فالج کی تشخیص کے لیے نیا ٹیسٹ وضع

ویب ڈیسک  اتوار 19 مئ 2024

بوسٹن: ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں کی ٹیم نے فالج کی تشخیص کے لیے خون پر مبنی اشاریوں اور مریضوں کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کلینیکل اسکور کو ملا کر ایک نیا ٹیسٹ وضع کیا ہے۔ ٹیسٹ کا مقصد مریضوں میں لارج ویسل اوکیولوژن (ایل وی او) اسٹروک کی تشخیص کرنا تھا۔

بریگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل سے تعلق رکھنے والے سینئر مصنف جوشوا برنسٹاک کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں نے ایک گیم چینجنگ ٹیسٹ وضع کیا ہے جو اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ فالج میں مبتلا زیادہ سے زیادہ افراد صحیح وقت پر صحیح جگہ موجود ہیں اور صحت کی بحالی کے لیے اہم علاج ان کو مل رہا ہے۔

زیادہ تر اسٹروک کے کیسز اسکیمک ہوتے ہیں جس میں مریض کے دماغ میں خون کے بہاؤ میں خلل آتا ہے۔ ایل وی او اسٹروک اسکیمک اسٹروک کی وہ جارحانہ قسم ہے جو دماغ کی بڑی رگ میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ کی صورت میں پیش آتی ہے۔

جب دماغ میں خون کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے تو آکسیجن اور اجزاء کی کمی وجہ سے دماغ کے خلیے منٹوں میں مرنے لگتے ہیں۔

ایل وی او اسٹروک ایک بڑی طبی ایمرجنسی ہوتی ہے اور اس کے لیے فوری علاج کے ساتھ مکینکی تھرومبیکٹومی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا سرجیکل عمل ہوتا ہے جس سے رگوں میں ہونے والی رکاوٹوں کو ختم کیا جاتا ہے۔

جوشوا برنسٹاک کا کہنا تھا کہ مکینکی تھرومبیکٹومی مریضوں کو بالکل ایسا کر دیتی ہے جیسے کہ انہیں کبھی فالج کا دورہ پڑا ہی نہیں۔  جتنی جلدی یہ طریقہ علاج استعمال میں لایا جائے گا اتنے ہی بہتر نتائج مریض میں دیکھے جا سکیں گے۔

یہ تحقیق کے نتائج جرنل اسٹروک میں شائع ہوئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔