اسلام دین رحمت... جانوروں پر رحم کا حکم

زمانہ ٔ جاہلیت میں اہل عرب جانوروں کے ساتھ نہایت وحشیانہ سلوک کرتے تھے۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

زمانہ ٔ جاہلیت میں اہل عرب جانوروں کے ساتھ نہایت وحشیانہ سلوک کرتے تھے۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

اسلام دین فطرت ہے، اس نے امن و آشتی اور محبت کا پیغام دیا ہے۔ اللہ کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہیں، ہر ذی روح تک محیط ہے۔ اس کے فیوض و برکات نے جہاں عالم انسانیت کو سیراب کیا، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمتِ بے کراں سے مالامال کیا ہے۔

زمانہ ٔ جاہلیت میں اہل عرب جانوروں کے ساتھ نہایت وحشیانہ سلوک کرتے تھے۔ اسلام نے ان بے زبان جانوروں کو بھی  حقوق دیئے ۔ اسلام نے ان کے حقوق متعین کر کے رہتی دنیا تک انہیں تحفظ فرما دیا اور ان سے بدسلوکی کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب کی وعید سنائی ۔ جانوروں کی اہمیت اور ان کی خصوصیات بیان کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ نے دو سو آیات میں جانوروں کا ذکر فرمایا ہے، نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں تمام مخلوقات کے لیے جو محبت و رحمت کا پیغام ہے، وہ کسی اور کی تعلیمات میں نہیں ملتا ۔

افسوس کہ دشمنان اسلام نے اسلام کو سفاکیت و ظلم کی شبیہہ سے تشبیہہ دی اور ہمارے سادہ لوح مسلمان ان کے اس فریب کا شکار ہو گئے۔ ایسے وقت میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی ان مبارک تعلیمات سے امت کو آگاہ کیا جائے، جو سرتا پا رحمت ہی رحمت ہیں ، تاکہ امت کو یہ احساس ہو سکے کہ ان کا رشتہ اُس رحمۃ اللعالمین ﷺ سے ہے، جن کی رحمت کا تعلق فقط انسان تک ہی محدود نہیں، بلکہ ان کے دامن رحمت کی وسعتیں تمام مخلوقات کو اپنے اندر لیے ہوئے ہیں، حضرت ہشام ؒ کہتے ہیں میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حکم بن ایوب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر مار رہے تھے۔

حضرت انسؓ نے فرمایا نبی کریم ﷺ نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے روکا ہے (صحیح بخاری) حضرت سعید بن جُبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، وہ چند قریشی جوانوں کے قریب سے گزرے جو ایک مرغی کو لٹکا کر نشانہ بازی کر رہے تھے، جب انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو دیکھا تو فوراً منتشر ہوگئے۔ ا بن عمر رضی اللہ عنہ نے (نہایت غصے سے) پوچھا ایسا (غلط کام) کس نے کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے اس طرح (کسی ذی روح کو باندھ کر نشانہ بازی) کرنے والے کو اللہ کی رحمت سے دوری کی بد دعا دی ہے۔ (صحیح بخاری) ۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے قریب سے ایک ایسا گدھا گزرا، جس کے منہ کو آگ سے داغا گیا تھا، آپ ﷺ نے اس گدھے کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والے پر لعنت فرمائی(صحیح مسلم) ۔ حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عورت کو بلی باندھ کر رکھنے کی وجہ سے عذاب دیا گیا، کیونکہ اس عورت نے نہ تو اسے کچھ کھلایا، نہ پلایا اور نہ ہی اسے آزاد کیا کہ وہ کچھ کھا پی لیتی (صحیح مسلم) ۔

حضرت شداد بن اوسؓ سے مروی ہے کہ مجھے وہ دو باتیں ابھی تک خوب یاد ہیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھیں: اللہ تعالیٰ نے ہر معاملے میں احسان کو لازمی قرار دیا ہے، جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح سے ذبح کرو اور اپنی چھری کو تیز کر لیا کرو، تاکہ اس کی وجہ سے ذبح ہونے والا جانور راحت پا سکے (صحیح مسلم) ۔

حضرت سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایسے اونٹ کے قریب سے ہوا جس کی کمر اس کے پیٹ کے ساتھ لگی ہوئی تھی (یعنی بھوک کی وجہ سے بہت دبلا ہو چکا تھا) آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو! انہیں اچھے طریقے سے سواری بناؤ اور انہیں کھلاؤ تو اچھے طریقے سے کھلائو (سنن ابو دائود)۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص کہیں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے بے تاب کر دیا، چنانچہ وہ کنویں میں اترا اور پانی پی لیا۔ اس کے بعد جب وہ کنویں سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے ہانپ رہا تھا اور شدت پیاس سے کیچڑ چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے خود سے کہا کہ اس کتے کو بھی میری ہی طرح پیاس لگی ہے، چنانچہ وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر لایا اور کتے کے سامنے رکھا، کتے نے پانی پیا اس کی جان میں جان آ گئی۔ اس وجہ سے اللہ رب العزت نے اس بندے کی قدردانی فرمائی اور اس کی مغفرت کر دی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یارسول اللہﷺ! کیا ہمیں جانوروں سے اچھا سلوک کرنے پر بھی اجر ملے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ذی روح کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر اجر ہے (سنن ابو دئود) ۔ایک دفعہ صحابہ کرامؓ نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہﷺ! کیا جانوروں (کی تکلیف دور کرنے) میں بھی ہمارے لئے اجر و ثواب ہے؟۔ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، ہر زندہ اور تر جگر رکھنے والے جانور (کی تکلیف دور کرنے) میں ثواب ہے (صحیح بخاری: 5009 صحیح مسلم: 2244)۔

ایک دوسری حدیث میں ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک جسم فروش عورت نے سخت گرمی کے دن ایک کتے کو دیکھا جو ایک کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا اور پیاس کی شدت سے اپنی زبان نکالے ہوئے تھا، اس عورت نے اپنے چمڑے کے خف سے کنویں سے پانی نکالا اور اس کتے کو پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی (صحیح مسلم:154۔2245) ۔

ایک دن نبی کریم ﷺکسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، اچانک ایک اونٹ آیا اور آپﷺکے قدموں میں لوٹنے لگا، اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، نبی کریم ﷺنے اس کی کمر پر اور سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا جس سے وہ پرسکون ہو گیا، پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ تو وہ دوڑتا ہوا آیا، آپ ﷺنے اس سے فرمایا:’’اس کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے، اللہ سے ڈرتے نہیں؟ یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے محنت ومشقت کا کام زیادہ لیتے ہو(ابودائود، باب ما یومر بہ من القیام، حدیث:2549) ۔

حضرت ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ’’رسول اللہﷺنے فرمایا: ایک آدمی بیل پر بوجھ ڈالے ہوئے اُسے ہانک رہا تھا کہ اس بیل نے اس آدمی کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہوں ، بلکہ مجھے تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے حیرانگی اور گھبراہٹ میں سبحان اللہ کہا اور کہا: کیا بیل بھی بولتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں تو اس بات پر یقین کرتا ہوں اور حضرت ابوبکر ؓاور حضرت عمر ؓبھی یقین کرتے ہیں (مسلم، باب فضائل ا بی بکرؓ، حدیث: 2388) ۔

نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے، یا کھیتی کرتا ہے اور اس درخت یا کھیتی میں سے کوئی چڑیا ، یا آدمی، یا جانور کھاتا ہے تو اس لگانے والے یا بونے والے کو صدقہ کا ثواب ملتا ہے(صحیح بخاری : 2320، صحیح مسلم: 1553) ۔

جانوروں کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے۔ ایک صحابی ؓنے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ ’’میں نے بطور خاص اپنے اونٹوں کے لیے ایک حوض بنا رکھا ہے، اس پر بسا اوقات بھولے بھٹکے جانور بھی پانی پینے آجاتے ہیں، اگر میں انہیں بھی سیراب کر دوں، تو کیا اس پر بھی مجھے ثواب ملے گا؟‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’ہاں، ہر پیاسے یا ذی روح کے ساتھ حسنِ سلوک سے ثواب ملتا ہے‘‘ (ابن ماجہ)

دوران سفر جانور کی ضروریات کا اور اس کی تھکاوٹ کا بھی احساس کرنا چاہیے حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:’’جب تم ہریالی میں سفر کرو تو اونٹ کو اس کا حق دو (یعنی اسے اچھا چارہ دو) اور جب تم قحط سالی میں سفر کرو تو جلدی جلدی سفر طے کر لو (تاکہ بھوک سے لاغر نہ ہو جائے)‘‘ (ابودائود:2569)۔ کچھ جانور پالتو ہوتے ہیں ان کا خیال تو انسان رکھتا ہے اور اگر غیر پالتو جانوروں سے شفقت کی جائے تو اللہ تعالیٰ بندے کے عمل ضائع نہیں کرتے ہیں ۔ اگر جانور موذی ہیں تو ان کو مار ڈالنے کا حکم ہے اس لیے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے جہاں نقصان کا اندیشہ نہیں وہاں جانوروں سے اچھا سلوک کیا جائے تو یقینا اللہ تعالیٰ اس پر اجروثواب عطا فرمائیں گے۔

حضرت سیدناابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو دوران سفر بہت پیاس لگی اسے ایک کنواں نظر آیا وہ اس میں اترا پانی پیا اور پھر باہر نکل آیا۔ باہر دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے ہانپ رہا ہے اور گیلی مٹی چاٹ رہا ہے اس نے سوچا کہ پیاس کی شدت سے اس کا بھی وہی حال ہے جو میرا تھا وہ کنویں میں اترا پنے موزے میں پانی لیا منہ سے پکڑا اور باہر آکر کتے کو پانی پلایا۔’’ اللہ تعالیٰ نے اس کی قدر کی اور اسے معاف کر دیا۔‘‘ صحابہ کرام ؓنے سوال کیا کیا جانوروں سے حسن سلوک میں بھی ہمیں اجر ملے گا؟ تو رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’ہر زندہ چیز میں (حسن سلوک کی وجہ سے) اجر ہے‘‘ صحیح مسلم(2244)

جانور کو ہمیشہ تیز دھارآلے سے ذبح کیا جائے، تاکہ اسے تکلیف نہ ہو، ذبح کرنے سے قبل جانور کو دانہ پانی دیں۔ خیال رکھیں کہ وہ بھوکا نہ ہو۔ چھری کو پہلے سے تیز کر لیں۔ جانور کو قبلہ رخ لٹائیں ۔ تکبیر کہہ کر تیز دھار آلے سے ذبح کریں۔ کھال اتارنے میں جلدی نہ کریں۔ جانور کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کریں۔ ایک جانور کو دوسرے کے سامنے ذبح نہ کریں ۔ عید قرباں میں ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ قصائی وقت کی بچت کی خاطر ان باتوں کا خیال نہیں رکھتے ، لہٰذا اہل خانہ پر لازم ہے کہ وہ قصائیوں سے ان  پر عمل کروائیں ۔

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’جس شخص نے رحم کیا، اگرچہ ذبح کیے جانے والے جانور ہی پر ہو، تو اللہ قیامت کے دن اس پر رحم فرمائے گا ۔‘‘ (طبرانی) ۔ حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ ’’ایک شخص بکری کو لٹاکر اس کے سامنے چھری تیز کرنے لگا ، تو حضورﷺ نے فرمایا ’’ کیا تم اسے دو موت مارنا چاہتے ہو ۔ تم نے اپنی چھری اسے لٹانے سے قبل تیز کیوں نہیں کر لی۔‘‘ (مستدرک حاکم)

جن جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے، وہ بھی جب تک ایذا نہ دیں، انہیں بلاوجہ جان سے مار ڈالنا درست نہیں ۔ اسی طرح صرف تفریحِ طبع کی خاطر کسی حلال جانور کی جان لے لینا بھی درست عمل نہیں ۔اسی طرح جانوروں کی تکلیف دور کرنا بھی اجرو ثواب کا کام ہے جیسے کوئی کتا، بلی وغیرہ کسی گڑھے یا نالے میں گر جائے اور وہاں سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہ رہے تو ایسے میں اس کی ضرور مدد کرنی چاہیے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔