فلسطین ،پرانے زخم تازہ ہوگئے

ایڈیٹوریل  جمعرات 16 مئ 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

فلسطینیوں نے چودہ مئی کو ’’ یوم نکبہ‘‘ کے طور پر منایا، 1948 میں اس دن یہودیوں نے اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا تھا، نکبہ کا مطلب تباہی اور آفت ہے۔ فلسطینیوں کے لیے یہ 77واں یوم نکبہ تھا۔ یوم نکبہ پر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کارروائیوں میں مزید 82 فلسطینیوں کو شہید اور 234 کو زخمی کردیا۔

فلسطینی عوام اس دن کو 1947میں 7 لاکھ 50ہزار فلسطینیوں کو ان کے وطن اور گھروں سے قوت کے استعمال سے جلاوطن کرنے اور ان کی تباہ حال زمینوں، جائیدادوں اور دیگر ملکیتی عمارتوں پر اسرائیل بنانے کے موقع کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن کو منانے کے لیے 15 مئی کا دن مقرر کیا گیا۔ یہ وہ تاریخ ہے جس پر اسرائیل نے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا جب کہ برطانیہ سمیت مغربی قوتیں اسرائیل کی پشت پر کھڑی رہیں۔

غزہ پر جاری آتش و آہن کی بارش اور فلسطینیوں کی اپنے گھروں سے بیدخلی کے خطرات دیکھتے ہوئے اس دن کی آمد پر پرانے زخم ایک مرتبہ پھر تازہ ہو گئے ہیں۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں۔77 سال بعد آج بھی فلسطینیوں کو جبری بیدخلی کا سامنا ہے اور یہاں پر عالمی طاقتیں اور ان کی پروردہ اسرائیلی عدالتیں اسے قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے خم ٹھونک کر سامنے کھڑی ہیں۔یہودی آبادکار، اسرائیلی فوج اور پولیس فلسطینیوں کی زندگی میں ہر لمحہ تباہی کے نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی آٹھ ماہ سے جاری جارحیت کے نتیجے میں فلسطین میں35ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید،80 ہزار معذور، 20 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں اور سب کچھ تباہ ہو چکا ہے، اسرائیل کا فلسطینیوں کو تباہ اور بے گھر کرنے کا منصوبہ تبدیل نہیں ہوا، دنیا بمشکل فلسطینی عوام کے خلاف کارروائیوں کی ظالمانہ نوعیت کو سمجھنے لگی ہے، اسرائیلی وزیراعظم اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنانے کے لیے مزید ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کرنے کے لیے تیار ہے، رفح میں بچ جانے والے فلسطینی حیران ہیں کہ کیا وہ آج زندہ رہیں گے اور آگے کہاں جائیں گے؟

پاکستان کی تاریخ پر ہمیں فخر کرنا چاہیے، قائداعظم محمد علی جناح نے امریکن صدر ٹرومین کو خط لکھا اور کہا تھا کہ اسرائیل کی پیدائش کے خلاف تاریخ بولے گی اور تاریخ روئے گی کہ یہ فلسطینیوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔

پاکستان نہ صرف فلسطین کے لیے کھڑا ہوا بلکہ جب مغربی ممالک الجیریا، تیونیسیا اور مراکو میں نوآبادیاتی نظام کی جنگ لڑ رہے تھے اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ سرظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ میں تاریخی تقاریر کیں اور جو نوآبادیاتی ممالک تھے ان کے حق میں بولے۔ کچھ ممالک کو تو پاکستانی حکومت نے 50 اور 80 کی دہائی میں پاسپورٹ بھی دیے کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرسکیں، تو یہ پاکستان کی ایک تاریخ ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) نے حال ہی میں فلسطین کو عالمی ادارہ میں شمولیت کا اہل تسلیم کرتے ہوئے مکمل رکن بننے کی اس کی کوششوں کی حمایت میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس معاملے پر مثبت طور پر پھر سے غور کرنے کی سفارش کی ہے، کیونکہ رکنیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہی کر سکتی ہے جس میں ’ویٹو پاور‘ یافتہ 5 مستقل ارکان کا فیصلہ ہی حتمی ہوتا ہے۔

گزشتہ ماہ امریکا نے فلسطین کی مکمل رکنیت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ویٹو کر دیا تھا۔ حالانکہ موجودہ قرارداد فلسطینیوں کو مکمل رکنیت نہیں دیتی، لیکن ان کو عالمی ادارہ میں شمولیت کے لیے اہل تسلیم کرتی ہے اور یہ کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مزید شراکت اور کچھ حقوق دیتی ہے۔ فلسطین کو 2012 میں ہی اقوام متحدہ کی غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ مل گیا تھا۔

بہرحال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو نئے ’حقوق اور مراعات‘ دینے کے لیے بڑے مارجن سے ووٹ دیا اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کا 194واں رکن بننے کے لیے فلسطین کی درخواست پر نظر ثانی کرے۔ عالمی ادارہ نے فلسطین کی حمایت میں پیش کی گئی قرارداد کو 9 کے مقابلے میں 143 ووٹوں سے منظور کیا،25 ارکان غیر حاضر رہے۔

امریکا اور اسرائیل سمیت 9 ملکوں نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ یہ ووٹنگ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے لیے وسیع عالمی حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس موقع پر بہت سے ممالک نے غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے جنوبی شہر رفح میں ایک بڑے اسرائیلی حملے کے خدشہ کا بھی اظہار کیا جہاں تقریباً 1.3 ملین فلسطینی پناہ کی تلاش میں ہیں۔ جنرل اسمبلی کے اس فیصلے نے فلسطینیوں کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔

اس سے قبل 27 اکتوبر کو جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد 14 کے مقابلے میں 120 ووٹوں سے منظور کی گئی تھی، جس میں غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس دوران 45 ارکان غیرحاضر رہے تھے۔ یہ قرارداد جنوبی اسرائیل میں حماس کے 7 اکتوبر کے حملے، جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے، کے جواب میں اسرائیل کے ذریعہ اپنی فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے صرف چند ہفتہ بعد منظور کی گئی تھی۔

حالیہ قرارداد جہاں فلسطین کو کچھ نئے حقوق اور مراعات دیتی ہے، وہیں یہ اس بات کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت اور جنرل اسمبلی یا اس کی کسی بھی کانفرنس میں ووٹ دینے کے حق کے بغیر ایک غیر رکن مبصر ریاست بنی ہوئی ہے، لیکن اس پورے معاملے میں امریکا کا کردار بدستور ایک معمہ بنا ہوا ہے۔

اس نے اس دوران یہ واضح کر دیا کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی رکنیت اور مکمل ریاست کے درجہ کو اس وقت تک روکے گا جب تک کہ سیکیورٹی، سرحدوں اور یروشلم کے مستقبل سمیت اہم مسائل اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعہ حل نہیں ہو جاتے اور 2 ریاستی حل کی جانب پیش رفت نہیں ہو جاتی۔ امریکا نے 18 اپریل کو وسیع پیمانے پر حمایت یافتہ کونسل کی اس قرارداد کو بھی ویٹو کر دیا تھا جس سے فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی راہ ہموار ہو جاتی۔

دراصل اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت عالمی ادارہ کے ممکنہ اراکین کو ’امن پسند‘ ہونا چاہیے اور حتمی منظوری کے لیے جنرل اسمبلی میں ان کے داخلے کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے سفارش لازم ہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی مکمل رکنیت کے لیے نئے سرے سے دباؤ ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ کی جنگ نے پون صدی سے زائد پرانے اسرائیل، فلسطینی تنازع کو اہم مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔

دوسری جانب کتے، بلیوں، ہاتھیوں اور دیگر جانوروں کے لیے بے چین ہو جانے والی عالمی تنظیموں کو فلسطینی بچوں کی تنہائی کا خیال نہیں ستاتا۔ انھیں کوئی احساس نہیں ہے کہ ساری زندگی یہ بچے کس تنہائی اور ذہنی اذیت کا عذاب بھگتیں گے۔ سنتے ہیں کہ غزہ کی پٹی پر جنگ کے ہنگام بھی بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے۔ عالمی تنظیموں کو کوئی فکر نہیں ہے کہ ملبے کا ڈھیر بنے غزہ میں ان بچوں کا کیا مستقبل ہوگا؟

اب ذرا مسلمان ممالک پر نگاہ ڈالیے۔ ہم نہایت فخر سے انھیں ’’امت مسلمہ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ اس میں ستاون ممالک شامل ہیں۔ اس کی آبادی پونے دو ارب کے قریب ہے۔ مسلم تنظیموں نے آج تک کسی مسلمان ملک کے مفاد کا تحفظ نہیں کیا ہے۔ برسوں سے اسرائیل نے فلسطینیوں کی زندگیاں جہنم بنا رکھی ہیں۔ کیا او۔ آئی۔ سی نے کبھی کوئی توانا آواز اٹھائی؟ کوئی عملی اقدام اٹھایا؟ اسلامی ممالک بیان بازی ضرور کر رہے ہیں۔ دراصل امت مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی درکار ہے۔

اس کے بغیر اس کے پیکر خاکی میں جان نہیں پڑ سکتی۔ عمومی طور پر جنگ کی صورتحال میں ہم اقوام متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں، لیکن اقوام متحدہ امریکا کے گھر کی باندی ہے۔ اس سے ہم کیا امید لگائیں؟ امریکا جو انسانی حقوق کا ٹھیکے دار بنا بیٹھا ہے، وہ خود ظالم کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ امریکا نے اسرائیل کو غیر مشروط حمایت کا یقین دلا رکھا ہے۔

امریکا اسرائیل کی مالی اور عسکری امداد کر رہا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں، یہ جنگ کب تک جاری رہے گی اور کیا رخ اختیار کرے گی، کچھ علم نہیں۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ فلسطینیوں نے سرنڈر نہیں کیا اور وہ دن دور نہیں جب وہ اپنی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔