نئی سیاسی پارٹی کی گنجائش کتنی

ڈاکٹر منصور نورانی  پير 22 اپريل 2024
mnoorani08@hotmail.com

[email protected]

پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نون سے ازخود علیحدگی اختیار کرنے والے مصطفی کھوکھر اور شاہد خاقان عباسی تقریباً دس ماہ سے ایک نئی سیاسی پارٹی کی ضرورت پرزور دیتے رہے ہیں، کبھی خبر آتی ہے کہ وہ خود کوئی نئی سیاسی پارٹی بنانے جارہے ہیں اورکبھی وہ اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

انھیں معلوم ہے کہ نئی سیاسی پارٹی بنانا کوئی اتنا آسان نہیں ہے، وہ اگر بنالی بھی گئی تو اسے کامیابی سے ہمکنار کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔دونوں افراد اپنی اپنی پرانی سیاسی پارٹیوں سے نالاں دکھائی دیتے ہیں مگرکھل کر اُس کے خلاف بھی صف آراء نہیں ہوتے۔

ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے واپسی کا دروازہ ابھی کھلا رکھا ہوا ہے، وہ اگر کوئی دوسری نئی سیاسی پارٹی نہ بناسکے تو پھر وہ کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔وہ موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔

تحریک انصاف اوراس کے قائد عمران خان کو اگر ہماری عدالتیں ریلیف دے دیتی ہیں اور اس کے نتیجے میں خان صاحب دوبارہ برسراقتدار آجاتے ہیں تو بہت ممکن ہے دوسری پارٹیوں سے نکلے ہوئے کچھ سیاستدان پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں۔ موجودہ سیاسی منظرنامہ میں فی الحال کسی نئی سیاسی پارٹی کی فوری ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ عوام ویسے ہی تمام سیاسی پارٹیوں سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔

ایسے میں پرانے آزمائے ہوئے لوگوں کی طرف سے نئی سیاسی پارٹی بنانے سے وہ ہرگز مطمئن نہیں ہوں گے۔نئی بوتل میں پرانی شراب کا فروخت کرنا اتنا آسان نہیں ہوا کرتا۔ ہمارے کئی سیاسی رہنما بظاہر ایک ہی طرز کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں، لیکن انھیں اپنے اوپراتنا اعتماد بھی نہیں ہے کہ وہ نئی سیاسی پارٹی تشکیل دے کرملک کو اس طرز کی سیاست سے مکمل طور پرچھٹکارا دلا پائیں۔

ستر سے زائد سیاسی پارٹیوں کے اس ملک میں کیا کسی اورنئی سیاسی پارٹی کی گنجائش موجود ہے۔  سیاسی رہنماؤں سے ہمارا سوال صرف اتنا ہی ہے۔ سیاسی پارٹی بنانے کے لیے بہت بڑے فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر سیاسی رہنما اپنی جیب سے یہ فنڈفراہم کرنے سے قاصر ہے۔ سیاست کے اس کھیل میں کچھ سیاسی رہنما ایسے بیانات دیکر اُن حلقوں کو اپنی خدمات پیش کرتے ہیں جواس ملک میں ہمیشہ متبادل آپشن کی تلاش کرنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نون کا توڑپیدا کرنے کے لیے تحریک انصاف کو جو 1996 سے 2011 تک در در کی ٹھوکریں کھارہی تھی ایک طے شدہ پلاننگ کے تحت بھر پورسپورٹ کیا گیا اورہرطرح کے حربے استعمال کرکے اسے بالآخر اسلام آباد کے تخت وتاج سے سرفراز کردیاگیا،لیکن اس پودے نے جب اپنی جڑیں مضبوط کرلیں تو پھرحالات اُن کی اپنی بھی گرفت سے نکل گئے۔

خان صاحب اپنی جاذب نظر شخصیت کی وجہ سے اس ملک کی خواتین میں آج تک بہت مقبول اورمعروف ہیں۔اُن کی یہ صلاحیت انھیں دوسروں سے ممتاز اورمتفرق بناتی ہے۔ یہ اوربات ہے کہ پندرہ سالوں تک وہ اپنی اس طلسماتی پرسنلٹی سے عوام کو اپنی طرف راغب و مرغوب نہ کرسکے لیکن جب کیا تو کنٹرول سے بھی باہر ہوگئے۔جنھیں وہ کبھی احترام کا درجہ دیا کرتے تھے ایک وقت آیا کہ انھیں بھی آنکھیں دکھانا شروع کردیں۔وہ یہ بھول گئے کہ اس منصب پرفائز کرانے والوں میں انھی رہنماؤں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔

سسٹم کوبدلنے کی خواہش ہمارے یہاں ہرکوئی کرتا ہے لیکن سسٹم تبدیلی کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے زوربازو کے بجائے اسی سسٹم کو سہارا بنانے کی کوششیں کرتاہے۔اسے معلوم ہے کہ وہ تن تنہایہ کام ہرگز نہیں کرسکتاہے۔خان صاحب بھی سیاست میں کامیاب وسرخرو اسی وقت ہوئے جب انھوں نے نادیدہ قوتوں کو اپنا ناخدا بنالیا۔اس سے پہلے باوجود اپنی جاذب نظر شخصیت کے وہ ایک دوسیٹوں سے زیادہ کوئی الیکشن بھی نہ جیت پائے۔

نئی سیاسی پارٹی بنانے کی خواہش رکھنے والوں کی مشکل بھی یہی ہے کہ وہ موجودہ سسٹم سے بغاوت کی باتیں تو ضرور کرتے ہیں لیکن اپنی کامیابی کے لیے وہ اسی سسٹم کے کرتادھرتاؤں کی جانب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

ہمارے کئی سیاسی رہنما اپنے طور پر یہ قدم اُٹھانے کو تیار نہیں ہوپا رہے۔ وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر سسٹم کے خلاف باتیں توضرورکرتے ہیں لیکن اس سسٹم سے نکلنے کی کوئی تجویزاُن کے پاس بھی نہیں ہے۔ سسٹم سے باہررہ کرنئی سیاسی جماعت بنانا کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے۔

اس کے لیے جرات وہمت اوردلیری چاہیے۔کسی نادیدہ قوت کی نظر کرم کا سہارا لے کر پارٹی تو ہرکوئی بناسکتا ہے بلکہ اسے کامیابی سے بھی ہمکنار کرسکتا ہے ۔ بات تو جب ہے کہ کوئی اس کے بغیر بھی یہ کارنامہ سرانجام دے سکے۔شاہد خاقان عباسی اورمصطفی کھوکھرایک سال سے پارٹی بنانے کی باتیں توضرورکررہے ہیں لیکن عملی طور پراس مقصد سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائے ہیں،وہ شاید وقت اورحالات کے بدل جانے کاانتظار کررہے ہیں۔

نئی سیاسی پارٹیاں بنانے کے حوالے سے ہمارے یہاں بے شمار مثالیں موجود ہیں جو جوش وجذبات میں بنالی تو گئیں لیکن ابھی تک صرف کاغذوں یاالیکشن کمیشن کے شمار خانوں میں درج ہیں۔ عملی طور پراُن کا کوئی وجود اس معاشرے یا سوسائٹی میں دکھائی نہیں دے رہا۔نئی سیاسی پارٹی بنانے کے لیے نیا نظریہ یا منشورچاہیے ہوتا ہے۔

ایسا نظریہ جوعوام کو بھی اپنی طرف راغب کرسکے۔ ملک اورقوم کی خدمت کرنا وہ بھی ایک مقروض اورسخت معاشی بحران والے ملک میں کوئی اتنا آسان نہیں ہوتا۔ایک آسودہ اورمعاشی طور پرخوشحال ملک میں تو یہ کوشش آزمائی جاسکتی ہے لیکن ہمارے جیسے کمزور اورمحتاج ملک میں نہیں۔بہتر یہی ہے کہ سسٹم میں رہ کرسسٹم کوسدھارا جائے ،اس سے بغاوت کرکے نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔