جرائم کی شرح میں اضافہ اور اداروں کی کارکردگی؟

ضیا الرحمٰن ضیا  ہفتہ 20 اپريل 2024
جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح مراعات یافتہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ (فوٹو: فائل)

جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح مراعات یافتہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان میں ہر سال جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ 2022 کے دوران پنجاب میں جرائم کی شرح میں 30 فیصد اضافہ ہوا، 2022 میں 7 لاکھ 18 ہزار جبکہ 2023 میں 10 لاکھ 33 ہزار مقدمات درج ہوئے۔ ملک بھر میں جرائم کی شرح ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھنے لگی ہے۔

ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ موٹر سائیکل اور موبائل فون چھیننے کے واقعات تو بہت ہی زیادہ پیش آرہے ہیں۔ گلی محلوں میں لوگ خوفزدہ رہتے ہیں کہ کسی وقت موبائل نکالا تو کوئی چھین کر لے جائے گا۔ ایسے واقعات کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا جینا محال ہوچکا ہے۔ 2024 میں بھی اب تک کے درج مقدمات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شرح بھی گزشتہ برسوں کی نسبت زیادہ ہے، اگرچہ مکمل برس کی رپورٹ تو سال کے اختتام پر ہی پیش ہوگی۔

پاکستان میں اگرچہ ہر طرح کے ادارے موجود ہیں، پولیس موجود ہے، فوج موجود ہے اور پولیس میں بھی کئی طرح کے شعبے ہیں جن کے ذمے اپنے اپنے کام ہیں۔ مختلف جرائم اور مختلف مسائل کو دیکھنے کےلیے مختلف ڈپارٹمنٹس قائم کیے گئے ہیں، ہر تھانے کے اندر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوتی ہے، ہر علاقے کے اندر پولیس موجود ہوتی ہے، اس کے باوجود جرائم کی اتنی بڑی شرح اور اس میں مسلسل اضافہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

اداروں میں موجود افسران سے لے کر سپاہیوں تک تمام کے تمام بھاری تنخواہیں اور مراعات وصول کررہے ہیں، گاڑیاں اور دیگر کئی طرح کی سہولیات انہیں میسر ہیں لیکن وہ نہ جانے کہاں پر استعمال ہورہی ہیں؟ اگر ان تمام تر سہولیات کے باوجود مجرم قابو میں نہیں آرہے اور جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے تو یہ سوچنے کی بات ہے کہ قوم کا پیسہ اداروں پر لگایا جارہا ہے، انہیں پالا جارہا ہے، انہیں مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن بجائے یہ کہ عوام کو اس کا فائدہ ہو عوام کو الٹا ان کا نقصان ہی ہورہا ہے۔

دراصل اداروں میں بیٹھے ہوئے لوگ اپنی ذمے داریوں کو فرض نہیں سمجھتے اور وہ ان سے انتہائی غفلت برت رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں جو رشوت اور کرپشن وغیرہ عام ہے اس کو بھی گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ اس کی وجہ سے بھی ایسے جرائم عام ہوتے جارہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب پولیس والے یا اداروں میں بیٹھے افسران مجرموں کو رشوت لے کر چھوڑ دیں گے یا کسی مجرم کو صرف اسی نیت سے گرفتار کریں گے کہ اس سے کچھ جیب بھرنے کو مل جائے گا تو انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ کوئی حلال کام کریں اور جرائم کو چھوڑ دیں۔ وہ ان کو میں بیٹھے افسران کو ساتھ ملا کر اپنا کام نکال لیں گے۔

رشوت مانگنا تو ہمارے ہاں برا سمجھا ہی نہیں جاتا۔ سانحہ بہاول نگر میں کس قسم کی رپورٹ سامنے آئی اور کس قسم کے الزامات سننے کو ملے، انہیں دیکھ کر تو روح تک کانپ جاتی ہے کہ کیسے پولیس افسران مسلسل ایک ہی کیس میں کتنے لوگوں کو بلیک میل کرکے رشوتیں وصول کرتے رہے اور بالآخر اپنے انجام تک پہنچ گئے۔ لیکن دنیا میں ہر ایک اپنے انجام تک نہیں پہنچتا، اسی وجہ سے تو یہ لوگ بلاخوف و خطر اس کام میں پڑے ہوئے ہیں۔ بہاولنگر میں بھی اہم ادارے کے لوگ نکل آئے جس کی وجہ سے پولیس کو لینے کے دینے پڑگئے۔ اگر اس ادارے کے افراد نہ ہوتے اور عوام ہوتے تو پھر کس نے انہیں پوچھنا تھا اور عوام کے ساتھ تو اس قسم کا رویہ عام سی بات ہے۔ اگر اپنے لوگ نہ ہوں تو دوسرے اداروں کے لوگ بھی کرپٹ پولیس افسران کے ساتھ مل کر لوگوں کو ستاتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اداروں کے افسران کو درست رکھنے کا کوئی انتظام موجود نہیں۔ بے ایمانی، رشوت وغیرہ بہت عام ہے۔ ہر شخص اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح دوسروں کی جیب سے کچھ نکل آئے۔ جس کو اس کام پر لگائیں کہ وہ دوسروں پر نظر رکھے وہ خود ہی انہی کے رنگ میں رنگ جاتا ہے اور جن پر نظر رکھنے کےلیے بیٹھتے ہیں انہیں بھی ساتھ ملا لیتے ہیں اور پھر مل جل کر کھاتے اور کھلاتے ہیں۔ یوں یہ نظام درست ہونے کے بجائے مزید بگڑ رہا ہے، جو عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

معاشرے کی اخلاقیات تباہ ہوچکی ہیں۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ حکمران نظام درست کرنے کے بجائے عوام کو چند پیکیج دیتے ہیں اور اسی پر اپنا پورا عرصہ گزار دیتے ہیں۔ نظام کی درستی کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ جرائم کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن اداروں کی طرف سے غفلت برتی جا رہی ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ اس مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دیں اور اس نظام کو بہتر کریں اور غفلت برتنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔