قصوں کے میلے سے کچھ سوغاتیں

محمد علی عمران خان  اتوار 28 اپريل 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

 (آخری حصہ)

 

 مسعود حسین رضوی ادیب اپنی کتاب ’’لکھنویات‘‘ میں معروف خطیب اور عالم علامہ سبط حسن کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ علامہ ایک بے مثال خطیب ہونے کے علاوہ کمال کے سخن فہم اور بذات خود ایک بہترین شاعر بھی تھے۔ شاعری میں فاطرؔ تخلص کرتے تھے۔

ایک محفل میں ان سے پوچھا گیا کہ قبلہ! مرثیہ نگاری کے دو بڑے نام مرزادبیرؔ اور میرانیسؔ ہیں۔ اول الذکر کی ’بلاغت‘ اور آخرالذکر کی ’فصاحت‘ مشہور ہے۔ کسی ایک مختصر مثال سے دونوں کے اس فرق کو نمایاں کیا جا سکتا ہے؟ علامہ صاحب بولے ،کیوں نہیں! دبیر ؔکہتے ہیں:

’’زیرِقدمِ والدہ فردوسِ بریں ہے‘‘

یہ ہے’’ بلاغت۔‘‘ اب اسی بات کو میرانیسؔ اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں:

’’ سنتے ہیں ماں کے قدموں کے نیچے بہشت ہے‘‘

یہ ہے ’’ فصاحت‘‘۔ یعنی بات کو اس قدر سادہ، آسان اور زود فہم انداز میں بیان کیا جائے کہ اس سے زیادہ سہل اندازِبیان ممکن نہ ہو سکے۔

کتاب ’’فراق گورکھپوری، یادوں کے جھروکوں میں‘‘ میں مطرب نظامی لکھتے ہیں کہ میں نے ایک روز فراق صاحب سے سوال کیا کہ فنون لطیفہ میں شاعری کو کس حد تک برتری حاصل ہے؟ فراق صاحب بولے، فنون لطیفہ میں تمام تر فنون اکتسابی ہیں مثلاً آپ سنگیت سے واقف نہیں لیکن آپ سیکھنا چاہیں تو ضرور کچھ نہ کچھ آ جائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ ماہرِفن نہ ہوں، مگر واقف ضرور ہوجائیں گے، لیکن شاعری کے لیے نہ تو کوئی استاد ہے اور نہ ہی کوئی کتاب ہے جسے پڑھ کر آپ شاعر بن جائیں یا پھر موزوں طبع ہوجائیں۔ داغ ؔ نے شاعری کے اسی اختصاص کی اپنے اس شعر میں نمایاں کیا ہے:

؎یوں مصور یار کی تصویر کھینچ

کچھ ادا کچھ ناز کچھ تقریر کھینچ

یعنی مصور خواہ کیسا ہی اپنے فن کا مشاق کیوں نہ ہو، وہ ایک تصویر میں بیک وقت یہ تینوں کیفیات پیش نہیں کر سکتا، اور شاعر تین مصرعوں یا اشعار میں لفظوں کی زبانی یہ کیفیات بیان کر سکتا ہے۔

احمد حسین صدیقی اپنی کتاب ’’دبستانوں کا دبستان کراچی‘‘ کی جلد دوم میں لکھتے ہیں کہ ریاض خیرآبادی کے چھوٹے بھائی نیازخیرآبادی کے نواسے اور معروف ادیب، صحافی اور ناول نگار رئیس احمد جعفری کے کے بڑے بھائی عقیل احمد جعفری بھی شاعر تھے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں آبسے۔ مذہبی روایات کے سخت پابند تھے۔ انہوں نے جوش صاحب کے ملحدانہ خیالات پر مبنی قطعات کا جواب ’’جوش و ہوش‘‘ کے عنوان سے قطعات کی صورت میں قلم بند کیا۔ بطور نمونہ جوش صاحب کا ایک قطعہ اور اس کا جواب پیش خدمت ہے:

جوش

معبود جو حیات تھی مرتے گزری

ہر آن کے دغدغوں سے ڈرتے گزری

اس عمر کا حساب بھی ہو گا سرِحشر!!!

جو عمر ہائے ہائے کرتے گزری

عقیل جعفری

جب حشر کی تردید ہی کرتے گزری

تو کس لیے عمر آپ کی ڈرتے گزری

کیجیے اس کا بھی جہنم میں شمار!

جو عمر کہ ہائے ہائے کرتے گزری

جلیل قدوائی اپنی خودنوشت ’’حیات مستعار‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ شعروسخن کی ایک محفل میں میں نے صاحبان ذوق کی ضیافت طبع کے لیے غالب کے شاگرد منشی محمد ولایت علی عزیز صفی پوری کا درج ذیل شعر پڑھا:

؎سنیں فریادِعاشق کس طرح وہ نازنیں ہوکر

بہت نازک ہیں کرتے ہیں کلام آہستہ آہستہ

دادوتحسین کا شور تھما تو ایک صاحب معترضانہ انداز میں فرمانے لگے، شعر میں تو معشوق کی آہستہ کلامی کا ذکر ہے جس کا تعلق زبان و لہجہ سے ہے، جب کہ عاشق کی فریاد کا واسطہ تو سماعت سے ہے، یہاں لہجے کی نزاکت کس طرح مانع ہوسکتی ہے؟ جس پر میں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جس مجسم نزاکت کے کان خود اپنی آواز کی بلندی کا بار برداشت نہ کر سکتے ہوں، اس کے لیے عاشق کی دل دوز فریاد سننا کس قدر روح فرسا اور بوجھل ہوسکتا ہے۔

رفعت سروش اپنی کتاب ’’حرف حرف بمبئی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مجروح سلطان پوری نے جن دنوں انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستگی اختیار کی ان کا اندازِشاعری بھی بدل گیا اور وہ اس طرح کے انقلابی اشعار کہنے لگے:

؎امن کا جھنڈا اس دھرتی پہ کس نے کہا لہرانے نہ پائے

ہے یہ کوئی ہٹلر کا چیلا، مار لے ساتھی جانے نہ پائے

ایک مشاعرے میں یہی غزل پڑھنے پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوگئے، جس کے سبب ان کو گرفتاری سے بچنے کے لیے سات آٹھ ماہ تک روپوش رہنا پڑا۔ پولیس نے ان کی تلاش کے لیے جگہ جگہ چھاپے مارے مگر وہ ہاتھ نہ آئے۔ ایک طویل عرصے کے بعد جب مجروح نے سمجھا کہ اب بات پرانی ہوگئی ہے اور حالات معتدل ہوگئے ہیں تو مستان تالاب کے ایک مشاعرے میں منظرعام پر آئے۔ اپنی باری آنے پر انہوں نے اپنی مشہورغزل کے مطلع کا پہلا مصرع پڑھا:

؎مجھے سہل ہوگئیں منزلیں کہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

ابھی یہ مصرع اولی پڑھ ہی پائے تھے کہ قریب اسٹیج پر پہلے سے موجود سادہ کپڑوں میں ملبوس سخن فہم سی آئی ڈی انسپکٹر شیخ نے مجروح کا ہاتھ پکڑ کر ہتھکڑی لگاتے ہوئے مطلع کا مصرع ثانی پڑھا:

؎تیرا ہاتھ ہاتھ میں آگیا کہ چراغ راہ میں جل گئے

میرزا ادیب کے تحریر کردہ خاکوں کے مجموعے ’’ناخن کا قرض‘‘ میں درج ہے کہ دیوندر ستیارتھی اور راجندر سنگھ بیدی کی آپس میںگہری دوستی تھی۔ ستیارتھی بیشتر وقت بیدی کے ساتھ گزارتے، جہاں زیرِگفتگو دیگر موضوعات کے علاوہ ستیارتھی اپنے تحریر شدہ تازہ افسانے بھی بیدی کو سناتے۔ ستیارتھی اپنے افسانے سنانے کے مرض میں خطرناک حد تک مبتلا تھے۔ جب لہر میں آتے تو مخاطب کی قوت سماعت و برداشت کو نظر انداز کرتے ہوئے کئی افسانے سنا ڈالتے۔

ان کی اس عادت کے پس منظر میں منٹو نے ایک افسانہ لکھا، جس کا پلاٹ کچھ یوں تھا کہ ایک صاحب کے ہاں ان کا مہمان آتا ہے جو سنانے کے لیے اپنے ساتھ بہت سے افسانے بھی لاتا ہے۔ شروع شروع مین تو میزبان آداب میزبانی کے ہاتھوں مجبور ہوکر بڑے انہماک اور دل چسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو تین افسانے سن لیتا ہے، مگر جب مہمان کی افسانہ گوئی کا سلسلہ طوالت اختیار کرنے لگتا ہے تو وہ سخت پریشان ہوجاتا ہے۔ میزبان کی پریشانی کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی نو بیاہتا خوبصورت بیوی سے بھی گفتگو نہیں کر سکتا۔ میاں بیوی کو تنہائی کے لمحے نصیب نہیں ہوتے۔

مہمان سائے کی طرح میزبان کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ افسانے کی اختتام سے قبل منٹو نے ایک بڑا بلیغ اور معنی خیز فقرہ لکھا جو کچھ یوں تھا،’’میزبان کو جب ایک لمحے کے لیے اپنی بیوی سے ملنے کا موقع ملتا ہے تو وہ جلدی سے اس کے ہونٹ یوں چومتا ہے جیسے خط کے ٹکٹ پر مہر لگا رہا ہو۔‘‘ اس فقرے سے حقیقی طور پر لطف اند وز ہونے کے لیے جاننا ضروری ہے کہ راجند سنگھ بیدی لاہور کے جنرل پوسٹ آفس میں ایک ایسے کلرک کے طور پر کام کرتے تھے جس کا کام خطوط کے لفافوں پر مہریں ثبت کرنا تھا۔

پروفیسر ذوالفقار خان اپنی ادبی یادداشتوں پر مبنی اپنے ایک مضمون ’’کچھ یاد رہا، کچھ بھول گئے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شعر و سخن کی ایک پُرلطف محفل میں جہاں اپنے تئیں ادبی فہم سے معمور افراد شریک تھے، میں نے لکھنؤ کے ایک گم نام استاد کا درج ذیل شعر پڑھا:

؎ تصویرِ یار بہرِ نکیرین پاس ہے

رکھ دینا میری قبر میں شیشہ گلاب کا

اور صاحبان ذوق سے اس شعر کی تشریح کا مطالبہ کیا۔ جب کافی غوروخوض کے بعد بھی سب بظاہر دو مختلف بے جوڑ خیالات کے حامل اس شعر کے معنی و مفہوم کی وضاحت سے قاصر نظر آئے تو میں نے شعر کے پس منظر میں شاعر کی استادانہ مہارت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ شعر کی معنوی گہرائی اس کے دونوں مصرعوں میں گہرا ربط پیدا کرتی ہے۔

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بعد از مرگ قبر میں نکیرین کے سوالات سے بچنے کے لیے میں نے اپنے ساتھ اپنے محبوب کی تصویر رکھ چھوڑی ہے کہ جیسے ہی نکیرین آئیں گے ان کو میں اپنے محبوب کی تصویر دکھاؤں گا، جس کی بے مثال خوب صورتی اور باکمال حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ بے ہوش ہوجائیں گے۔ ان کو دوبارہ ہوش میں میں لانے کے لیے میرے ساتھ قبر میں عرقِ گلاب کی بوتل بھی رکھ دینا تاکہ میں ان پر چھڑک کے ان کو ہوش میں لے آؤں۔

خاکوں پر مشتمل کتاب ’’چند اکابر، چند معاصر‘‘ میں جلیل قدوائی لکھتے ہیں کہ جن دنوں میں سرکاری ادبی جریدے ماہ نو کا مدیر تھا، معروف شاعر ماہرالقادری کی ایک غزل اشاعت کے لیے موصول ہوئی۔ غزل کا مطلع درج ذیل تھا:

؎تیرے ہاتھوں جو میرے دل پہ سماں گزرا ہے

سانحہ ایسا زمانے مین کہاں گزرا ہے؟

مطلع کے مصر اولی میں ’’سماں گزرا ہے‘‘ کی اصطلاح مجھے کچھ عجیب لگی۔ لہٰذا میں نے غزل بغیر مطلع کے شائع کردی، کیوںکہ اپنے تئیں میرا خیال تھا کہ ’’سماں دیکھا جاتا ہے، گزرتا نہیں ہے۔ سند میں عزیز لکھنوی کا شعر یاد آیا:

؎ان کو سوتے ہوئے دیکھا تھا دمِ صبح کبھی!

کیا بتاؤں جو ان آنکھوں نے سماں دیکھا ہے

غزل شائع ہونے کے چند روز بعد نواب محسن الملک کی یاد میں لکھا گیا حالی کا مرثیہ نظروں سے گزرا جس کے ایک شعر نے مجھے چونکا دیا:

؎جس وقت کا دھڑکا تھا وہ وقت آگیا آخر

یاروں پہ مصیبت کا سماں چھا گیا آخر

شعر پڑھ کر باور ہوا کہ سماں کا لفظ شاعری میں کیفیت ذہنی و قلبی کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔ مزید تسلی کے لیے لغت سے مدد لی تو سماں کے معنوں میں ’’حالت، کیفیت، عالم‘‘ کے الفاظ سامنے آئے، اور ساتھ ہی اپنا لکھا ہوا ایک شعر بھی یاد آگیا:

؎جانے کی میں نے ان کو اجازت تو دی ضرور

پر کیا بتاؤں دل پہ جو عالم گزر گیا!

اور سوچا کہ اگر دل پر عالم گزر سکتا ہے تو سماں کیوں نہیں گزر سکتا؟ اور یوں ماہرالقادری کی غزل کے مطلع کے سلسلے میں عجلت میں کیے جانے والے اپنے غیرذمہ دارانہ تنقیدی رویے اور کم علمی پر شرمندگی کا احساس ہونے لگا۔

فیض احمد فیض کی شاعری کے پس پردہ محرکات کا احوال بیان کرتی آغا ناصر کی کتاب ’’ہم جیتے جی مصروف رہے‘‘ میں تحریر ہے کہ فیض صاحب کے ساتھ قید نبھانے والے سجادظہیر بیان کرتے ہیں کہ جیل میں ایک دن ہم نے اخبار میں خبر پڑھی کہ انار کلی بازار میں ایک خوب صورت لڑکی شانوں پر اپنے بال بکھیرے جا رہی تھی کہ کسی دکان پر موجود ایک مولوی کو یہ منظر نہ بھایا اور انہیں اس بے ردگی میں اسلام کی توہین نظر آئی۔ چناںچہ وہ ہاتھوں میں قینچی لیے ہوئے اٹھا اور لپک کر اس لڑکی کی زلفیں کاٹ دیں۔ فیض صاحب کے مزاج پر یہ خبر گراں گزری اور اس واقعے سے متاثر ہوکر انہوں نے درج ذیل شعر لکھا:

؎دلبری ٹھہرا، زبانِ خلق کھلوانے کا نام!

اب نہیں لیتے پری رُو زلف بکھرانے کا نام

جگن ناتھ آزاد اپنی خودنوشت ’’میرے گزشتہ شب و روز میں‘‘ بیان کرتے ہیں کہ شاعرِمزدور ا حسان دانش نے اپنی مقبولیت کے عروج کے دنوں میں لاہور کے حلقہ ارباب ذوق کے مقابل اپنے ہم خیال شعراء و ادباء اور اپنے مداحین پر مشتمل الگ سے ایک ’’حلقۂ ارباب علم‘‘ قائم کیا۔ شروعات کے چند ماہ کی علمی و ادبی خدمات کے بعد نئے قائم ہونے والے حلقے کے ارباب کی، ارباب ذوق سے قلمی چھیڑچھاڑ شروع ہوگئی جو لفظی گولہ باری سے ہوتی ہوئی ذاتی مخاصمت پر آٹھہری۔ اس صورت حال پر معروف ادیب عبدالمجید سالک سے اپنے کالم میں طنز کرتے ہوئے لکھا کہ لاہور میں اس وقت دو نمایاں ادبی حلقے ہیں۔ ایک ’حلقہ ارباب ذوق‘ ہے جس میں علم کی کمی ہے اور دوسرا ’حلقہ ارباب علم‘ ہے جس میں ذوق کی کمی ہے۔

قیصر عثمانی اپنی آپ بیتی ’’یادوں کا سفر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ایک ملاقات میں میں نے معروف استاد شاعر اور با کمال گیت نگارآٓرزو لکھنوی سے پوچھا کہ حضور! کچھ فکرمند ہیں، خیریت؟ بولے کہ میں فلم سازوہدایت کار محبوب کی زیر تکمیل فلم ’’ہمایوں‘‘ کے گیتوں کا ایک گراں قدر معاہدہ ختم کر کے آ رہا ہوں۔

میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، وہ میرے گیت کے ایک مصرع میں محض اپنی دھن کی سہولت کی خاطر ایک بے معنی لفظ کا اضافہ کرنے پر مجھے مجبور کر رہے تھے۔ میں یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا؟ وہ اپنے فن کے ماہر ضرور ہوں گے، لیکن زبان کے معاملے میں ان دخل اندازی مجھ سے برداشت نہیں ہوسکی۔ یہ تھی اساتذہ کی زبان سے محبت اور قدردانی کہ انہوں نے کسی بھی مصلحت اور مفاد کا خیال کیے بغیر اپنے مالیاتی امور کو زبان و ادب کی سلامتی پر قربان کر دیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔