کچھ ہوا ہے نہ ہی ہوگا

محمد سعید آرائیں  منگل 23 اپريل 2024
m_saeedarain@hotmail.com

[email protected]

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج بھی کچھ عناصر دھاندلی کا ڈھول بجا کر عوام کے ساتھ کھیل رہے ہیں اورکچھ سیاستدان قومی اتحاد پارٹ ٹو لانا چاہتے ہیں۔

دھرنوں، گالیوں سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے نانا سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقعے پرکیا، جن کی حکومت 1977 میں دھاندلی کے الزام میں دوبارہ بننے کے بعد اسلامی جمہوری اتحاد نے ملک گیر تحریک چلائی تھی اور بھٹو حکومت میں جو انتخابات کرائے گئے تھے، اس میں بھٹو صاحب نے خود کو بلا مقابلہ منتخب کرا لیا تھا اور آئی جے آئی نے ان پر ملک بھر میں بھرپور دھاندلیوں کے الزامات لگائے تھے اور نظام مصطفیٰ تحریک چلی تھی کیونکہ پیپلز پارٹی پر الزام لگا تھا کہ اس نے دھاندلیوں کے ذریعے اپنے امیدوار کامیاب کرا کر آئی جے آئی کے امیدواروں کو ہروایا ہے۔

اس وقت ذوالفقار علی بھٹو نے بھی آئی جے آئی کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا اور ملک بھر میں اپنی حکومتیں بنا لی تھیں جس پر ملک بھر میں حکومت کے خلاف بھرپور تحریک چلائی گئی جس کے دوران تین بڑے شہروں میں مارشل لا لگایا گیا تھا۔ بے پناہ جانی نقصان ہوا، ملک مفلوج کر دیا گیا تھا کیونکہ اپوزیشن متحد، منظم اور مضبوط تھی اور اس کے الزامات حقیقت تھے اور پورا ملک حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا تھا کیونکہ آئی جے آئی کا منشور ملک میں نظام مصطفیٰ کا قیام تھا جس کے آگے ذوالفقارعلی بھٹو نہ ٹک سکے تھے اور انھیں مجبوراً دھاندلی کے الزامات پر اپوزیشن رہنماؤں سے مذاکرات پر مجبور ہونا پڑا تھا اور اس سے قبل انھوں نے اپنے خلاف تحریک کو بھرپور طور پر کچلنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

تمام اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کرا کر ان پر ملک کے مختلف شہروں میں لے جا کر بہیمانہ تشدد کرایا گیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو دوبارہ الیکشن کرانے پر رضا مند ہوئے تھے اور حکومت کا اپوزیشن سے معاہدہ ہو گیا تھا مگر بھٹو صاحب معاہدے پر عمل میں تاخیر کرتے رہے اور غیر ملکی دورے پر چلے گئے تھے۔

بلاول بھٹو کو اس وقت کے حالات کا علم نہیں اس لیے پی ٹی آئی کے بنائے گئے 6 جماعتی اتحاد کی تحریک کو قومی اتحاد پارٹ ٹو قرار دے رہے ہیں جب کہ ایک بڑی اور باقی پانچ چھوٹی جماعتوں کے اتحاد کو اسلامی جمہوری اتحاد سمجھ رہے ہیں جس میں ملک کی نو بڑی اپوزیشن جماعتیں شامل تھیں اور ان کی تحریک نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا جب کہ 6 جماعتی اتحاد کے متعلق اس کے سربراہ محمود خان اچکزئی کہہ رہے ہیں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نام پر بنائے گئے اتحاد سے دشمن کو شکست ہوگی جب کہ یہ اتحاد پشین میں جلسہ کرکے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اس اتحاد کا 1977 کے اپوزیشن اتحاد سے کوئی موازنہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہی فروری کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو آئی جے آئی جیسی شکست ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی نے پنجاب و کے پی میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور دھاندلی کا محض واویلا کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے پی میں واضح اکثریت سے اپنی حکومت بنا چکی ہے اور وفاق اور پنجاب میں اس کے پاس پی ٹی آئی ارکان کی بڑی تعداد موجود ہے۔

قومی اسمبلی اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے اپنے رہنما اپوزیشن لیڈر ہیں۔ پی ٹی آئی کے بانی جیل میں پرتعیش قید کاٹ رہے ہیں جب کہ 1977 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے تمام بڑے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ افسوس ناک سلوک کیا تھا۔ تمام اپوزیشن جماعتیں زیر عتاب اور ان کے ہزاروں کارکن گرفتار تھے اور سب حکومت کے خلاف متحد تھے اور تمام جماعتوں نے اپنے کارکنوں کی قربانی دی تھی۔حکومتی مظالم دلیری سے برداشت کیے تھے جب کہ آج ایسی کوئی صورت حال نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے اتحاد کی جماعتوں کے سربراہ قومی اسمبلی کے منتخب ارکان ہیں اور یہ اتحاد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ امیدواروں کے ہاتھوں تمام آئینی الیکشن ہار چکا ہے اور ان کے رہنما ملک بھر میں دورے کر رہے ہیں۔ انھیں کوئی نہیں روک رہا اس لیے 2024کے انتخابات کا 1977سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے جب کہ 1977 کی سیاسی صورت حال بالکل مختلف تھی اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کچھ سیاستدان قومی اتحاد پارٹ ٹو لانا چاہتے ہیں۔

جنرل ضیا الحق کے طویل مارشل لا کے بعد 1985 سے اب تک جتنے انتخابات ہوئے ان تمام کو ہارنے والوں نے دھاندلی زدہ قرار دے کر مسترد کیا مگر ہوا کچھ بھی نہیں۔ سیاسی اور حکومتی حلقے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو تسلیم کر رہے ہیں، اگر 1977 جیسی انتخابی دھاندلی ہوتی تو پی ٹی آئی بڑی پارلیمانی طاقت نہ ہوتی اور کے پی میں وہ تنہا حکومت نہیں بنا سکتی تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی اپنے منصوبے کے تحت دھاندلی کا شور مچا رہی ہے اور اس کے الزامات میں دھاندلی کی کوئی حقیقت ہے ہی نہیں اور اس کی تحریک نظام مصطفیٰ تحریک نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات ختم کرانے اور انھیں رہا کرنے کی تحریک ہے۔

دھاندلیوں کے الزامات ماضی سے لگتے آ رہے ہیں مگر کبھی انتخابی نتائج مسترد ہوئے نہ دھاندلی کے الزامات پر کوئی حکومت تبدیل ہوئی، شور مچایا جاتا رہا اور حکومتیں چلتی رہیں اور 2002سے اب تک تمام اسمبلیاں اپنی مدت مکمل کرتی رہیں، البتہ قومی اسمبلی میں اکثریت کے باعث حکومتیں ضرور تبدیل ہوئیں جو تمام آئینی طور پر ہوئیں۔ غیر آئینی تبدیلی کبھی سیاسی طور پر نہیں آئی اور تمام غیر جمہوری حکومتوں کو سیاستدانوں کی حمایت بھی ہمیشہ حاصل رہی ہے مگر اب سیاستدان قومی اتحاد پارٹ ٹو بنانے کی پوزیشن میں نہیں اور ملک میں آئین کا جو حال ہے وہ ایسے ہی رہنا ہے، تبدیلی نظر نہیں آتی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔