آدھی دنیا میں انتخابات (آخری حصہ)

زاہدہ حنا  بدھ 24 اپريل 2024
zahedahina@gmail.com

[email protected]

اب کہ جب ملک میں انتخابی عمل تکمیل پا چکا ہے تو ہمارے لیے اس امرکا جائزہ لینا بھی بہت ضروری ہے کہ ملکوں کی ترقی میں جمہوری عمل کا تسلسل کتنا اہم کردار ادا کرتا ہے اور ہم نے ایسا نہ کر کے اپنا کتنا بھاری نقصان کرلیا ہے۔ اس حوالے سے ہم اپنے پڑوسی ملک ہندوستان کے تجزیے سے بات آگے بڑھاتے ہیں۔

1947 میں جب برطانیہ، دوسری جنگ عظیم کے مالی نقصانات سے پریشان ہو کر ہندوستان کو آزاد کرنے پر مجبور ہوا تو اس وقت تک وہ اپنی اس نو آبادی کو مکمل طور پر کنگال کر چکا تھا اور پورے برصغیر میں ہر طرف غربت، بھوک اور بیماری کا راج تھا۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد اس خطے میں دو آزاد اور خود مختار ملک، ہندوستان اور پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے۔ اس وقت ان دو نو آزاد ملکوں کی حالت کم و بیش یکساں تھی۔ دونوں کو فیصلہ کرنا تھا کہ انھیں مستقبل میں ترقی کے سفر کے لیے کس راہ کا انتخاب کرنا چاہیے؟

ہم تذبذب کا شکار رہے اور ہمارے پڑوسی نے یہ فیصلہ کر لیا کہ فوری طور پر ایک متفقہ آئین بنا کر ملک کو وفاقی جمہوریہ بنا دیا جائے اور جمہوری عمل کے آغاز میں کسی پس و پیش سے بالکل کام نہ لیا۔ ہمارے پڑوسی نے یہ دانش مندانہ فیصلہ بھی کیا کہ کسی بھی بڑی عالمی طاقت سے وابستہ ہونے سے بچا جائے۔ اس سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت 26 نومبر 1949 کو آئین تشکیل دے کر اسے 26 جنوری 1950 کو نافذ کردیا گیا۔

بات ذرا تلخ ہے لیکن سچ ہے کہ ہم نے اس کے برعکس فیصلہ کیا۔ آئین سازی کو اولین ترجیح دینے کے بجائے اس کی راہ میں ہر طرح کی رکاوٹیں ڈالی گئیں، دستور ساز اسمبلی کو توڑا گیا اور عدلیہ نے اس تباہ کن اور انتہائی ناجائز اقدام کو جائز قرار دینے کی شرمناک نظیر قائم کردی۔ ان یک طرفہ اور من مانے اقدامات کے باوجود، سیاست دانوں نے آئین سازی کی کوششیں جاری رکھیں۔

مشرقی پاکستان کے رہنماؤں نے خاص طور پر بے مثال ایثار کا مظاہرہ کیا اور اپنی اکثریت سے دستبردار ہوکر پیریٹی یعنی مساوات کے فارمولے کو مان لیا چس کے بعد ہی 1956 میں بالاخر ایک آئین تیار ہو سکا، لیکن اس آئین کے تحت انتخابات کرانے کے بجائے ملک پر مارشل لا مسلط کر دیا گیا۔

ہم ایک مارشل لا کے بعد دوسرا مارشل لا لگا رہے تھے جب کہ سرحد کی دوسری جانب ایک کے بعد دوسرے انتخابات ہو رہے تھے، وہاں صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جا رہی تھی اور یہاں پاکستان کو جنم دینے والی وفاقی اکائیوں کو ختم اور ون یونٹ بنا کر ملک کو مضبوط بنانے کے دعوے کیے جا رہے تھے۔

ہندوستان جہاں سیکڑوں زبانیں، بولیاں اور متضاد کلچر تھے، جنوب کے لوگ ہندی سے نابلد تھے، ان کے عقائد اور مذاہب الگ تھے، علیحدگی کی تحریکیں اپنے عروج پر تھیں وہ جمہوری عمل کے ذریعے آہستہ آہستہ یک جا اور مضبوط ہو رہا تھا اور ہم جنھوں نے متحد ہو کر پاکستان بنایا تھا ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے اور پھر وہ بدنصیب دن بھی آگیا جب ہماری اکثریت نے ہم سے الگ ہونے میں اپنی عافیت جانی۔ ہم لاکھ تاویلات پیش کرتے رہیں لیکن قصور ہمارا اپنا ہی تھا۔

جمہوریت میں، عوامی رائے کا احترام، حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی ضرورت اور مجبوری ہوتی ہے۔ عوام چونکہ سامراجی طاقتوں کے بد ترین ظلم اور جبر کا شکار رہ چکے تھے لہٰذا آزادی کے بعد وہ عالمی سیاست میں ان کا دم چھلہ بننے ہر تیار نہیں تھے، جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کو ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے انھیں ناگزیر طور پر عوام کی رائے کا احترام بھی کرنا پڑتا ہے۔ اسی سبب ہندوستان نے غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی اپنائی لیکن امریکا اور روس دونوں سے اپنا مفاد بھی خوب حاصل کیا۔

دوسری جانب ہم نے خود کو مغرب کی جھولی میں ڈال دیا، جس نے ہمیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے بری طرح استعمال کیا اور اپنے علاقائی و عالمی مفادات پورے ہونے کے بعد اپنا مشفقانہ رویہ تبدیل کر مغرب پر ہمارا انحصار اتنا بڑھ چکا تھا کہ ہم ہمیشہ ان کے دست نگر رہے اور شاید اب بھی ہیں۔ اس کی وجہ سادہ ہے جسے جاننے کی خاطر ہمیں زیادہ دانشورانہ عرق ریزی کی ضرورت نہیں۔ جب جمہوریت نہیں ہوگی تو حکمران اور سیاست دان، ملک اور عوام کے بجائے اپنے مخصوص مفاد کے لیے ہی فیصلے کریں گے، اس میں کسی حیرت یا استعجاب کی بھلا کیا بات ہے؟

اب دیکھتے ہیں کہ وقت پر انتخابات کرانے، آئین سے روگردانی نہ کرنے سے ہمارے ہمسائے کو معیشت کے میدان میں کیا فائدہ ہوا اور ایسا نہ کرنے سے ہمیں کیا نقصانات ہوئے؟ ہم دونوں برطانیہ کے غلام تھے۔ ہندوستان میں جمہوری عمل کے تسلسل سے سیاسی استحکام پیدا ہوا اور وہ خاموشی سے ترقی کرتا ہوا آج دنیا کی 5 ویں بڑی معیشت بن چکا ہے، یہ مقام اس نے برطانیہ سے چھینا ہے جس کا وہ 100 برس براہ راست اور 100 سال بلواسطہ طور پر غلام رہ چکا تھا۔ اس کے برعکس جمہوریت کی نفی کے باعث ہمارا ملک سیاسی عدم استحکام سے آج تک باہر نہیں نکل سکا، جس کے نتیجے میں ہم آج معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔

میری باتیں تلخ ضرور ہیں لیکن آنکھوں اور ذہنوں کو بند کرلینے، اپنی ناکامیوں اور پس ماندگی کی ذمے داری دوسروں پر ڈال دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بہتر ہے کہ حقائق کا سامنا کیا جائے۔ ہماری تمام سیاسی جماعتوں، فیصلہ ساز اداروں، ذہن سازی اور رائے عامہ کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے دانشوروں اور صحافیوں سمیت سب پر لازم ہے کہ 75سال کی ناکامیوں کی اجتماعی ذمے داری قبول کی جائے۔ سیاسی محاذ آرائی ختم کی جائے اور آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے تسلسل پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ دیکھنا ہے کہ کیا ایسا ہو سکے گا؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔