لہسن کی خوصیات اور فوائد

 ڈاکٹر حکیم وقار حسین  جمعرات 16 مئ 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

دل اور دماغ کو قوت بخشنے والا اور گاڑھے خون کو رقیق کرنے کے لیے بطوردوا استعمال کیے جانے والا قدرتی نسخہ ’لہسن‘ پیاز کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔

اگر چہ افادیت کے لحاظ سے اس کا کوئی ثانی نہیں، مگر بعض حضرات کو افادیت کے علاوہ دوسرے اعضاء کو ضرر پہنچے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ لہسن میں بہت سی غذائیت اور حیاتین پائی جاتی ہیں، جو جزو اس کی چرپراہٹ اور ذائقے کا ذمہ دار ہے وہ ’ایلی سین‘ ہے ، مگر اس میں دیگر اجزاء بھی شامل ہیں۔ موٹاپے اور وزن کم کرنے کے لیے لہسن بہت مفید ہے، مگر جدید ادویہ کی طرح خامرات خاصہ (خاص انزائم ) پر اثر انداز نہیں ہوتا ، بلکہ بھوک کم کرتا ہے اور استحالہ (میٹابولزم) بڑھاتا ہے۔

یہ لہسن کا خاصہ ہے، اکثر جو ادویہ بھوک کم کرتی ہیں وہ میٹابولزم کم کرتی ہیں، اسی لیے ایسی ادویہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ ایک دوا استحالہ کم کرے اور دوسری میٹابولزم بڑھائے، مگر لہسن ایسی غذاء اور دوا ہے کہ استحالہ بھی بڑھاتا ہے اور بھوک بھی کم کرتا ہے۔ اگرچہ تیزابیت، السر، گردے اور جگر کے مریضوں کو اس سے پرہیز کا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ گرم اور خشک ہے، گردے کو گرم کر سکتا ہے، جگر کے خامرات کی مقدار بڑھا دیتا ہے، تیزابیت بڑھاتا ہے اور السر کے مریضوں کو تیزابیت ضرر پہنچاتی ہے۔

یاد رہے کہ لہسن کے جزو ’ ایلی سین‘ کو اجاگر کرنے کے لیے اس کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں، ورنہ یہ جزو جسم میں استعمال نہیں ہو پاتا۔ لہسن میں اور بھی اجزاء مثلاً ایلین، سلفر، فائبر، حیاتین، اے ڈی ای، کیلشیم، سیلی نیم، کاپر، جست پائے جاتے ہیں اور غذائیت مہیا کرنے والے لحمیات کی اکائیاں ارجینائین، لائیسین وغیرہ بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ اکائیاں ’امائی نو ایسڈ‘ جسم کو باہر سے ہی چاہیے ہوتی ہیں اور جسم کی نشوونما کے لیے مخصوص بھی ہیں۔ بچوں کا قد بڑھانے، بالوں کی نشوونما، قوتِ مدافعت، جلد کی نشوونما، خون کو صاف کرنا، دماغ کو قوت بخشنا انہی ’امائی نو ایسڈ‘ کے مرہون منت ہیں۔

لہسن کے فوائد

1۔ سرد موسم میں نزلہ، زکام، نمونیا، سینے اور ہڈیوں کے درد سے بچاتا ہے کیونکہ مزاجاً گرم اور خشک ہے، سرد موسم میں سوائے تیزابیت کے مریضوں کے کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔ 2۔ وزن کم کرنے کے لیے لہسن کا عرق زیادہ بہتر ہے اور اس کا استعمال نہار منہ زیادہ مناسب ہے، مگر تیزابیت بڑھ نہ جائے اس خوف کے پیشِ نظر لہسن ملی دیسی مرغ کی یخنی پینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

3۔دل کے مریضوں کو لہسن کھانے کی ہدایت کی جاتی ہے، کیونکہ اس میں تھوڑی مقدار میں ’ کو انزائم کیو ٹین‘ ہے جو عضلات کے ریشوں کو پیدا کرتا ہے، مگر بہتر ہے اگر جدید ادویہ کوئی دل کا مریض استعمال کررہا ہو تو وہ لہسن نہ کھائے کیونکہ دل کے مریضوں کا جگر اور گردہ بہت لاغر ہوتا ہے، ایک دم فیل ہونے لگتے ہیں۔

4۔ چربی جو شریانوں کو تنگ کرنے کی ذمہ دار ہے ، اسے پگھلادیتا ہے، اسی وجہ سے جن اشخاص کے دل کی شریان اکلیلی (کارونری آرٹری) میں تنگی ہوتی ہے، ان کے لیے لہسن بہت افادیت کا حامل ہے۔

5۔ جلد ، بالوں کی نشوونما میں لہسن اپنے اندر سمائے ہوئے ’ امائی نو ایسڈ‘ کے ذریعے فائدہ پہنچاتا ہے، اس مقصد کے لیے بھی لہسن مرغی کی یخنی میں ملا کر استعمال کرنا بہتر ہے۔

6۔ لہسن میں پایا جانے والا وٹامن سی بہت جلد جذب ہوتا ہے یوں جِلد میں رعنائی اور آنکھوں کے چند امراض میں مفید ہے۔

7۔ اس میں موجود کیلشیم کے ساتھ وٹامن ڈی اس قدر ہوتا ہے کہ کیلشیم جلد جذب ہو جاتا ہے یوں ہڈیوں کی لچک بحال رکھتا ہے، بوڑھوں کی ہڈیاں کیلشیم کے استعمال سے دکھنے لگتی ہیں، مگر لہسن میں موجود کیلشیم سے انہیں بھی بہتری محسوس ہوتی ہے۔

8۔ شوگر میں مبتلا حضرات کو لہسن اس لیے مفید ہے کہ یہ ’ انسولین‘ رزسٹینس‘ کو ٹھیک کرتا ہے۔

اکثر مریضانِ ذیابیطس کو شکایت رہتی ہے کہ ادویہ اور انسولین ٹکیوں کے استعمال کے باوجود ان کی شوگر زیادہ رہتی ہے، ایسے اشخاص کو بھی لہسن مرغی کی یخنی میں ملا کر استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ لہسن کے اجزاء ذرا پھول جاتے ہیں، اور معدہ جلد انہیں ہضم کرسکتا ہے، مزید یہ کہ پانی کے ساتھ اجزاء آنتوں میں جلد اتر جاتے ہیں۔

9۔ لہسن ایک حد تک اینٹی فنگل، اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹریل ہے۔ سینے، دماغ اور جِلد کے جراثیم کو بخوبی ختم کردیتا ہے، مگر معدے میں کچھ حد تک ہی ضدِ حیوی فعل انجام دیتا ہے، بلکہ درد کرنے کا خطرہ رہتا ہے۔

10۔ جن اشخاص کے ناک میں ورم (سائینو سائی ٹِس) ہوتا ہے، ان کے لیے ’پروسسڈ روغنِ لہسن‘ کے چند قطرے ناک کے نتھنوںپر ٹپکانے سے بند ناک (نیزل کانجیشن) فوراً کھل جاتی ہے۔

لہسن کی اتنی ہی مقدار استعمال کی جائے کہ پسینے سے اس کی بو نہ آئے۔ ایک دن کے اندر دو جوئے لہسن استعمال کرسکتے ہیں اگر یخنی میں ملا کر استعمال کیا جائے تو چھ جوئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔