’آزادی‘ یا ’ذمہ داری‘۔۔۔ یہ تعلق دو طرفہ ہے!

فواد رضا  منگل 23 اپريل 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

کیا آپ نے نجی ٹی وی چینل کا وہ کلپ دیکھا ہے، جس میں گیم شو میں اسکوٹر جیتنے والی خاتون اسکوٹر پر اپنے شوہر کو اتار کر ٹی وی میزبان کے ساتھ بیٹھ کر ایک چکر کاٹتی ہیں۔

سوچیے کہ کیا ہوتا اگر یہی حرکت اس خاتون کے بہ جائے کسی مرد نے کی ہوتی، اب تک چائے کی پیالی میں طوفان آچکا ہوتا۔ اس مرد کے کردار کی دھجیاں اڑا دی جاتیں، اسے پِدر سری نظام کی تصویر اور نہ جانے کیا کچھ قرار دے دیا جاتا۔

ہم لوگوں کو کیوں کہ یورپی مثالیں اچھی طرح سے سمجھ میں آتی ہیں تو یہ بھی سن لیجیے۔ یورپ میں اگر کسی جوڑے کی زندگی میں ایسا موقع آیا ہوتا تو بات اب تک علاحدگی تک پہنچ چکی ہوتی۔

اور اینکر کے ساتھ کیا ہوتا؟؟ جو حرکت اس اینکر نے اس کے شوہر کے ساتھ کی ہے، وہی کسی لڑکی کے ساتھ کرتا تو طرح طرح کی وضاحتیں دیتا پھر رہا ہوتا۔۔۔ اور پھر۔۔۔

یہی کام اگر یورپ ، امریکا کے کسی ٹی وی شو میں ہوتا تو وہ شو کینسل ہو جاتا اور اینکر کو رد کیا جا چکا ہوتا، کینسل کلچر اسی کو کہتے ہیں ناں۔

ٹی وی میزبان نے بدتمیزی کی وہ تو الگ بات ہے، وہ جتنی بدتمیز کرے گا اس کا شو اتنا کام یاب ہوگا۔ مجھے ہمیشہ سے ان پروگراموں میں آنے والے حاضرین کے لیے دکھ ہوتا ہے کہ عجیب لوگ ہیں، اپنی عزت نفس کا شاید انھیں پتا ہی نہیں ہے۔ شاید پاکستان میں آج کل خواتین نے فیشن بنالیا ہے کہ عوام میں اپنے حضرات کی بے عزتی کرنی ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ جدید عورت کمزور نہیں ہے، کسی سے کم بھی نہیں ہے ، تعلیم یافتہ ہے اور وہ کسی سے دب کر نہیں رہے گی، کیوں کہ پاکستان کی جدید عورت کا یہ نقطۂ نظر مغرب سے درآمد شدہ ہے، تو پھر دونوں جانب مغربی نقطۂ نظر ہی نافذ ہوگا۔

آپ کو آپ کا شوہر پسند نہیں ہے، اسے چھوڑ دیجیے، لیکن اس طرح سر عام بدتمیزی کی اجازت کوئی بھی نہیں دیتا، یہی کلیہ ان مردوں پر بھی عائد ہوتا ہے، جو محفلوں میں اپنی بیویوں پر چیختے ہوئے نظر آرہے ہوتے ہیں۔

آخری اور سب سے اہم بات، چوں کہ اب معاشرہ مغربی نقطۂ نظر سے ہی آگے بڑھنا ہے، تو یاد رکھیے کہ مغربی سماج میں یہ ’فرد‘ جو پاکستان میں آپ کے نان نفقے، موبائل فون، برانڈز اور دیگر تمام سہولتوں کا ذمہ دار ہے، مغرب میں یہ ان میں سے کسی بھی چیز کا ذمہ دار نہیں ہے! یہ سب آپ کو ’تعلقات‘ میں رہتے ہوئے خود ہی کمانا پڑتا ہے۔ ساتھ میں مرد کو مسلسل لبھائے رکھنے کے لیے بے پناہ متحرک بھی ہونا پڑتا ہے۔

اس کے باوجود بھی جہاں اسے کوئی آپ سے زیادہ متناسب اور ذہنی ہم آہنگی والی عورت ملے گی، وہ اس کے ساتھ آگے بڑھ جاتا ہے، اسے آج کل کے جدید بچے ’موو آن‘ کرنا کہتے ہیں، سو، اگر آپ اپنے شوہر کو مغرب کے نقطۂ نظر سے ’چلانے‘ کی کوشش کریں گی، تو کل کو یہ مرد حضرات بھی اسی ’مغربی نظام‘ کے تحت آپ کی ذمہ داری سے مکمل ہاتھ اٹھالیں گے۔

فیصلہ آپ کرلیجیے، کیوں کہ مردوں کو اس سسٹم میں فائدہ ہی فائدہ ہے، صدیوں سے معاشرے نے جن ذمہ داریوں میں مرد کو باندھ کر رکھا ہے، آپ مغرب کی پیروی میں خواتین اسے ’آزاد‘ کرنے جا رہی ہیں، مغربی خواتین کو یہ سسٹم کافی نقصان دے چکا ہے، باقی اب ہمیں سوچنا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔