کراچی سے کم عمر بچیوں کو لاپتہ کرنے میں مخصوص گروہ ملوث ہے، پولیس

کورٹ رپورٹر  بدھ 17 اپريل 2024
کم عمر لڑکیوں کے اغوا کے کیسز کی تحقیقات کے لیے سی آئی اے کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے مدد لینے کا فیصلہ

کم عمر لڑکیوں کے اغوا کے کیسز کی تحقیقات کے لیے سی آئی اے کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے مدد لینے کا فیصلہ

  کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کم عمر بچی کی گمشدگی سے متعلق درخواست پر ایڈیشنل آئی جی کراچی کو لڑکیوں کی بازیابی اور اغوا میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیدیا۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو کم عمر بچی کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

ایس ایس پی شرقی عدالت میں پیش ہوئے۔ ایس ایس پی ایسٹ نے بتایا کہ کم عمر بچیوں کو لاپتہ کرنے میں ایک مخصوص گروہ ملوث ہے۔ کم عمر لڑکیوں کے اغوا کے کیسز کی تحقیقات کے لیے سی آئی اے کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو لکھا ہے کہ کم عمر بچیوں کے حوالے سے تحقیقات کے لیے سی آئی اے کی مدد فراہم کی جائے۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ 2022 میں سہراب گوٹھ کے علاقے سے 5 سالہ بچی سیما لاپتہ ہوگئی تھی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق بچی کی گمشدگی سے متعلق اخبارات میں اشتہار دیئے ہیں۔

عدالت نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو لڑکیوں کے اغوا میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے اور سی آئی اے کی خصوصی ٹیم کی تشکیل میں ناکامی پر ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے پولیس کو کم عمر لڑکی ہر ممکن بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیدیا اور درخواست کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔