس ایل کا انعقاد جنوری سے مارچ کے درمیان کرتا ہے، البتہ 2025 کے سخت ترین شیڈول میں اس عرصے کے دوران ونڈو نکالنا تقریبا ناممکن ہے، جنوری میں پاکستانی ٹیم کا دورہ جنوبی افریقہ مکمل ہوگا،اسی ماہ ٹیم کو نیوزی لینڈ بھی جانا ہے۔

فروری میں ملک میں ون ڈے ٹرائنگولر سیریز کرانے کا اعلان ہو چکا،اس میں گرین شرٹس کے ساتھ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کو حصہ لینا ہے، فروری، مارچ میں پاکستان چیمپئنز ٹرافی کی بھی میزبانی کرے گا، گوکہ ابھی پی ایس ایل10 میں کافی وقت باقی ہے لیکن فرنچائزز اس حوالے سے پیشگی تشویش ظاہر کر چکیں،مارچ کے پہلے ہفتے میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی ٹیم اونرز سے پہلی اور اب تک کی آخری ملاقات ہوئی تھی۔

ذرائع کے مطابق اس میں فرنچائزز نے آئندہ سال لیگ جنوری کے اواخر میں شروع کرانے کی تجویز دی تھی،اس کا اختتام فروری میں ہوتا مگر بورڈ حکام نہ مانے، ان کا کہنا تھا کہ 20 سال بعد پاکستان کو ٹرائنگولر سیریز کی میزبانی کا تاریخی موقع ملا ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ انٹرنیشنل کیلنڈر میں مستقل ’’ونڈو‘‘ نہ پا سکی

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوری میں ہی جنوبی افریقی لیگ کا بھی آغاز ہوگا،ماضی میں اس نے ایونٹ کیلیے انٹرنیشنل سیریز کو اہمیت نہیں دی اور دوسرے درجے کی ٹیم نیوزی لینڈ بھیجی تھی، اب بھی ایسے خدشات موجود ہیں، پی سی بی دسویں ایڈیشن کو چیمپئنز ٹرافی کے بعد آئی پی ایل کے ساتھ ہی کرانے کا خواہاں ہے، البتہ فرنچائزز اس سے متفق نہیں، انھیں لگتا ہے کہ پہلے ہی بڑے غیرملکی کرکٹرز کی کمی کا سامنا ہے بھارتی لیگ کے ساتھ انعقاد سے مسائل بڑھ جائیں گے۔

کیرون پولارڈ، راشد خان اور رائیلی روسو جیسے پلیئرز بھی زیادہ معاوضے کی وجہ سے آئی پی ایل کو ترجیح دے سکتے ہیں، اسی طرح اگر دستیاب کھلاڑیوں نے پی ایس ایل میں اچھا پرفارم کیا تو بھارت پاکستانی لیگ کو متاثر کرنے کیلیے انھیں بطور متبادل طلب کر سکتا ہے، اسی طرح تاریخوں کے تصادم پر پاکستان سے باہر ویورشپ پر بھی اثر پڑے گا۔

ایک تجویز رواں سال ستمبر میں ہی انعقاد کی سامنے آئی تھی مگر اسے جلدی قرار دے کر مسترد کر دیا گیا، اکتوبر میں انگلش ٹیم کو پاکستان آنا ہے جبکہ نومبر میں گرین شرٹس آسٹریلیا جائیں گے، دورئہ زمبابوے کے بعد دسمبر اور جنوری میں جنوبی افریقی ٹور بھی طے ہے، پاکستانی ٹیم وہاں سے نیوزی لینڈ جائے گی، ٹرائنگولر سیریز کافی پہلے سے فیوچر ٹور پروگرام میں شامل ہے، البتہ گذشتہ دنوں پی سی بی نے آئی سی سی میٹنگ کے بعد اس کا دوبارہ اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل2025 ایڈیشن؛ وقار یونس نے ٹیمیں بڑھانے کا مطالبہ کردیا

واضح رہے کہ دسواں ایڈیشن موجودہ معاہدوں کے تحت آخری ایونٹ ہوگا، اس کے بعد ٹیموں کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے،ساتھ موجودہ فرنچائزز کے کنٹریکٹس کی بھی تجدید ہوگی، برانڈ کی قدر برقرار رکھنے کیلیے کامیاب انعقاد بیحد ضروری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فرنچائز اونرز نے تقریبا تین ہفتے قبل پی سی بی کو خط لکھ کر مسائل پر گفتگو کیلیے میٹنگ کا کہا تھا مگر انھیں کوئی جواب نہیں ملا، یاد دہانی پر بھی تاحال کوئی جواب نہیں آیا، چیئرمین نے واحد ملاقات میں اونرز سے کہا تھا کہ ایک ماہ میں پی ایس ایل کو الگ کمپنی بنا دیں گے مگر ایسا نہیں ہو سکا، خط میں نویں ایڈیشن کے جائزے، ٹیموں کے دائمی حقوق و دیگر معاملات پر بات چیت کی بھی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

دوسری جانب پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین کی مصروفیات کی وجہ سے ملاقات ممکن نہیں ہو سکی، پھر عید کی تعطیلات آ گئیں، اب جلد میٹنگ ممکن ہو سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔