سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ ضروری، ماہرین صحت

نمائندہ ایکسپریس  پير 22 اپريل 2024
فی سگریٹ16.50روپے ٹیکس لگا کر505 ارب روپے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں، ملک عمران
۔ فوٹو: فائل

فی سگریٹ16.50روپے ٹیکس لگا کر505 ارب روپے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں، ملک عمران ۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: سگریٹ کی بڑھتی کھپت کی وجہ سے صحت عامہ اور معاشی اخراجات کے باعث قومی معیشت پر پڑنے والے بھاری بوجھ کے پیش نظر ماہرین صحت نے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی(FED)میں اضافے کے لیے عالمی بینک کی سفارشات پر عمل درآمد کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ڈائریکٹر سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ (CRD) امجد قمر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ بڑھتی ہوئی سگریٹ نوشی کو روک سکتا ہے جس سے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے صحت مند مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ ایف بی آرکی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک کو گزشتہ سات سالوں کے دوران 567 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

دوسری جانب، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سال 2019ء میں پاکستان میں تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں اور اموات پر اٹھنے والے اخراجات مجموعی طور پر 615.07 بلین روپے $3.85 (بلین) تھے۔ جو  پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد بنتا ہے۔

کنٹری ڈائریکٹر، کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز (CTFK) ملک عمران احمد نے ورلڈ بینک کی رپورٹ بعنوان پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو ٹیکس میں اضافہ کے حوالے سے معیاری سگریٹ کے ساتھ ساتھ پریمیم سگریٹ پر موجودہ شرح 16.50 روپے فی سگریٹ کو لاگوکرکے جی ڈی پی کے 0.4 فیصد یعنی 505.26 بلین روپے کا نمایاں ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔