ایران کا دبنگ اقدام

عثمان دموہی  اتوار 21 اپريل 2024

ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکا ہی نہیں کسی سامراجی ملک سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ اس نے دبنگ طریقے سے امریکا کو آگاہ کرکے اسرائیل پر حملہ کیا، آخر وہ وقت آ ہی گیا جب ایرانی میزائل اسرائیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے فضا میں بلند ہوگئے۔

نیتن یاہو جو کچھ دیر پہلے تک تکبر و غرور کا غبارہ بنا ہوا تھا حملہ ہوتے ہی اس کے ہوش اڑ گئے ہوں گے، اس لیے کہ وہ تو ایرانی حملے کو مذاق سمجھ رہا تھا کہ ایران کبھی بھی اسرائیل پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرے گا کیونکہ جب سارے ہی سارے ملک اس سے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ غزہ میں مسلسل سات ماہ سے فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے مگر مجال ہے کہ ایک بھی اسلامی ملک نے آگے آ کر اس کے ہاتھ روکے ہوں یا اس کا مقابلہ کرنے کا سوچا ہو۔

بہرحال ایرانی حملے میں اسرائیل کوکافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کا گولان میں موجود ایک فوجی ہوائی اڈہ جہاں سے وہ شام پر حملہ کرتا تھا، اسے نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کی دیگر فوجی تنصیبات کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے مگر ہٹ دھرم نیتن یاہو اپنے شہریوں کو یہ کہہ کر خوش کر رہا ہے کہ اسرائیل کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا ہے اور اس نے ایرانی حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ایرانی حملے کی خبر نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں سمیت مغربی کنارے کے فلسطینیوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔

ہزاروں فلسطینی مسجد اقصیٰ میں جمع ہو کر خوشی کا اظہار کرتے رہے اور ادھر غزہ کے فلسطینی جن کی اکثریت جنوب میں اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے جمع ہوگئی تھی واپس شمال کی جانب پہنچ گئے ہیں۔ اس حملے سے فلسطینیوں کو یہ بھی فائدہ ہوا ہے کہ اسرائیلی جنگی جہاز اسرائیل واپس چلے گئے ہیں اور غزہ میں فضائی حملوں میں کمی آئی ہے۔ عرب ممالک ایران کے اسرائیل پر حملے سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ اب ثابت ہو گیا ہے کہ اسرائیل کا دفاع مغرب کے ہاتھ میں ہے۔

امریکا نے خود کہا ہے کہ اسرائیل پر داغے گئے نناوے فی صد میزائلوں کو اس نے روکا ہے اور باقی ایک فی صد کو ظاہر ہے ناکام بنانے میں خود اسرائیل، برطانیہ اور فرانس شامل تھے۔ اس حملے سے اسرائیل کا مشرق وسطیٰ میں خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے کا بھرم بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں نسل کشی اور دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ اسرائیل کو بہت مہنگے پڑ گئے ہیں۔

اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق اسرائیل کا قرض 20 ارب ڈالر سے بڑھ کر43 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ اسرائیل پر فضائی حملوں کو روکنے والا سسٹم آئرن ڈوم مکمل ناکام ثابت ہوا ہے۔ مغربی ممالک میں ایرانی حملے پر بہت تشویش پائی جاتی ہے تاہم اتنا ضرور ہوا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس میں بھی شاید یہ راز مخفی ہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ایران کے جوابی حملے سے اسرائیل کو ممکنہ بڑی تباہی سے محفوظ بنانا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد پاس ہونے کے بعد بھی اسرائیل نے غزہ میں جنگ نہیں روکی تھی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران نے حماس کی حمایت میں اسرائیل پر حملہ کیا ہے اور غزہ کی جنگ سے ایران کو فائدہ ہوا ہے حالانکہ جب عرب ممالک سمیت تمام اسلامی ممالک امریکا کی جانب سے جنگ بند کیے جانے کا انتظار کر رہے تھے کہ وہی اسرائیل کو لگام دے سکتا ہے تو ایسے میں ایران کیونکر اسرائیل پر حملہ کرکے نئی جنگ چھیڑ سکتا تھا۔

ایران کا حملہ دمشق میں اپنے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کا انتقام ہے تاہم اس سے فلسطینیوں کو یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور نیتن یاہو کا غرور خاک میں مل گیا ہے۔ بہرحال اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ اب اگر اسرائیل ایران پر جوابی حملے کی آڑ میں جنگ کو طول دے کر دو ریاستی حل کو لیت و لال میں ڈالنا چاہتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔

اب اسے جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے غزہ میں فوراً مکمل جنگ بند کرنا چاہیے، ساتھ ہی اوسلو معاہدے کے مطابق دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کرنا چاہیے کیونکہ اب اسی میں اس کی سلامتی مضمر ہے اور خطے میں پائیدار امن بھی اسی طرح قائم ہو سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔