بھارتی انتخابات: پاکستان کے نقشِ قدم پر؟

تنویر قیصر شاہد  پير 15 اپريل 2024
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

19اپریل2024سے بھارت میں لوک سبھا یا قومی اسمبلی کے عام انتخابات کا آغاز ہورہا ہے۔ بھارت کو دُنیا کی ’’سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ہم پاکستانیوں کو اگرچہ اِس سے اختلاف ہے لیکن دُنیا بوجوہ اِس بات کو مانتی اور تسلیم کرتی ہے ۔ پاکستان میں جمہوریت اور انتخابات کا جو احوال ہے، وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے ۔

بھارت اتنا بڑا ملک ہے کہ 19اپریل کو شروع ہونے والے عام انتخابات سات مراحل (Phases) میں مکمل ہوں گے۔ پہلا فیز 19اپریل، دوسرا 26اپریل، تیسرا 7 مئی ، چوتھا 13مئی، پانچواں20مئی ، چھٹا 25مئی اور ساتواں و آخری یکم جون کو منعقد ہوگا ۔ اِن عظیم الجثہ بھارتی عام انتخابات کے نتائج کا اعلان 4 جون 2024 کو ہوگا ۔ بھارت سمیت دُنیا بھر میں ابھی سے کہا جانے لگا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ایسی متعصب اور مسلمان دشمن جماعتوں کے متفقہ نمائندے، نریندر مودی، اِن انتخابات میں فتحیاب ہو کر تیسری بار بھارتی وزیر اعظم بن جائیں گے ۔

نریندر مودی کی کامیابی مزید یقینی بنانے کے لیے انڈین اسٹیبلشمنٹ کوشش کررہی ہے کہ بھارت بھر میں کوئی ایک اُمیدوار بھی ایسا نہ رہے جو مودی کو چیلنج کر سکے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوک سبھا کے اِن انتخابات کے انعقاد سے ٹھیک دو ماہ پہلے جھاڑ کھنڈ کے وزیر اعلیٰ(ہیمنت سورن)اور چار ہفتے قبل دہلی کے ہر دلعزیز نوجوان وزیر اعلیٰ، اروند کجریوال، کو مودی حکومت کی مالیاتی کرائم ایجنسی نے گرفتار کر لیا۔

اِن خبروں نے بھارت کے ساتھ دُنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا ۔ ایسا کم کم دیکھنے میں آتا ہے کہ عوام کا کوئی مقبول و محبوب منتخب وزیر اعلیٰ ، جیسا کہ کجریوال اور ہیمنت سورن ہیں،یوں اچانک گرفتار کرکے حوالہ زنداں کر دیا جائے ۔

ایسا مگر ہُوا ہے ۔ مودی کی مرکزی حکومت نے ہیمنت سورن پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے رانچی میں سرکاری زمین ہڑپ کررکھی ہے اور کجریوال پر تہمت عائد کی ہے کہ بطور وزیر اعلیٰ اُنھوں نے مودی حکومت کی وضع کردہ ایکسائز پالیسیوں کے برعکس ، دہلی میں شراب پالیسی میں من مرضی کی ترمیمات کرکے خود بھی کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے ، اپنے چند مقربین ساتھیوں کو بھی کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا ہے اور اپنی پارٹی(AAP) کے خفیہ فنڈز میں بھی بے حد اضافہ کیا ہے ۔

بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی یہ کہا اور محسوس کیا جارہا ہے کہ مودی حکومت نے خصوصاً دہلی کے وزیر اعلیٰ کو سنگین الزامات کے تحت اس لیے زندان میں ڈالا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کجریوال کو ہرانے کی سکت نہیں پا رہی تھی ۔کجریوال کو گرفتار کرنے سے قبل اُن کے دو دستِ راست وزرا(منیش سسودیا اور سنجے سنگھ) کو بھی اِنہی الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا ۔ یہ گرفتاریاں اس لیے کی گئی ہیں تاکہ بھارتی پنجاب اور دہلی میں مقتدر ’’عام آدمی پارٹی‘‘(AAP) کو انتخابات میں پسپا کیا جا سکے ۔

کجریوال، بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ( بھگونت سنگھ مان) اور عام آدمی پارٹی نے مودی حکومت کے اِن ہتھکنڈوں کو ’’غلیظ اور گندا‘‘ قرار دیا ہے ۔برسرِ اقتدار مودی حکومت اپنے تین مخالف وزرائے اعلیٰ (ہیمنت سورن، بھگونت مان اور کجریوال) ہی کو انتخابات میں کامیابیوں سے دُور رکھنے کے لیے یہ غیر جمہوری حربے استعمال نہیں کررہی بلکہ مودی جی نے بھارت بھر میں اپنی سب سے بڑی حریف جماعت، کانگریس، کے فنڈز بھی منجمد کر دیئے ہیں تاکہ نہ بانس ہوگا اور نہ بجے گی بانسری ۔ مودی کے حکم پر بھارتی محکمہ انکم ٹیکس نے کانگریس پارٹی کے بینک اکاؤنٹس( ایک ارب 35کروڑ روپے ) منجمد کر دیئے ہیں ۔ کانگریسی مرکزی رہنما ، راہل گاندھی، نے واویلا مچاتے ہُوئے کہا ہے کہ’’ پارٹی بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے کے بعد ہم اتنے لاچار ہو گئے ہیں کہ ہمارے پارٹی لیڈرز انتخابی دَوروں کے لیے نہ جہازوں میں سفر کر سکتے ہیں ، نہ ریلویز میں ۔ اور یہ سب کالے کرتوت نریندر مودی کے ہیں۔‘‘

مودی اور اُن کی پارٹی اگرچہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے کے امکانات رکھتی ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ اِس کے باوجود مودی صاحب اپنے مخالفین کو انتخابات سے دُور رکھنے کے لیے یہ گندے حربے کیوں بروئے کار لا رہے ہیں؟ کجریوال کی گرفتاری پر سب سے بڑا عالمی احتجاج جرمنی ، امریکہ اور یو این نے کیا ہے ۔اِس پر بھارتی حکومت نے سخت ناراض ہو کر بھارت میں متعین جرمن اور امریکی سفیروں کو وزارتِ خارجہ میں طلب کرکے گوشمالی کرنے کی کوشش کی ہے ۔

یو این ترجمان بارے مگر کچھ نہیں کہا۔ اور جب بھارت کے ایک معروف ٹاک شو میں دو شرکت کنندگان نے مودی حکومت کے مذکورہ ہتھکنڈوں بارے سوال اُٹھایا تو بی جے پی کے طرف جھکاؤ رکھنے والے اینکر نے ترنت جواب دیا:’’ جب ایسے ہی ہتھکنڈے پاکستانی انتخابات میں بروئے کار لا ئے جاتے ہیں تو اُس وقت آپ کو چپ کیوں لگ جاتی ہے ؟۔‘‘

انتخابات میں مودی کو شکست دینا سہل نہیں ہے ۔ مودی ، بی جے پی اور آر ایس ایس کے قابلِ مذمت ہتھکنڈوں کے باوجود دُنیا بھر میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ 19اپریل کو شروع ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لیے بھارتی الیکشن کمیشن، شفاف و غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے، اپنا طاقتور کردار ادا کررہا ہے۔ مثال کے طور پر چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا،راجیو کمار، نے انتخابات سے قبل بھارت کی 6اہم ریاستوں (گجرات، اُتر پردیش،بہار،جھاڑ کھنڈ، پنجاب ، مغربی بنگال) کے سیکرٹری داخلہ، 15ایس ایس پی ، 12 ڈی آئی جی اور 20کمشنرز تبدیل کر دیئے ۔

مقصد شفاف الیکشن کا انعقاد ہے ۔ تاکہ کوئی بیوروکریٹ اپنی پسندیدہ پارٹی کو فیور نہ دے سکے ۔ اُتر پردیش کے سیکرٹری داخلہ (سنجے پرشاد) کو جب تبدیل کیا گیا تو مقامی وزیر اعلیٰ،یوگی ادتیا ناتھ ، نے سخت احتجاج کرتے ہُوئے اپنے پسندیدہ اور معتمد ترین سیکرٹری داخلہ کا تبادلہ رکوانے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر انڈین چیف الیکشن کمشنر نے اُن کی ہر کوشش اور احتجاج مسترد کر دیا ۔

انڈین چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ اُن کے دو نائبین ( گنیش کمار اور سکھبیر سنگھ سندھو) بھی پوری طاقت اور اختیارات کے ساتھ اِن انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں ۔ یہاں تک کہ آسام کے وزیر اعلیٰ، ہیمنت بسوا شرما، کے ڈپٹی کمشنر بھائی کا تبادلہ رکوانے کی سبھی کوششیں ناکام بنا دیں ۔ بھارت میں چار روز بعد انتخابات کا یُدھ تو پڑ رہا ہے مگر بھارتی راجدھانی کے وزیر اعلیٰ کی گرفتاری اور حراست پر احتجاجات کی قیامتیں بھی جاری ہیں ۔

کانگریسی رہنما ، راہل گاندھی، نے حوالات میں کجریوال سے مل کر سیاسی و انتخابی یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے ۔ مگر سب سے اہم بیان کجریوال کی خاتون وزیر، آتشی، کا سامنے آیا ہے : ’’ عام انتخابات سے چند ہفتے قبل مودی حکومت کجریوال اور AAPکے دیگر وزرا کو جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کرکے دراصل انتخابات چوری کرنے کی سازش کررہی ہے ۔‘‘ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان میں بھی 8فروری کے انتخابات چوری کرنے کا الزام ، ابھی تک، پی ٹی آئی بھی مسلسل دہرائے جارہی ہے ۔ جس طرح بھارت میں AAPکے کئی سیاستدانوں کو مرکزی حکومت نے ، انتخابات سے قبل جیلوں میں ڈالا ہے، اور وزیر اعلیٰ دہلی نے جیل میں بیٹھ کر انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، کچھ اِسی طرح کے اقدامات ، ایک پارٹی کے خلاف، ہمارے ہاں بھی 8فروری کے انتخابات کے دوران دیکھنے میں آئے تھے ۔مطلب پاکستان اور بھارت ایک ہی کشتی کے سوار ہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔