انٹرویو

شیریں حیدر  اتوار 5 مئ 2024
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

”السلام وعلیکم“۔ ”وعلیکم السلام“ پتھر مار جواب آیا۔ ”نام کیا ہے تمہارا؟“ ملازمت کے لیے آئی گئی امیدوار سے سوال کیا گیا۔ ”میرا نام نصیبو ہے…… تمہارا کیا نام ہے؟“۔ ”تم کیا مجھے نام سے بلاؤ گی؟“ حیرت سے پوچھا گیا۔ ”نہیں، مگر پتا تو ہونا چاہیے کہ جس کے گھر پر کام کرتی ہوں ان کا نام کیا ہے؟“۔ ”اس کی ضرورت نہیں ہے، کوئی پوچھے تو کیا تم میرا نام بتاؤ گی؟“۔ ”اچھا چلو بتاؤ کہ میں تمہارے کو باجی جی بولوں یا میڈم جی؟‘‘ کان میں انگلی پھیرتے ہوئے سوال کیا گیا۔ ”دیکھتے ہیں۔“ اس کا فیصلہ تو اس بات پر تھا کہ اسے اس ملازمت کے لیے رکھا بھی جانا تھا کہ نہیں۔ منہ کھول کھول کر بات کرتی ہوئی، جانے کس دیہاتی اور اجڈ پس منظر سے تعلق تھا۔”نصیبو، بچے کتنے ہیں تمہارے اور شوہر کیا کرتا ہے؟“ میرا شوہر تو میڈم جی مزدوری کرتا ہے…… تمہارا شوہر کیا کرتا ہے؟“

”وہ کسی محکمے میں ملازمت کرتے ہیں۔“ سٹپٹا کر جواب دیا گیا، ”تمہارے بچے کتنے ہیں اور کیا کیا کرتے ہیں؟“

”میرے تو جی، چھ بچے ہیں۔ روٹی کھاتے ہیں، سوتے ہیں، میں کام پر نکلتی ہوں اور ان کا ابا دیہاڑی پر تو وہ گلیوں میں اچھلتے کودتے اور گالی گلوچ کرتے پھرتے ہیں۔“ جواب دیا گیا، ”تمہارے کتنے بچے ہیں میڈم جی اور کیا کیا کرتے ہیں؟“

”میرے دوہی بچے ہیں، پڑھتے ہیں۔“ مختصراً جواب دیا گیا۔ ”کچھ لکھی پڑھی ہو؟“۔ ”ارے اپنی ایسی قسمت کہاں، تم بتاؤ آپ لکھی پڑھی ہو، کتنی جماعتیں پڑھی ہو؟“۔ ”میں نے……“ کچھ کہنے سے پہلے رک کر سوچا گیا، ”ساری جماعتیں پڑھی ہیں۔“ اب جس شخص نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہو وہ اس فہم کی عورت کو کیا سمجھائے۔ ”تم نے خود تعلیم نہ حاصل کرنے کو اپنی بد قسمتی کہا ہے اور پھر اپنے بچوں کو بھی نہیں پڑھایا؟“

”غریب کا بال ہی اس کی کل دولت ہے، اس کے پاس اتنی دولت کہاں کہ وہ بچوں کو پڑھا سکے۔“ حسرت سے کہا گیا۔

”سرکاری اسکولوں میں تو کوئی فیس نہیں ہوتی نصیبو۔“ دل میں سوچا تھا کہ کسی درمیانے سے نجی اسکول میں اس کے دو ایک بچوں کو تو تعلیم دلوانے کا ذمے لیا جا سکتا ہے۔

”سرکاری اسکولوں میں فیس نہیں ہوتی تو نہیں ہوتی ہو گی مگر…… وہاں وردی تو ہوتی ہے، کتابیں تو لینا ہوتی ہیں، جوتے اور بستے بھی چاہیے ہوتے ہیں اور بچوں کو اسکول کی تفریح کے گھنٹے میں کچھ کھانے کو بھی چاہیے ہوتا ہے۔“

”کیا کیا کام کرلیتی ہو نصیبو؟“ دل ہی دل میں اس کی معلومات کو سراہتے ہوئے اگلا سوال کیا گیا۔

”تم بتاؤ، کیا کیا کرنا ہے؟“ سوال کے جواب میں سوال کیا گیا۔

”صفائی کاکام ہے، برتن ہیں، کپڑے دھونا، استری کرنا، کسی وقت آٹا گوندھ دیا یا روٹی ڈال دی۔“ کام کی تفصیل بتائی گئی۔ وہ مسلسل دل ہی دل میں حساب لگا رہی تھی۔

”یہ تو کل بن جاتے ہیں پچیس ہزار روپے میڈم جی۔“

”کس چیزکے پچیس ہزار؟“ صرف چیخنے کی کسر رہ گئی تھی۔

”جی ایک کام کا ریٹ پانچ ہزار روپے ہے، تم نے پانچ کام بتائے ہیں تو پانچ بار پانچ ملا کر پچیس ہزار روپے بن جاتے ہیں۔“

”کون سے پانچ کام؟“ اسکول کی شکل تک نہ دیکھی ہو اور حساب کتاب کا عالم دیکھیں، حیرت میں ڈوب کر سوال کیا گیا۔

”کپڑے دھونا، استری کرنا، برتن دھونا، صفائی کرنا، آٹا گوندھنا، روٹی بنانا…… اگر ڈسٹنگ کروانی ہے تو پانچ ہزار اور ہو جائے گا۔“ وضاحت سے سارا حساب کتاب بتایا گیا، ”اگر تم سالن بھی بنوا لو تو میں سالن بنانے، آٹا گوندھنے اورروٹی بنانے کا ملا جلاکر دس ہزار لے لوں گی یعنی تین کاموں کے پیسے دو کے برابر۔“ حاتم طائی نے بھی کیا سخاوت کی ہوگی۔

”یہ تو بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے۔“

”یہی ریٹ چل رہا ہے آج کل میڈم جی۔“ صاف جواب دے دیا گیا۔ جواب میں طویل خاموشی کا وقفہ آگیا، کن اکھیوں سے وہ انٹرویو کرنے والی کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھی، وہ بھی گھاک تھی، گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے۔ ”دیکھ لیں، کیا کیا کروانا ہے، پھر اس لحاظ سے میں کچھ رعایت کر دوں گی۔“

”تمہارا ریٹ ہی بہت زیادہ ہے نصیبو، تم دو دن کے بعد ایک دفعہ آٹاگوندھنے کو اور چار روٹیاں بنانے کو بھی پورا پورا کام کہہ رہی ہو۔ میں سوچ کر بتاؤں گی، مجھے تو اس طرح کام کروانے کی عادت نہیں ہے۔“

”کس سوچ میں پڑ گئی ہو تم میڈم جی۔“

”چلو میں تمہاری سہیلی کو بتادوں گی۔“ اس سہیلی کے بارے میں کہا گیا جو کہ اس کو ساتھ لے کر آئی تھی۔

”باجی آپ مجھے یہ بھی بتا دو کہ برتن دھونے اور کپڑے دھونے کی مشینیں ہیں کہ ہاتھ سے کپڑے دھونے ہیں؟“

”کپڑے دھونے کی مشین ہے، برتن دھونے کی نہیں ہے…… مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟“

”مشین کا کام پانچ ہزار میں ہوتا ہے اور ہاتھ کا اس سے زیادہ میں۔“ جواب ملا، ”قالین اور فرشوں کی صفائی کے لیے مشین ہے یا……“

”قالینوں والی مشین ہے مگر قالین تو صرف دو کمروں میں ہیں۔“ جواب دیا گیا۔

”پھر تو صفائی کا ریٹ بھی ……“

”تم جاؤ نصیبو، کہہ رہی ہوں نا کہ تمہاری سہیلی کو بتا دوں گی۔“ چڑ کر کہا گیا۔

”یہ تو پوچھنا ہی بھول گئی تم سے کہ تمہارے گھر میں دو ہی لوگ رہتے ہیں نا؟“ رک کر کہا گیا، ”میری سہیلی نے مجھے بتایا تھا“۔ ”اگر دو سے زیادہ لوگ ہوں گے تو پھر ہر کا م کا ریٹ زیادہ ہو گا؟“۔ ”ظاہر ہے کہ پھر تو……“ دانت نکوس کر اس نے کہا۔

”بس اب تم جاؤ…… کہہ دیا نا کہ بتاؤں گی۔“

”جلدی بتا دینا میڈم جی، میرے پاس اور بھی گھر ہیں جہاں سے میں انٹرویو دے کر اور لے کر آئی ہوں۔“ جاتے جاتے اس نے کہا، ”آپ کے آسرے پر ایسا نہ ہو کہ میں باقی اچھی ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں۔“

انٹرویو تمام ہوا مگر نہ سننے والوں کو علم ہوا اور نہ پڑھنے والوں کو ہو گا کہ کس نے کس کا انٹرویو کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔