ریاست کا دہشت گردی کے خلاف عزم صمیم

ایڈیٹوریل  بدھ 15 مئ 2024

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ مادر وطن کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بڑھ کرکوئی قربانی نہیں، قوم کی آزادی اور سلامتی ان بہادر جنگجوں کی قربانیوں کی مرہون منت ہے، وہ جی ایچ کیو میں افسروں اور جوانوں کو فوجی اعزازت دینے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

بلاشبہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک میں دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لیے ماضی قریب میں جو آپریشن کیے اور ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت جو اقدامات اٹھائے ان کے نتیجے میں ملک میں بہت حد تک دہشت گردی کی کارروائیاں رک گئی تھیں، ملک میں امن و امان قائم ہوگیا تھا اور اہلِ پاکستان نے سکھ کا سانس لیا تھا، لیکن افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد اب پھر دہشت گردی نے پر پرزے نکالنا شروع کر دیے ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کے واقعات میںاضافہ اس وقت ہونا شروع ہوا ہے جب افغانستان کی طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کو چھوٹ دینا شروع کی۔ حالانکہ طالبان حکومت کے کہنے پر پاکستان ٹی ٹی پی کے لوگوں کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہوا، لیکن ٹی ٹی پی کے لوگوں نے ایسی شرائط رکھیں جو پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں تھیں، چنانچہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔

اصل بات یہ ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دہشت گردی کا منبع (source) ختم کیا جائے؟ یہ تبھی ممکن ہے جب شدت پسندی کے بیانیے کو شکست دی جائے گی کیونکہ یہ بیانیہ معاشرے میں دہشت گردوں کے ہمدرد پیدا کرتا ہے، ہمدرد سہولت کاروں کو جنم دیتے ہیں اور سہولت کار دہشت گردوں کی معاونت کرتے ہیں۔

یہ چین توڑنا بہت اہم ہے۔ ہم اس چین کے آخری سرے کو تو ہتھوڑے مار رہے ہیں جب کہ اس کا سر کچلنے پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ میں شدت پسندوں کے بیانیے کو شکست دینا ضروری ہے تو آخر اس بات کا مطلب کیا ہے؟ دہشت گردوں کا بیانیہ کیا ہے؟ یہ معاشرے میں کیسے پھیلا؟ اس کا دہشت گردی سے براہ راست کیا تعلق ہے؟ اس کو رد کرنے کے لیے ریاست نے کیا اقدامات کیے؟

کسی بھی بیانیے کے تین حصے ہوتے ہیں، پیغام، پیام بر اور پیغام رسانی کا ذریعہ۔ پیغام سیاسی بھی ہو سکتا ہے، سماجی بھی اور تاریخی اور مذہبی نوعیت کا بھی۔ پیغام پہنچانے والے کا معتبر ہونا لازم ہے، اس کا کہا ہوا سند ہو، لوگ اس پر یقین کریں، وہ بااثر ہو اور پیغام پہنچانے کا اختیار رکھتا ہو۔

پیغام رسانی کے تمام ممکنہ طریقوں کے ذریعے پیغام کی رسائی ہر خاص و عام تک ممکن ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے اخبارات، جرائد، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے علاوہ عوامی اجتماعات پر عام میل جول اور تقاریر کے ذریعے پیغام پھیلانے کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ انتہا پسند گروہ یہ تینوں کام کرتے ہیں۔ مثلاً انتہا پسندی کا پیغام یہ ہے کہ جمہوریت کفر یہ نظام ہے، آئین اور قانون وہ ہونا چاہیے جو وہ تیار کرکے دیں۔

اس پیغام کی سند کے طور پر بے شمار تاریخی اور مذہبی حوالے بھی ڈھونڈ نکالے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو کہ یہ بیانیہ مستند ہے، اور اس کے بعد ان لوگوں کا کام شروع ہوتا ہے جو اس کی ترویج کرتے ہیں جیسے کہ قلم کار، تجزیہ کار،شاعر، مصنفین وغیرہ، پھر سوشل میڈیا ٹولز پر پراپگینڈا گروپس بنانا ، عوامی اجتماعات میں شعلہ بیان تقاریر کرنا، درسگاہوں میں اس نظریے سے ہم آہنگی پیدا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ریاست کے سسٹم میں داخل ہوکر حکومت کی پالیسوں پر اثر انداز ہونا، پارلیمنٹ میں اپنے نظریات کے فروغ کے لیے قانون سازی کرانا، مخالفین کو دبانے کے قوانین بنوانا شامل ہیں۔

اس بیانیے کو بڑی ذہانت کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے تاکہ کسی کو احساس نہ ہو کہ وہ سیاسی اور مالی مقاصد رکھتے ہیں۔ لوگوں کو باور کرانا کہ وہ بے غرض لوگ ہیں۔ اگر وہ اقتدار میں آئے تو غربت، ناانصافی اور لاقانونیت کا خاتمہ ہوجائے گا اور یہی ہمارے اصل مسائل ہیں جب کہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں کیونکہ تصورات اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔

انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کے پاس ملک چلانے صلاحیت نہیں ہوتی۔ دوسری طرف ریاست کا سرے سے کوئی بیانیہ نظر ہی نہیں آتا اور نہ ہی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی قیادت کا کوئی بیانیہ نظر آتا ہے ، اس کی وجوہات بالکل سامنے کی ہیں۔ ہم نے ریاست کے آئین کو بیانیے کے طور پرکافی سمجھ لیا ہے۔

اصولاً یہ بات درست ہے مگر جب ریاست کے وجود کے خلاف کچھ جنگجو ہتھیار اٹھا کر برسر پیکار ہوں تو پھر محض آئین کو ریاست کا بیانیہ کہہ دینے سے کام نہیں چلتا کیونکہ یہ جنگجو گروہ اور ان کے ہمدرد آئین کے خلاف تاویلیں گھڑ کے لاتے ہیں اور اس کی بنیاد کو ہی چیلنج کرتے ہیں، ایسی صورتحال میں ریاست کو اپنا پیغام واضح انداز میں پہنچانے کی ضرورت پیش آتی ہے مگر ہمارے لیڈران میں وہ جرات ہے نہ وژن جو اس بیانیے کو بڑھاوا دے سکیں۔

پاکستان کی سیاست پر دائیں بازو پر قبضہ ہے، روش خیال اور بائیں بازو کی سیاست کرنے والی جماعتوں کو ختم کردیا گیا، پاکستان میں نظام تعلیم بھی ایسا بنایا گیا ہے، جو روشن خیالی اور لبرل ازم کو بے راہ روی قرار دیتا ہے۔ ایسے میں ریاست اور حکومت کیا بیانیہ تشکیل دے گی، اس کا اندازہ کوئی بھی لگا سکتا ہے۔

ہمارے سیکیورٹی اداروں کے افسراور جوان دہشت گردوں کے خلاف دوبدو لڑ رہے ہیں، ان کے ذہنوں میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے، وہ اپنی جان پر کھیل کر ملک اورہماری حفاظت کر رہے ہیں ،انھیں بخوبی اندازہ ہے کہ دہشت گرد کس طرح شدت پسندی کے بیانیے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سیاسی جماعتوںکی قیادت خود کنفیوز ہے، کسی حکومت نے نصاب تعلیم کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی،پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر سن کر اور دیکھ کر پارلیمنٹیرنز کی ذہانت اور علم کا بخوبی پتہ چل جاتا ہے۔پارلیمنٹ میں سطحی اور عامیانہ گفتگو کرنا عام ہے ۔

ہر رکن اسمبلی اپنے لیڈر کی تعریف کرے گا، اپنے استحقاق کے مجروح ہونے پر واویلا کرے گا، اپنے مخالفین کو کرپٹ قرار دے گا،مجال ہے کسی نے کبھی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تقریر کی ہو، کوئی تجویز دی ہویا انتہاپسند بیانئے کو رد کیا ہو، آئین کو درست کرنے کی بات کی ہو۔

کسی یونیورسٹی یا کالج کی انتظامیہ کو توفیق نہیں ہوئی کہ انتہاپسند بیانیے کو رد کرنے اور متبادل بیانئے پرکوئی مکالمہ ہی منعقد کرائے، ریاست نے اس ضمن میں کتنے مباحثے کروائے کچھ پتہ نہیں، البتہ چند غیر سرکاری تنظیمیں اپنے طور پر یہ کام کرتی رہتی ہیں اور سرکار اپنے آپ کو ان سے یوں دور رکھتی ہے جیسے ان کے قریب جانے سے چھوت کی بیماری لگ جائے گی۔ امریکی جنرل میک آرتھر نے کہا تھا ’’تاریخ میں جنگ کی ناکامی دو الفاظ میں بیان کی جاسکتی ہے۔ …Too late‘‘ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ریاست کو اپنا بیانیہ تشکیل دے دیناچاہیے۔

افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی نے ٹی ٹی پی کو ایک نئی زندگی دے دی۔ ٹی ٹی پی نے طالبان کی فتح کو اپنی فتح کے طور پر منایا۔ ہمارے اندر سے اس تنظیم کو پاکستان میں اپنے نیٹ ورک کو بحال کرنے اور پھیلانے کے لیے مدد ملی ہے، اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ماضی میں ٹی ٹی پی اور دیگر مقامی عسکریت پسند دھڑوں کے ساتھ کیے گئے تمام امن معاہدے ناکام رہے ہیں۔

پاکستان نے اپنے انسداد دہشت گردی کے فوائد ضایع ہو جانے کا احساس کیے بغیر تشدد کی عدم موجودگی کو امن کی بحالی کے ساتھ تعبیر کیا۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ پاکستان کی 2,640 کلو میٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کو امریکی انخلا اور طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان سے عدم تحفظ اور تشدد کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا گیا۔

تاہم جوں جوں وقت گزرتا گیا یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے سے ٹی ٹی پی کے سرحد پار حملوں اور افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کو نہیں روکا جا سکا۔ شورش اور دہشت گردی کے تناظر میں، مختلف گروپوں کے مابین انضمام اور اتحاد دہشت گرد تنظیموں کی ہلاکت خیزی اور لمبی عمر کے کلیدی اجزا ہیں۔ ایک عسکریت پسند گروپ جتنا زیادہ متحد ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ مہلک ہوتا جاتا ہے۔

ہمارے اداروں کو سب سے پہلے تو ان درندوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا ہو گا، کیوں کہ سہولت کاری اور اندرونی مدد کے بغیر کسی ریاست کو ناکام نہیں کیا جاسکتا،انتہاپسندوں کے ہمدرد اور بینفشریز جب سسٹم میں داخل ہوجائیں تو دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

ایسے میں ٹیبلٹس اور سیرپ کام نہیں کرتے، سرجری ہی کرنی پڑتی ہے لیکن یہ بہت دل گردے کا کام ہے۔ مریض سرجری پر تیار نہ ہو تو کام انتہائی کٹھن ہوجاتا ہے۔ دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں روک کر ان کا قلع قمع کرنا ملکی سالمیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔