معتوب کتابیں ( دوسرا حصہ)

زاہدہ حنا  اتوار 14 اپريل 2024
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ڈاکٹر عقیل عباس جعفری کی اس کتاب کا نام ہی دل دہلا دیتا ہے، یہ کتابیں زنجیروں سے بندھی ہوئی ہیں اس پر چمکتا ہوا تالا بندھا ہوا ہے، جن کو دیکھ کر ہی دل ڈوب جاتا ہے، میرا بس چلے تو ان کتابوں کو سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر ہانک لگائوں کہ ادب، سیاست، جنس اور عمرانیات پر مبنی یہ کتابیں مفت لے جائو، بیسویں صدی کی اہم ترین دانشور مراکش کی ماہر سماجیات، قرآن کی عالمہ اور خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن فاطمہ مرنیسی اعلیٰ مقام کی حامل چودہ کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں یہ کتاب Veil and the Male Elite بھی شامل ہے۔

اس کتاب میں اسلام میں خواتین کی حیثیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔اسلام کی بنیادوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مرنیسی اپنے اس مقدمے کو آگے بڑھاتی ہیں کہ مسلم روایت خواتین کی نجات و ترقی کی مخالف نہیں ہے، اگر بعض مسلمان مرد خواتین کے حقوق کی راہ میں دیوار کھڑی کرتے ہیں تو ان کا یہ طرز عمل قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے بلکہ خواتین کے یہ حقوق مردوں کے طبقہ امرا کے مفادات کے خلاف ہیں۔

مرنیسی لکھتی ہیں کہ مسلمانوں کے معاشروں میں خواتین کے حقوق کے خلاف جو ترغیب اور کشش ہے وہ منافع کی ہے۔ خواتین کے استحصال کے جواز کا ذریعہ ڈھونڈنے کے لیے ضروری ہے کہ خود ساختہ بھول بھلیوں کی سیر کی جائے۔ اس دعوے کی کوئی بنیاد نہیں کہ مسلم ملکوں میں خواتین کو پورے انسانی حقوق اس لیے نہیں دیے جا سکتے کیونکہ ان کا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ محض ماضی سے ہماری عدم واقفیت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ ان کے دلائل کسی ایسے شخص کو بھی قائل نہیں کرسکتے جو اسلام کی تاریخ سے معمولی سی آگاہی بھی رکھتا ہو۔

وہ اس بات کے تاریخی ثبوت پیش کرتی ہیں کہ خواتین کی مکمل شراکت نے باہر سے درآمد کی گئی مغربی اقدار سے نہیں بلکہ خود مسلم روایت سے جنم لیا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں خواتین مکہ کے قبائلی شہر سے ہجرت کرکے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر ساتویں صدی میں مدینے میں جا کر آباد ہوئی تھیں، اسلام نے تمام مسلمانوں مردوں اور عورتوں، آقاؤں اور غلاموں کے لیے برابری اور عزت و وقار کا وعدہ کیا تھا۔ ہر عورت نے جو اس وقت مدینہ آئی مکمل شہریت کے حقوق تک رسائی حاصل کی تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین کی زندگیوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں لے کر آئے تھے۔ انھوں نے خواتین کو خلع حاصل کرنے، مسجدوں میں عبادت کرنے اور فوجی و سیاسی امور کا انتظام چلانے کے حقوق دیے تھے۔

پھر اسلام کے فلاحی اور انسانی آغاز کو آخر کس طرح آج کے مسلم معاشروں کی عورت دشمن روایات میں بدل دیا گیا؟ حالانکہ اسلام نے زمانہ جاہلیت کی فرسودہ رسم و روایات کو ختم کرکے دونوں صنفوں کے تعلقات کو ماضی کی زنجیروں سے آزاد کیا تھا۔ وراثت کے نئے اسلامی قوانین کی بدولت مردوں کو اس معاملے میں برتری اور اجارہ داری ختم ہوگئی تھی اور آمدنی میں حصے داری کے لیے عورت بھی مردوں سے برابر کا مقابلہ کرنے لگی تھی۔ کچھ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نئے قوانین پر اعتراض کیا مگر انھیں ناکامی ہوئی، زمانہ ملوکیت میں مخصو لوگوں نے مایوسی کے عالم میں مقدس کتاب کی ہدایات کا غلط مطلب نکال لیا۔

کتاب کے ابتدائی باب میں فاطمہ مرنیسی ایک دکاندار سے ہونے والا اپنا مکالمہ بیان کرتی ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں ’’ کیا ایک خاتون مسلمانوں کی رہنما بن سکتی ہے؟ ‘‘اس کے جواب میں ایک خریدار کہتا ہے کہ’’ وہ لوگ جو اپنے معاملات کسی عورت کے سپرد کرتے ہیں کبھی خوشحال نہیں ہوں گے۔‘‘

ایسی باتیں حدیث کی آڑ لے کر اکثر و بیشتر خواتین کو سیاست سے دور رکھنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ احادیث کے مجموعوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے ایک ایک لمحے کے اقوال و افعال کو محفوظ کیا گیا ہے تاہم فاطمہ کے خیال میں کسی حدیث کی تصدیق کا اصول یہ ہے کہ اس بارے میں پوری تحقیقات کی جائے کہ اس کا مواد اور سیاق وسباق کیا ہے۔

جب مرنیسی نے تحقیق کی تو پتا چلا کہ کئی احادیث ضعیف کہلاتی ہیں۔یہ سب مسلم بادشاہتوں کے اقتدار میں رہنے کے باعث ہوتا رہا ہے ۔ مرنیسی کا مزید کہنا تھا کہ وہ احتیاط اور سمجھ بوجھ جو مذہبی علمیت کا تقاضا کرتی ہے، آج ناپید ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں خواتین کے بارے میں مردوں کے خوف کو جس کا اظہار عورتوں کے ساتھ امتیاز برتنے سے ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اپنے صحابیوں پر زور دیا کہ وہ اس قسم کے رویوں کی مذمت کریں کیونکہ یہ اسلام سے پہلے کی توہمانہ ذہنیت کا آئینہ دار تھے۔

مرنیسی لکھتی ہیں کہ مسلمان عورتوں کا تاثر اس وقت تبدیل ہوگا جب مسلمان مرد روشن خیالی کے سہارے اپنے مستقبل کو استوار کریں گے اور خواتین برابری کے لیے دباؤ ڈال کر ایسے مردوں کی مدد کر سکتی ہیں۔

سنسر شپ کی تاریخ:

ناقدین اور علما نے عرق ریزی سے تحقیق کے بعد ہمت، جرأت اور صفائی سے لکھنے کی وجہ سے The Veil and the Male Elite کی تعریف کی ہے۔ اپنی ایک اور کتاب اسلام اور جمہوریت، جدید دنیا کا خوف(1992) میں مرنیسی نے اپنی اس کتاب کی سنسر شپ پر کچھ یوں تبصرہ کیا۔ میں نے یہ وضاحت کی تھی کہ اسلام نے فلاحی انقلاب برپا کرتے ہوئے خواتین کو برابر کے کردار کی حیثیت سے ابھرنے کی اجازت دی تھی جب کہ اسلام سے پہلے کے دور جاہلیہ میں ان کا مقام ایک ایسی عام سی چیز کا تھا جو ورثے میں ملتی تھی اور غلے اناج کی طرح اس کا سودا ہوتا تھا مگر پھر تنگ نظری کے دور میں عورت کو اسلام سے پہلے کے دور جاہلیت کی طرح پھر سے غلام بنا دیا گیا۔

مرنیسی کی کتاب کے فرانسیسی زبان میں شایع ہونے کے کئی ماہ بعد کئی اسلامی ملکوں میں اس پر پابندی لگا دی گئی ۔تاہم اب تک اس کا آٹھ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ یہ مسلم ملکوں میں خاص پڑھی گئی ہے۔ 1991 میں اس کا عربی ترجمہ غیر قانونی طور پر شام میں شایع ہوا تھا۔

فاطمہ مرنیسی کا کہنا ہے کہ یادوں کو کریدنا ایک ایسی سرگرمی ہے جس کی بڑی سخت جانچ پڑتال کی جاتی ہے خاص طور پر جب اس کا تعلق مسلم خواتین سے ہو۔ سویا ہوا ماضی آج کے حال کو جگا سکتا ہے، یہی یادوں کی خوبی ہے۔ جادوگر بھی اس بات سے واقف ہیں اور اہل علم بھی۔

1993 میں مرنیسی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مراکشی ریاست مجھے روک سکتی ہے، انھوں نے میری کتاب کو روکا ہے مگر میں نے ایسا پرشور احتجاج کیا کہ اس کے بعد سے انھوں نے مجھے تنگ نہیں کیا۔ فاطمہ مرنیسی مراکش میں رہتی ہیں اور رباط میں محمد پنجم یونیورسٹی میں سینئر محقق ہیں۔

2001 میں یہ کتاب پہلی مرتبہ فارسی زبان میں ترجمہ کی گئی اور اسے تہران سے شایع کیا گیا۔ اگست 2003 میں اس کے مترجم ملیھے مغازئی، اس کے ناشر جعفر ہمایوں اور کلچر ڈائریکٹر ماجد سعادی جنھوں نے اس کو شایع کرنے کا اجازت نامہ جاری کیا تھا، تہران کی ایک سول عدالت نے مغازئی اور سیادی کو ایک ایک سال جب کہ ہمایوں کو کئی مہینے قید کی سزا سنائی۔           (جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔