ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟

جاوید چوہدری  جمعرات 16 مئ 2024
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

عثمانی بادشاہ سلطان سلیمان کے دور میں ایک بار بلغاریہ میں فوجی دستوں نے ہڑتال کر دی‘ سپاہیوں کا کہنا تھا ہمیں مناسب خوراک نہیں دی جاتی‘ مینو بھی ٹھیک نہیں اور کوالٹی بھی چناں چہ فوج نے کھانے کے برتن اوندھے کر دیے‘ اس زمانے میں برتن اوندھے کرنے کا مطلب ہلکا پھلکا احتجاج ہوتا تھا‘ فوج کے کمانڈرز نے مل ملا کر معاملہ حل کر دیا لیکن خفیہ اداروں نے سلطان تک اطلاع پہنچا دی‘ بادشاہ ہڑتال کا سن کر متفکر ہو گیا اور اس نے اسی وقت بلغاریہ کی رجمنٹس کو ویانا بھجوا دیا اور آسٹریا میں ایک طویل جنگ چھیڑ دی۔

اس کے بعد بلغارین رجمٹنس نے کبھی ہڑتال نہیں کی‘ سلطان نے مدت بعد اپنے ولی عہد کو بتایا‘ فوج کا کام جنگ ہوتا ہے اور جب سپاہی طویل عرصے تک جنگ سے دور رہیں تو یہ باغی ہو جاتے ہیں اور یہ ریاست کے ساتھ لڑ کر اپنی اینگزائٹی ختم کرتے ہیں‘ بلغارین فوج کے سپاہیوں کی خوراک ٹھیک تھی‘ یہ مدت سے یہی کھانا کھا رہے تھے لیکن جب ان کے پاس کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا تو انھوں نے برتن الٹے اور سیدھے کرنے کو ایکٹویٹی بنا لیا‘ میں اگر انھیں محاذ جنگ پر نہ بھجواتا اور ایک طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ نہ چھیڑتا تو یہ احتجاج صرف بلغاریہ تک محدود نہ رہتا‘ ہمارے پاس مختلف ملکوں میں 27 لاکھ فوج ہے‘ یہ بغاوت بلغاریہ سے ہنگری اور وہاں سے کریمیا جاتی اور یوں آہستہ آہستہ پوری فوج میں پھیل جاتی اور آخر میں فوج ہمارا تختہ الٹ دیتی چناں چہ میں نے فوری طور پر فوج کو مصروف کر دیا‘ میں نے اسے کام پر لگا دیا۔

سلطان سلیمان کا یہ فارمولا صرف فوج تک محدود نہیں‘دنیا کی زیادہ تر اقوام اپنے لوگوں کو مصروف رکھتی ہیں‘ آپ خود سوچیں اگر لوگ فارغ ہوں‘اگر ان کے پاس کوئی کام نہ ہو تو یہ کیا کریں گے؟ ان کا ایگریشن‘ ان کی اینگزائٹی کہاں نکلے گی؟ میں نے چند دن قبل ایک میٹنگ میں شرکاء سے پوچھا‘ آپ لوگ اپنی طالب علمی کا زمانہ یاد کریں‘ کیا آپ اسکول سے واپسی کے بعد آرام کرتے تھے؟ وہاں موجود تمام لوگوں کا جواب تھا ’’ہاں ہم اسکول سے واپس آ کر لنچ کرتے تھے اور پھر گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ سوتے تھے‘‘ ان میں سے ایک صاحب نے یہ تک بتایا ’’ہمارا پورا گھرانہ قیلولہ کرتا تھا‘ اباجی دکان سے واپس آ جاتے تھے۔

امی گھر کا کام مکمل کر لیتی تھی ‘ ہم اسکول سے آ جاتے تھے اور اس کے بعد ہم گھر کے تمام دروازے بند کر کے سو جاتے تھے اور سورج ڈھلنے کے بعد اٹھ کر دوبارہ کام شروع کر دیتے تھے‘‘ میں نے پوچھا ’’قیلولہ کی وجہ کیا تھی اور ہم آج کیوں نہیں کرتے؟‘‘ ان میں سے کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘ میں نے عرض کیا ’’ہمارے زمانے میں اسکولوں میں گراؤنڈز ہوتے تھے‘ ہم پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کر بری طرح تھک جاتے تھے چناں چہ ہمیں گھر آتے ہی غنودگی گھیر لیتی تھی‘ ہمارے بزرگ بھی جلدی جاگتے تھے اور یہ ایک ڈیڑھ بجے تک تھک کر چور ہو جاتے تھے لہٰذا ہم آرام پر مجبور ہو جاتے تھے جب کہ آج کے بچے صرف کلاس رومز میں بیٹھتے ہیں۔

ان کے پاس گراؤنڈز‘ گیمز اور پی ٹی کی سہولتیں نہیں ہیں چناں چہ اسکول سے واپسی پر انھیں قیلولہ یا آرام کی ضرورت نہیں پڑتی‘ ہمارے بزرگ بھی اب دیر سے دفتر اور دکان پر جاتے ہیں‘ اس وجہ سے انھیں بھی آرام کی ضرورت نہیں ہوتی‘ ہمارا سارا سسٹم تبدیل ہو گیا ہے‘‘ میں نے ان سے دوسرا سوال پوچھا ’’احتجاج یورپ اور امریکا سمیت پوری فرسٹ ورلڈ میں بھی ہوتے ہیں لیکن وہاں پولیس مین کو زخمی یا قتل نہیں کیا جاتا‘ سرکاری املاک کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جاتا جب کہ ہمارے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر احتجاج ہوتا ہے‘ پورا ملک دس سال سے آزاد کشمیر جیسی صورت حال سے گزر رہا ہے۔

ہمارے لوگ ہفتہ ہفتہ دھرنا دیتے ہیں اور راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ توڑ پھوڑ کر برابر کر دیتے ہیں‘ یہ کور کمانڈر کا گھر جلا دیتے ہیں اور پولیس اہلکاروں کو قتل کر کے ان کی لاشیں دریا میں پھینک دیتے ہیں‘ کیوں؟‘‘ شرکاء نے مختلف جواب دیے‘ میں نے آخر میں عرض کیا‘ یہ وجوہات بھی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ آبادی اور بے کاری ہے‘ ہماری آبادی کا 65 فیصد حصہ جوانوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے‘ یہ لوگ مکمل طور پر فارغ ہیں‘ اسکول‘ کالجز اور یونیورسٹیوں نے انھیں گھر داماد بنا رکھا ہے‘ تعلیم آسان اور بے کار ہے۔

ہر سال نوجوان کروڑوں کی تعداد میں ڈگریاں لے کر مارکیٹ میں آ جاتے ہیں لیکن ان کی صلاحیت کا یہ عالم ہوتا ہے ڈاکٹر اپنا علاج خود نہیں کر سکتا‘ الیکٹریکل انجینئر اپنے گھر کا سوئچ نہیں بدل سکتا‘ ماس کمیونی کیشن میں ایم اے بلکہ پی ایچ ڈی کرنے والے کو خبر بنانی نہیں آتی‘ ایم بی اے پاس نوجوان بزنس کے بجائے نوکری تلاش کرتے پھرتے ہیں اور یہ تمام لوگ مل کر اپنا ’’سی وی‘‘ بھی نہیں بنا سکتے‘ یہ لوگ عملاً بے کار ہیں اور انسان کے پاس جب کام نہیں ہوتا تو یہ شیطان بن جاتا ہے اور سڑک روک کر یا احتجاج کر کے اپنی اینگزائٹی‘ اپنی فرسٹریشن نکالتا ہے۔

یہ نوجوانوں کا ایشو ہے جب کہ ان کے علاوہ باقی ساری آبادی کے پاس انٹرٹینمنٹ کا کوئی بندوبست نہیں‘ ملک میں گراؤنڈز نہیں ہیں‘ سینما گھر‘ پارکس اور کلبز نہیں ہیں‘ سوسائٹیز نہیں ہیں‘ لائبریریاں بھی نہیں ہیں اور اگر ہیں تو ہم نے کتاب پڑھنے کا کلچر ڈویلپ نہیں کیا‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہنر نہیں سکھائے جاتے‘ ہم نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دیتے ہیں اور بس چناں چہ لوگ پھر اپنا ایگریشن‘ اپنی فرسٹریشن کہاں نکالیں گے؟ ان بے چاروں کے پاس رہ سہہ کر صرف سڑکیں اور سوشل میڈیا بچتا ہے اور یہ لوگ ان دونوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں‘ یہ سوشل میڈیا پر اپنی بھڑاس نکالتے ہیں یا پھر احتجاج میں پولیس کوپھینٹا لگا کر خوش ہو جاتے ہیں۔

آج سے دس بیس سال پہلے تک دیہات کی صورت حال مختلف ہوتی تھی‘ نوجوانوں کو والدین کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنا پڑتا تھا لیکن اب کھیتی باڑی بھی آسان ہو چکی ہے لہٰذااب یوتھ دیہات میں بھی ویلی(فارغ) ہے‘ یہ بھی موٹر سائیکل لے کر شہر نکل جاتے ہیں‘ رات دیر گئے واپس آتے ہیں اور سگریٹ پھونکتے رہتے ہیں لہٰذا سوال پھر وہی ہے لوگوں کے پاس اگر کام نہیں ہو گا‘ انھوں نے اگر سارا دن کسی جگہ جانا نہیں ہو گا۔

اسکولوں اور کالجز میں گراؤنڈز نہیں ہوں گے اور یونیورسٹیوں میں سوسائٹیاں اور کلب نہیں ہوں گے‘ نوجوان تعلیم کے دوران اپنی سکل‘ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں کرسکیں گے‘ لوگوں کے پاس تفریح کا بندوبست نہیں ہوگا اور عوام کا 65 فیصد حصہ بے روزگار ہو گا تو پھر یہ لوگ کیا کریں گے؟ کیا یہ وہی نہیں کریں گے جو آزاد کشمیر کے لوگوں نے 11مئی سے 14مئی تک کیا تھا‘ یہ انتظامیہ‘ پولیس اور آخر میں رینجرز سے بھڑ گئے تھے اور اس میں لوگوں کی جانیں تک گئیں۔

ہمارا معاملہ سیریس ہے‘ ہم 25 کروڑ لوگ ہیں اور ان 25 کروڑ لوگوں میں سے 90 فیصد بے ہنر ہیں‘ انھیں کوئی کام نہیں آتا بلکہ اگر میں یہ کہوں یہ جس کام کے ماہر سمجھے جاتے ہیں انھیں وہ کام بھی نہیں آتا تویہ غلط نہیں ہو گا‘ پلمبر ٹونٹیاں خراب کر جاتا ہے‘ الیکٹریشن پورے گھر کی وائرنگ اڑا دیتا ہے اور ڈرائیور گاڑی کا بیڑا غرق کر دیتا ہے‘ ایم اے پاس کو درخواست لکھنی نہیں آتی اور سیٹھ صاحب بینکنگ سسٹم سے واقف نہیں ہوتے‘ یہ سیدھے بینک جا کر ان سے دس کروڑ روپے مانگ لیتے ہیں۔

پولیس کے پاس بھی تفتیش کا صرف ایک ہی طریقہ ہے جوتے اور ڈنڈے اور بے گناہ سے اعتراف جرم کرا کر اسے پھانسی لگوا دینا اور بس‘ ہم اگر اس ملک کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے اسٹرکچر میں چند تبدیلیاں کرنا ہوں گی‘ پہلی تبدیلی‘ گراؤنڈز اور تفریح کے مواقع ہیں‘ مجھے ارجنٹائن جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ ملک انفلیشن میں پہلے نمبر پر ہے لیکن اس کے باوجود وہاں آزاد کشمیر جیسا کوئی واقعہ نہیں ہوتا‘ کیوں؟ کیوں کہ وہاں ہر ہفتے کوئی نہ کوئی فیسٹیول ہوتا ہے اور پورا ملک اس میں بھر پور حصہ لیتا ہے‘ ہم زیادہ نہ کریں تو کرکٹ ہی کو پورے ملک میں پھیلا دیں۔

ضلعی ٹیموں کو آپس میں کھیلائیں اور اسکولوں اور کالجز کے طلباء کے لیے میچ دیکھنا لازمی قرار دے دیں‘ اس سے نوجوانوں کا ایگریشن نکل جائے گا‘ نیشنل لیول پر بھی ہر ماہ کوئی نہ کوئی فیسٹیول ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کے پاس کوئی نہ کوئی ایکٹویٹی ہو‘ سیاحت کو بھی پروموٹ کریں‘ لوگوں میں چھٹیاں گزارنے کا جذبہ پیدا ہو گا تو ان کی زندگی کے ساتھ محبت بڑھے گی‘ تعلیم کو فوری طور پر سکل میں تبدیل کر دیں‘ لوگوں کو ہنرمند بنائیں تاکہ یہ تعلیم کے بعد اپنی ڈگریاں اٹھا اٹھا کر نہ پھریں‘ یہ اپنا کام کریں‘ یورپ نے مارگیج کے ذریعے بھی لوگوں کو باندھ رکھا ہے۔

وہاں دکان سے لے کر گاڑی تک ہر چیز قسطوں پر ہوتی ہے‘ لوگوں کو قسطیں ادا کرنے کے لیے دن رات کام کرنا پڑتا ہے چناں چہ ان کے پاس پولیس کو پتھر مارنے یا سرکاری گاڑی جلانے کے لیے وقت نہیں بچتا‘ آپ بھی بینکنگ سیکٹر کو مضبوط کر کے معاشرے کو مارگیج پر لے کر جائیں تاکہ لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہو اور ان کی کوالٹی آف لائف بھی امپروو ہو‘ نوجوانوں میں دیہاتوں میں سرکاری زمینیں تقسیم کریں تاکہ یہ کھیتی باڑی کریں۔

اس سے ان کی توانائی بھی استعمال ہو جائے گی اور یہ برسر روزگار بھی ہوجائیں گے اور آخری درخواست ریاست کچھ بھی کرے خواہ اسے الٹا لٹکنا پڑے لیکن یہ لوگوں کو بے کار نہ رہنے دے‘ یہ انھیں کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھے‘ یہ خواہ انھیں ہمالیہ توڑنے پر لگا دے مگر یہ انھیں ’’کان کھرکنے‘‘ کا موقع نہ دے‘ لوگ روزانہ تھک کر گھر جائیں‘ اس سے یہ ملک بچے گا ورنہ 25 کروڑ لوگ چھوٹی سی انتظامیہ کے تکے بنا کر کھا جائیں گے‘ یہ اپنے ملک کو خود توڑ دیں گے۔

نوٹ: 23مئی کو ہمارا گروپ سری لنکا جا رہا ہے‘ آپ اس گروپ کا حصہ بننے کے لیے ان نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

+92 301 3334562, +92 309-1111311,+92 331 3334562

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔