نمازی کہاں ہیں؟

ضیا الرحمٰن ضیا  ہفتہ 13 اپريل 2024
صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ پورا سال فرائض اور نوافل کا اہتمام جاری رکھنا چاہیے۔ (فوٹو: فائل)

صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ پورا سال فرائض اور نوافل کا اہتمام جاری رکھنا چاہیے۔ (فوٹو: فائل)

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ گزر گیا اور شوال المکرم کا مہینہ عیدالفطر سے شروع ہوچکا ہے۔ رمضان المبارک میں مسلمان عبادات میں نہایت پرجوش ہوتے ہیں، صرف فرائض ہی نہیں نفلی عبادات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، مگر شوال المکرم میں بھی کرنے کے کچھ کام ہوتے ہیں جن سے ہم اکثر غافل رہتے ہیں۔ وہ کام یہ ہیں کہ سب سے پہلے تو شوال المکرم کے چھ روزے رکھے جائیں اگرچہ اتنا اہتمام نہ کیا جائے کہ وہ فرض معلوم ہونے لگیں مگر احادیثِ مبارکہ میں ان کے جو فضائل بیان کیے گئے ہیں انہیں مدنظر رکھتے ہوئے ان روزوں کو ضرور رکھنا چاہیے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے‘‘ (صحیح مسلم)۔

یہ تو نفل عبادت تھی جس کی طرف مختصراً توجہ دلا دی گئی ہے، اب آتے ہیں اصل کام کی طرف جس کا کرنا نہ صرف شوال بلکہ پورا سال ضروری ہے، وہ یہ کہ جیسے مساجد کو ہم نے رمضان میں آباد رکھا ہوا تھا ویسے ہی پورا سال آباد رکھیں۔ رمضان المبارک میں مساجد میں اس قدر نمازی ہوتے تھے کہ بسا اوقات مسجدیں چھوٹی پڑ جاتی تھیں۔ وہ لوگ کہاں سے آتے تھے؟ کیا وہ کسی دوسرے شہر سے آئے تھے یا آسمان سے اترے تھے جو رمضان المبارک کے گزرتے ہی لوٹ گئے ہیں اور اب پھر جمعہ کی نماز میں واپس آگئے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ سب بھی اور جمعہ کی نماز میں حاضر تمام افراد بھی اسی محلے کے ہیں، کہیں باہر سے نہ آئے تھے اور نہ ہی کہیں چلے گئے ہیں۔

ہم رمضان المبارک میں عبادات کرتے ہیں یہ سوچ کر کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے، اس میں عبادت کرلیں پھر چھٹی ہوجائے گی۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ایک مہینہ عبادت کی عادت پیدا ہوگئی ہے تو اسے پورا سال جاری رکھنا چاہیے۔ رمضان المبارک مشق کا مہینہ ہوتا ہے جس کے بعد پورا سال اس کے مطابق گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مفتی تقی عثمانی صاحب کے الفاظ نظر سے گزرے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’’ہم لوگ رمضان میں تو اعمال کے اندر تھوڑا بہت اہتمام کرتے ہیں، چنانچہ ہوتا یہ ہے کہ جتنے نیک کام ہیں، سب رمضان کےلیے اٹھا کر رکھ دیے ہیں، نفل پڑھیں گے تو رمضان میں، تلاوت کریں گے تو رمضان میں کریں گے، رات کو اٹھیں گے تو رمضان میں اٹھیں گے، اور اشراق اور چاشت کے نوافل پڑھیں گے تو رمضان میں پڑھیں گے۔ اس طرح ہم نے سارے کام اٹھا کر رمضان کےلیے رکھ دیے۔ اور ادھر جیسے ہی رمضان ختم ہوا، ادھر سارے اعمال ختم۔ اب نہ تو تلاوت ہے، نہ ذکر ہے، نہ نوافل ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہے، اور نہ گناہوں سے بچنے کا وہ اہتمام ہے۔

رمضان میں گناہ کرتے ہوئے ذرا شرم آجاتی ہے کہ بھائی! رمضان کا مہینہ ہے، ذرا آنکھ کی حفاظت کرلیں، ذرا کان کی حفاظت کرلیں، ذرا زبان کی حفاظت کرلیں، لیکن رمضان گزرتے ہی گناہوں کی چھٹی مل گئی۔ اب نہ گناہوں سے بچنے کا اہتمام ہے اور جو نیک کام رمضان میں شروع کیے تھے، نہ ان کو باقی رکھنے کا اہتمام ہے۔‘‘

مفتی صاحب نے اہم اصول بیان فرمائے مگر انہوں نے نوافل کا دکھ بیان کیا ہے، میں تو کہتا ہوں ہمارے ہاں تو لوگ فرض چھوڑ بیٹھتے ہیں نوافل کا تو کیا ہی کہنا۔ لوگ فرض نماز کو بھی رمضان یا جمعہ کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں، فرائض بھی رمضان المبارک میں ہی ادا کرتے ہیں جیسے ہی رمضان گزرا تو فرض نماز بھی گئی، اب پنج وقتہ فرض نماز آئندہ سال رمضان المبارک میں ہی ادا کریں گے تب تک جمعہ کی نماز پر گزارا کرتے رہیں گے۔

رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی مساجد آباد ہوجاتی ہیں جو کہ انتہائی خوشی کی بات ہے۔ لوگ تمام نمازوں کےلیے مساجد کا رخ کرتے ہیں، اذان ہوتے ہی مسلمان جوق در جوق مساجد میں آنے لگتے ہیں اور نماز کے بعد اگر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو مسجد میں بیٹھنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ مساجد کے ہال کے علاوہ برآمدے، صحن اور چھت بھی نمازیوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ مساجد کی اس آبادی کو دیکھ کر دل خوشی سے باغ باغ ہوجاتا ہے۔ رمضان میں مساجد میں جانے کا بہت لطف آتا ہے کیوںکہ مساجد خوب آباد ہوتی ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کا یہ جوش فقط رمضان المبارک تک ہی محدود ہوتا ہے، جیسے ہی عید کا چاند طلوع ہوتا ہے مساجد کی آبادی کا چاند غروب ہوجاتا ہے۔ عید کے چاند کے ساتھ ہی مسلمان بھی مساجد کےلیے عید کا چاند ہوجاتے ہیں جو پھر سال بعد ہی نظر آتے ہیں۔ عید کے دن تو مساجد ایسے سونی ہوجاتی ہیں جیسے سارے محلے والوں کو جلا وطن کردیا گیا ہے اور اب محلے میں امام صاحب اور صف اول میں نماز پڑھنے والے چند بزرگوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں رہا۔

ابھی رمضان المبارک گزرا ہے، ہم نے جن عبادات کا اہتمام رمضان میں کیا تھا ان کا اہتمام اب بھی جاری رکھیں۔ فرض نماز کی تو کسی حال میں چھوٹ نہیں ہے ہاں نوافل اور ذکر و تلاوت کا اہتمام جو ہم رمضان میں کثرت سے کرتے تھے اب اس حد تک نہیں تو کسی حد تک کرتے رہنا چاہیے، بالکل چھوڑ کر نہیں بیٹھ جانا چاہیے کہ آئندہ رمضان آئے گا تو پھر ایک مہینے کےلیے یہ تمام عبادات کرلیں گے۔ نہ جانے آئندہ رمضان نصیب ہو یا نہیں، اس لیے پورا سال فرائض اور نوافل کا اہتمام جاری رکھنا چاہیے اور مساجد کو آباد رکھنے کا بھی خیال رہنا چاہیے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔