تحریک تحفظ آئین، اہداف اور مقاصد

مزمل سہروردی  بدھ 17 اپريل 2024
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

تحریک تحفظ آئین بن چکی ہے۔ اس اتحاد میں چھ جماعتیں شامل ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن اس اتحاد میں شامل نہیں ہیں۔ تحریک تحفظ آئین نے اپنی تحریک کا آغاز بلوچستان کے شہر پشین سے کردیا ہے لیکن پہلا جلسہ اتنا کامیاب نہیں ہوا کہ اس نے تحریک کی کامیابی کے ڈھول بجا دیے ہوں۔

پہلے تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ تحریک انصاف کے مقاصد کیا ہیں؟ کیونکہ وہی ’’ تحریک تحفظ آئین‘‘ کی روح رواں ہے۔ اس چھ پارٹی اتحاد میں سے پی ٹی آئی کو نکال دیا جائے تو باقی کچھ نہیں بچے گا۔اس لیے مقاصد اور اہداف بھی تحریک انصاف کے ہی اہم ہوںگے۔

آپ پوچھ سکتے ہیں کہ پھر باقی سیاسی جماعتیں اس اتحاد یا تحریک میں کیوں شامل ہیں؟ پہلی بات یہ سیاسی جماعتیں خود کو زندہ رکھنے کے لیے اس میں شامل ہوئی ہیں۔ حالیہ عام انتخابات کے بعد ان کی کوئی سیاست نہیں بچی ہے، وہ سیاسی طور پر یتیم ہو گئی ہیں۔اس اتحاد نے ان کی ڈوبتی اور ختم ہوتی سیاست کو سہار ا دیا ہے۔ جماعت اسلامی اور محمود اچکزئی کو دیکھ لیں ، دونوں اپنی اپنی سیاسی بقا کے لیے شامل ہوئے ہیں،اس کے سوا ان کا کوئی ہدف نہیں ہے۔

لہٰذا تحریک انصاف کے مقاصد کو سمجھنا اہم ہے۔ کیا تحریک انصاف نے یہ اتحاد اپنی سیاسی تنہائی ختم کرنے کے لیے بنایا ہے؟ مجھے نہیں لگتا ۔

اگر سیاسی تنہائی ختم کرنا ہی مقصود ہوتا تو کسی بڑی جماعت کے ساتھ اتحاد بنایا جاتا۔ تحریک انصا ف چاہتی تو مولانا کو ساتھ شامل کر سکتی تھی۔ لیکن مولانا کو ساتھ شامل کرنا تحریک انصاف کے ڈیزائن میں شامل نہیں۔ باقی جو جماعتیں شامل ہیں وہ صفر جمع صفر سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر سیاسی تنہائی ختم کرنی تھی تو پیپلز پارٹی کو ساتھ ملایا جا سکتا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو منظر نامہ ہی بدل جاتا۔ لیکن آصفہ بھٹو کی حلف برداری پر تحریک انصاف کے ارکان نے ایوان میں جو کچھ کیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ بھی تعلقات نرم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

پھر کیا مقاصد ہیں؟ کیا تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ یہ اتحاد اور اس کے تحت چلنی والی تحریک وفاقی حکومت کو گرا سکتی ہے؟ میں نہیں سمجھتا۔ اس اتحاد کی تشکیل بتا رہی ہے کہ اس کو وفاقی حکومت گرانے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ بلوچستان میں تحریک چلا کر اسلام آباد کی حکومت نہیں گرائی جا سکتی۔ بلوچستان کی حکومت گرانے کا تحریک انصاف کو کیا فائدہ؟ بلوچستان اسمبلی میںاس کی نمایندگی ہی نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی یہ تاثر بھی دینا چاہتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کو گرانے کے لیے تحریک چلا رہی ہے اور تحریک چلانا بھی نہیں چاہتی۔ یہ تاثر اور حقیقت کے درمیان کا کھیل ہے۔ حکومت گرانے کا شور بھی مچانا ہے اورکوئی عملی کام بھی نہیں کرنا ۔ آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اس کا تحریک انصاف کو کیا فائدہ ہے؟ پی ٹی آئی پر ایک دباؤ ہے کہ آپ مسلسل دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں لیکن احتجاجی تحریک نہیں چلا رہے۔

اس دباؤ کو بھی زائل کرنا ہے، تحریک چلانی بھی ہے اور نہیں بھی چلانی۔ نظام کو عدم استحکام کا شکار بھی نہیں کرنا اور عدم استحکام کا شکار کرنے کا تاثر بھی دینا ہے، اس لیے تحریک انصاف میں اسٹبلشمنٹ دوست گروپ نے ملی بھگت سے یہ اسکرپٹ تیار کیا ہے۔

تحریک انصاف کو علم ہے کہ پنجاب میں تحریک چلائے بغیر وفاقی حکومت نہیں گرائی جا سکتی۔ اور پنجاب میں پی ٹی آئی تحریک چلانے کی پوزیشن میں ہے اور نہ ہی تحریک چلانا چاہتی ہے ۔ پشاور میں دو ریلیاں نکال کر اندازہ ہوگیا ہے کہ کے پی میں بھی تحریک کا کوئی ماحول نہیں۔ کے پی کی حکومت بھی نہیں چاہتی کہ اسلام آباد کے خلاف کسی تحریک میں پشاور مرکز بن جائے۔ تحریک انصاف تو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا حکومت چلانا چاہتی ہے۔ ایسے ماحول میں پشاور سے کوئی تحریک کیسے چل سکتی ہے۔

تحریک پنجاب سے چل نہیں سکتی۔ خیبر پختونخوا سے چلانی نہیں ہے۔ سندھ سے تحریک چلانا بھی ممکن نہیں ہے، بلوچستان میں تحریک چلانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ پھر کیا مقصد ہیں۔ کیا عمران خان کو جیل سے نکالنے کا ہد ف ہے؟ میں سمجھتا ہو ں تحریک تحفظ آئین کے اہداف میں عمران خان کو جیل سے نکالنا شامل نہیں ہے۔ عمران خان کو جیل سے نکالنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ پہلا راستہ عدالتی ریلیف ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں عدلیہ پر کوئی د باؤ نہیں آسکتا۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا اس تحریک کاکوئی ہد ف عمران خان کے لیے عدالتی ریلیف حاصل کرنا ہے۔

کیا اس تحریک کا مقصد اسٹبلشمنٹ کو دباؤ میں لانا ہے؟ کیا محمود اچکزئی کو صدر تحریک تحفظ آئین بنانا،اسٹبلشمنٹ کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس اتحاد یا محمود اچکزئی کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کسی دباؤ میں آسکتی ہے۔ بلکہ اگر اسٹبلشمنت پر انتخابات میں دھاندلی کا کوئی دباؤ تھا بھی تو اس تحریک کی وجہ سے وہ بھی ختم ہوجائے گا۔ اس لیے مجھے نہ تو تحریک کا مقصد عمران خان کی رہائی لگتا ہے اور نہ ہی حکومت کو گھر بھیجنا لگتا ہے۔

یہ تحریک اس پی ٹی آئی کے ہمدردوں اور ناقدین کے اس مطالبہ یا طنز کو زائل کرنے کے لیے چلائی جا رہی ہے تا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ آپ نے تحریک نہیں چلائی۔ کہا جائے گا کہ تحریک چلائی گئی تھی لیکن کامیاب نہیں ہوئی۔ ناکامی کی وجوہات بتائی جائیں گی۔ کہا جائے گا کہ لوگ نہیں نکلے۔ عوام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تحریک ناکام ہوگئی ہے۔ اسی لیے اقتدار کے ایوانوں میں اس تحریک کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔

ایک سکون نظر آرہا ہے، جیسے کوئی کام آسان ہوگیا ہے۔ اس تحریک کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں کوئی غیر آئینی کام نہیں ہوگا، کیونکہ اس کا نام ہی تحریک تحفظ آئین رکھا گیا ہے۔ پھر غیر آئینی کام ہو ہی نہیں سکتا۔ آئین کے دائرے میں حکومت گرانے کا واحد طریقہ عدم اعتماد ہے، جس کا ابھی کوئی امکان نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔